?️
اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں 100 فیصد اضافہ ہوا، ہم نے 22 فیصد اضافہ کیا دنیا میں گندم کی قیمت 37 فیصد اور ہم نے 12 فیصد اضافہ کیا، دنیا میں چینی 40 فیصد جبکہ ہم نے 21 فیصد اضافہ کیا، قرضوں کے باوجود ہم نے کمزور طبقہ پر کم سے کم بوجھ ڈالا، پٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس اور لیوی میں کمی کرکے سالانہ 400 ارب روپے خسارہ برداشت کیا۔
انہوں نے اسلام آباد میں کامیاب پاکستان پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست مدینہ کی بات ہم دنیا کے کامیاب ترین ماڈل کی وجہ سے کرتے ہیں، یہ ایک حقیقت اور تاریخ ہے کہ ایک ایسی تہذیب جس کی کوئی حیثیت نہیں تھی وہ دنیا کی امام بن گئی، نبی پاک ﷺ کی سنت اور شریعت کی پیروی کا حکم الٰہی ہماری بہتری کے لیے ہے، اگر ہم اس کو اپنائیں گے تو ہمارا اپنا کردار بہتر ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ چین اور ہندوستان تین چار دہائی قبل برابر تھے لیکن آج چین بھارت کے مقابلہ میں ترقی کے راستے پر بہت آگے نکل چکا ہے، چین نے مدینہ کا ماڈل اپنایا، اپنے کمزور طبقات کو اوپر اٹھایا، غربت کا خاتمہ کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں مثالی اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے جو بنیادی اصول اختیار کرنے چاہیے تھے اس طرف توجہ نہیں دی، بدقسمتی سے ہمارا ملک ایک مخصوص اشرافیہ کا ملک بن گیا، ہمارے نظام تعلیم میں ایک مخصوص طبقہ کے لیے مواقع تھے، ہم ایک یکساں نصاب تعلیم لا رہے ہیں، اس پر تنقید کرنے والوں کو شرم آنی چاہیے، انصاف، تعلیم، قرض، صحت کی سہولیات سب اشرافیہ کے لیے تھیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت غربت سے نمٹنے کے لیے پوری طرح کوشاں ہے، دنیا میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 100 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ہم نے 22 فیصد اضافہ کیا، جن ممالک میں تیل کی پیداوار ہے ان کے علاوہ تیل درآمد کرنے والے ممالک میں پٹرولیم مصنوعات میں سب سے کم اضافہ ہم نے کیا، گندم میں دنیا میں 37 فیصد اضافہ ہوا، ہم نے صرف 12 فیصد اضافہ کیا، دنیا میں چینی کی قیمت میں 40 فیصد جبکہ ہم نے 21 فیصد اضافہ کیا، قرضوں کے باوجود ہم نے کمزور طبقہ پر کم سے کم بوجھ ڈالا، پٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس اور لیوی میں کمی کی، اس سے سالانہ 400 ارب روپے خسارہ برداشت کیا، اس کے مقابلہ میں ہندوستان نے سیلز ٹیکس اور لیوی میں کمی نہیں کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں قیمتوں میں اضافہ کا احساس ہے، آنے والے دنوں میں ٹارگٹڈ سبسڈی لا رہے ہیں جس کے تحت اشیاء خوردونوش پر 40 فیصد سبسڈی دیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم 70 فیصد گھی درآمد کرتے ہیں، درآمدی افراط زر کی وجہ سے مہنگائی ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ غریب صرف ترقی کے خواب ہی دیکھتا رہا، وزیراعظم نے غریبوں کے لیے کام کرنے کی ہدایت کی ہے۔
شوکت ترین نے کہا کہ وزیراعظم نے خصوصی ہدایت کی ہے کہ غریب کو بااختیار بنانے کے لیے کام ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی کے لیے معاشی پالیسیوں کا تسلسل ناگزیر ہے، موجودہ حکومت پائیدار ترقی کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلی بار ترقی کے سفر میں نچلے طبقے کو ترجیح دی گئی ہے، چھوٹے قرضوں کی وصولی کی شرح 99 فیصد ہے، ہر گھر کے ایک فرد کو ٹیکنیکل ٹریننگ دیں گے، پروگرام مائیکرو فنانس اداروں کے ذریعے بینکوں اور کم آمدن والے طبقات کو جوڑے گا، یہ کمزور طبقات کے حوالے سے ریاست کے احساس ذمہ داری کی عملی تعبیر ہے۔


مشہور خبریں۔
مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر صیہونی فوج کا تشدد
?️ 8 جنوری 2022سچ خبریں:صیہونی عسکریت پسندوں نے ایک بار پھر مغربی کنارے کے کچھ
جنوری
عوام کی خاطر منی بجٹ لاسکتے ہیں: شوکت ترین
?️ 13 جون 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے
جون
کورونا : ملک بھر میں کیسز میں تیزی سے اضافہ
?️ 8 جنوری 2022اسلام آباد(سچ خبریں)عالمی وباء کورونا وائرس کی نئی قسم اومی کرون کا
جنوری
الحشد الشعبی کی ایک او رشاندار کامیابی
?️ 8 مارچ 2021سچ خبریں:عراقی عوامی تنظیم الحشد الشعبی نے صوبہ صلاح الدین کے شہر
مارچ
ہماری قوم کو ڈراموں میں تشدد اور مظلوم لڑکیاں دیکھنے کا نشہ ہوگیا ہے، اداکار محمد احمد
?️ 4 جون 2023لاہور: (سچ خبریں) پاکستان کے سینئر اداکار محمد احمد کہتے ہیں کہ
جون
"جمبلاٹ”: شام کی پیش رفت ایک طویل بحران کا آغاز ہے
?️ 20 جولائی 2025سچ خبریں: لبنان کی ترقی پسند سوشلسٹ پارٹی کے سابق سربراہ نے
جولائی
سست انٹرنیٹ سے چھٹکارا پانے کیلئے پارلیمانی سیکریٹری نے انوکھی تجویز پیش کردی
?️ 23 دسمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان میں انٹرنیٹ کے مسائل اور خاص طور
دسمبر
ڈونیٹسک میں یوکرین کا بھاری جانی نقصان
?️ 13 اگست 2023سچ خبریں: یوکرین کے جوابی حملوں کے بعد روسی فوج نے اعلان
اگست