?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ ان پاکستانی شہریوں کی ’سلامتی اور فوری واپسی‘ کو یقینی بنایا جا سکے جنہیں اسرائیلی فورسز نے اس ہفتے کے آغاز میں غزہ کا محاصرہ توڑنے اور امداد پہنچانے کے لیے جانے والے بحری قافلے کو روکنے کے بعد غیرقانونی طور پر حراست میں لیا۔
حراست میں لیے گئے افراد میں سابق سینیٹر جماعتِ اسلامی مشتاق احمد خان بھی شامل ہیں۔
دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا ’ایک دوست یورپی ملک کے سفارتی ذرائع سے ہمیں تصدیق ہوئی ہے کہ سابق سینیٹر مشتاق احمد اسرائیلی قابض فورسز کی حراست میں ہیں اور وہ محفوظ و صحت مند ہیں‘۔
بیان میں مزید کہا گیا ’مقامی قانونی ضوابط کے مطابق سابق سینیٹر مشتاق کو عدالت میں پیش کیا جائے گا، اور جب ان کی ملک بدری کے احکامات جاری ہوں گے تو ان کی واپسی کو تیز رفتار بنیاد پر ممکن بنایا جائے گا‘۔
دفتر خارجہ نے بتایا کہ وہ پہلے بھی ان پاکستانی شہریوں کی واپسی میں معاون رہی ہے جو بحری قافلے سے قبل ہی واپس آ چکے ہیں، ’اس تناظر میں ہم ان برادر ممالک کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ہمارے شہریوں کی واپسی میں تعاون کیا‘۔
بیان میں کہا گیا کہ حکومت ’بیرونِ ملک اپنے تمام شہریوں کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے‘ اور توقع ہے کہ وطن واپسی کا یہ عمل آئندہ چند دنوں میں مکمل ہو جائے گا۔
گزشتہ بدھ کی رات اسرائیلی فوج نے غزہ کی جانب امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کو روک کر کئی فلسطین نواز کارکنوں کو گرفتار کیا تھا جن میں سابق سینیٹر مشتاق احمد اور سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھن برگ بھی شامل تھیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کے ایک سابقہ بیان کے مطابق حراست میں لیے گئے پاکستانیوں میں مظہر سعید شاہ، وجاہت احمد، ڈاکٹر اسامہ ریاض، اسماعیل خان، سید عزیز نظامی اور فہد اشتیاق بھی شامل ہیں۔
یہ بحری قافلہ گزشتہ ماہ روانہ ہوا تھا، اور پاکستانی وفد کی قیادت سابق سینیٹر مشتاق احمد کر رہے تھے۔
جب فلوٹیلا غزہ کے سمندری حدود کے قریب پہنچی تو یکم اکتوبر کی رات اسرائیلی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے قافلے کو روک لیا، اور اگلے روز تک اس کی 40 سے زائد کشتیوں کو تحویل میں لے لیا۔
اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے مسلح کارروائی کے دوران متعدد کشتیوں پر کارکنوں کو ہتھیاروں کے زور پر حراست میں لینے کی ویڈیوز بھی سامنے آئیں، فلوٹیلا کے منتظمین نے ہر کشتی پر سیکیورٹی کے پیش نظر کیمرے نصب کیے ہوئے تھے جو پورے سفر کو براہِ راست نشر کر رہے تھے۔
بحری قافلے کو روکنے کے بعد اسرائیل نے اعلان کیا کہ تمام کارکنوں کو یورپ جلاوطن کیا جائے گا، تاہم یہ واضح نہیں کیا کہ انہیں کن ممالک بھیجا جائے گا۔


مشہور خبریں۔
نیٹو کے کمانڈوز یوکرین میں موجود ہیں: نیویارک ٹائمز
?️ 28 جون 2022سچ خبریں:نیٹو کے رکن ممالک کے ماہر فوجی دستے یوکرین کی مدد
جون
حماس نے غزہ میں اپنی طاقت کی بحال کر لی ہے: صیہونی فوج
?️ 26 نومبر 2025سچ خبریں:صیہونی فوجی حکام نے غزہ میں حماس کی طاقت کی بحالی
نومبر
دشمن کو بھی جنگ میں حزب اللہ کی طاقت کا اعتراف
?️ 16 نومبر 2024سچ خبریں: امریکہ کی طرف سے لبنان میں جنگ بندی معاہدے کا
نومبر
کتنے فیصد صیہونی نیتن یاہو کو چاہتے ہیں؟
?️ 2 مئی 2024سچ خبریں: ایک سروے کے نتائج سے ظاہر ہوا ہے کہ نصف
مئی
صیہونیوں کے ہاتھوں فلسطینی صحافی کو زندہ جلانے کا کیا مطلب ہے؟
?️ 8 اپریل 2025سچ خبریں: کل بروز اتوار کو صیہونی حکومت نے اپنے مجرمانہ اقدامات
اپریل
اقوام متحدہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم پر بھارت کا محاسبہ کرے : حریت کانفرنس
?️ 15 اکتوبر 2024سرینگر: (سچ خبریں) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں کل
اکتوبر
عدالت کو عدم اعتماد کی تحریک میں کوئی دلچسپی نہیں ہے:چیف جسٹس پاکستان
?️ 19 مارچ 2022 اسلام آباد(سچ خبریں)سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے عدم
مارچ
بشریٰ انصاری، فیصل قریشی اور ثمینہ پیرزاہ کی ’دیمک‘ سے بڑے پردے پر واپسی
?️ 2 دسمبر 2024 کراچی: (سچ خبریں) سینیئر اداکارہ بشریٰ انصاری اور ثمینہ پیرزادہ سمیت
دسمبر