عالمی منڈی میں ڈالر بلند ترین سطح پر، ملک میں روپے کی قدر میں کمی

?️

اسلام آباد:( سچ خبریں) تین روز مسلسل بہتری کے بعد انٹربینک مارکیٹ میں صبح کی تجارت کے دوران ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 1.1 روپے کی کمی واقع ہوئی ہے۔فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق دوپہر پونے 12 بجے مقامی کرنسی 219.7 روپے فی ڈالر پر ٹریڈ ہو رہی تھی۔

مالیاتی ڈیٹا اور تجزیاتی پورٹل میٹس گلوبل کے ڈائریکٹر سعد بن نصیر نے کہا کہ روپے کی قدر میں کمی کی بنیادی وجہ بین الاقوامی مارکیٹ میں ڈالر کے انڈیکس میں اضافہ اور اس کی مضبوطی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ قابو میں ہے، آنے والے دنوں میں روپے کی قدر میں اضافہ ہو گا، یہ اضافہ 219 روپے سے 222 روپے فی ڈالر کی حد میں رہے گا، یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔

روئٹرز نے آج کے اوائل میں رپورٹ کیا کہ ڈالر لگاتار تیسرے ہفتہ وار اضافے کی طرف بڑھ رہا تھا اور یورو اور ین کے مقابلے دہائیوں میں اپنی بلند ترین سطح کے قریب کھڑا تھا۔

ڈالر انڈیکس نے راتوں رات دو دہائیوں کی بلند ترین سطح تک رسائی حاصل کی اور 109.51 سے 109.51 پر پہنچ گیا، امریکی فیڈرل ریزرو کے چیئر جیروم پاول نے کہا کہ افراط زر پر قابو پانے کے لیے شرح سود کچھ عرصے کے لیے بلند رکھنا ہو گی۔

دریں اثنا، ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچہ نے کہا کہ روپے کی قدر میں کمی درآمدی بل پر دباؤ اور افغانستان کو اسمگلنگ میں اضافے کی وجہ سے ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ سیلاب نے انفراسٹرکچر، مکانات، کارخانوں اور فصلوں کو تباہ اور مویشیوں کو ہلاک کر دیا ہے، اس کے نتیجے میں حکومت نے سیلاب متاثرین کے لیے موصول ہونے والی اشیا پر ڈیوٹی ختم کر دی ہے، اس کے علاوہ ملک نے غذائی قلت کو کم کرنے کے لیے فوری طور پر سبزیوں کی درآمد شروع کردی ہے۔

ظفر پراچہ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے غیر ضروری اور لگژری اشیا کی درآمد پر پابندی کے خاتمے سمیت یہ تمام عوامل درآمدی بل کو متاثر کریں گے۔

ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوششوں کے باوجود اسمگلنگ میں اضافہ ہوا ہے، ہمیں ایران اور افغانستان کی سرحدوں اور ہوائی اڈوں پر کرنسی کی اسمگلنگ کو روکنا ہوگا، انہوں نے مشورہ دیا کہ ایجنسیوں کو چاہیے کہ وہ کرنسی اسمگل کرنے والے کو پکڑنے والوں کے لیے 50 فیصد انعام کا اعلان کریں، چیزیں قابو میں آ جائیں گی۔

ظفر پراچہ نے کہا کہ جن اشیا پر حکومت نے بھاری ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی تھی ان کی اسمگلنگ میں بھی اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے ڈالر کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے افغانستان کے ساتھ ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے پر نظرثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے زرمبادلہ اور محصولات کو ‘کھا’ رہا ہے۔

جمعرات کو پاکستان کسٹمز کی جانب سے شیئر کیے گئے عارضی اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگست میں درآمدی بل 13.5 فیصد کم ہو کر 5.7 ارب ڈالر رہ گیا جو گزشتہ سال کے اسی مہینے میں 6.59 ارب ڈالر تھا۔

جولائی میں درآمدات 12.81 فیصد کم ہو کر 4.86 ارب ڈالر رہ گئیں جو گزشتہ سال کے اسی مہینے میں 5.57 ارب ڈالر تھیں۔

ماہانہ بنیادوں پر درآمدی بل میں 17.28 فیصد اضافہ ہوا۔

28 جولائی کو روپیہ 239.94 کی ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچ گیا تھا، اس کے بعد مسلسل 11 سیشنز تک روپے کی قدر میں اضافہ ہوا اور 16 اگست کو انٹربینک میں 213.90 روپے پر بند ہوا۔

تاہم، مقامی کرنسی میں 17 اگست سے دوبارہ گراوٹ کا رجحان دیکھا گیا اور 29 اگست تک 8.02 روپے کمی واقع ہوئی، گزشتہ تین سیشنز کے دوران روپے کی قدر میں پھر اضافہ ہوا اور روپے کی قدر میں گراوٹ سے قبل تین دن لگاتار ڈالر کی قدر میں کمی واقع ہوئی۔

مشہور خبریں۔

کسان کے بغیر ہل چلانے والا خودکار ٹریکٹر متعارف کرا دیا گیا

?️ 9 جنوری 2022الینوئے(سچ خبریں) کسان کے بغیر ہل چلانے والا خودکار ٹریکٹر متعارف کرا

اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے لیے جہاد اسلامی فلسطین کی اہم پیش کش

?️ 12 جولائی 2021سچ خبریں:فلسطینی جہاد اسلامی تحریک کے ترجمان نے صیہونی حکومت کا مقابلہ

ملک بھر میں ’یوم اقبال‘ عقیدت و احترام سے منایا جارہا ہے

?️ 9 نومبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) شاعرِ مشرق حکیم الامت علامہ محمد اقبال کا یوم

نیب ترامیم سماعت: عمران خان کے وکیل کو کل تک دلائل مکمل کرنے کی ہدایت

?️ 7 دسمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے نیب قانون میں ترامیم کے

غزہ پر قبضہ تل ابیب کو مزید الگ تھلگ کر رہا ہے؛ صیہونیوں کے درمیان سیاسی تقسیم

?️ 27 اگست 2025سچ خبریں: صیہونی ریجنے غزہ پٹی پر مکمل قبضے کا آپریشن شروع کیا

آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے فیصلے پر نظرثانی اپیل، جسٹس منیب اختر کا بینچ کا حصہ بننے سے معذرت

?️ 30 ستمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منیب اختر

تہران اور ریاض کا مفاہمت کی جانب ایک اور اہم قدم

?️ 7 اپریل 2023سچ خبریں:ایران اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی

الاقصیٰ طوفان کا پہلا دن

?️ 4 دسمبر 2023سچ خبریں:اسرائیلی اخبار Yediot Aharonot نے ایک مضمون میں لکھا، ہم اپنے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے