?️
لندن: (سچ خبریں) اگلے آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق بڑھتی قیاس آرائیوں کے پیش نظر وزیر دفاع خواجہ آصف نے لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس تعیناتی کو کسی سیاسی تنازع کا حصہ نہیں بنانا چاہیے کیونکہ اس سے ادارے کو نقصان پہنچتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق خواجہ آصف، وزیر اعظم شہباز شریف کے ہمراہ لندن میں ہیں جو برطانوی حکومت کی دعوت پر آج ملکہ برطانیہ کی تدفین کی سرکاری تقریب میں شرکت کے لیے وہاں موجود ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے بڑے بھائی اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف سے ملاقات کی اور دونوں نے عام انتخابات کے انعقاد کے ساتھ ساتھ پنجاب میں پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) کی مخلوط حکومت کی ممکنہ تبدیلی سمیت متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا۔
شریف برادران نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دباؤ کے باوجود پی ڈی ایم حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی اور اگلے عام انتخابات مقررہ وقت پر ہی ہونے چاہئیں۔
ملاقات میں پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) کی زیر قیادت پنجاب حکومت کو ہٹانے پر غور کیا گیا اور وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے حمزہ شہباز سمیت دیگر امیدواروں کے نام پر غور کیا گیا، اس دوران نومبر میں ہونے والی اہم تعیناتی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔
اسٹین ہاپ ہاؤس میں حسین نواز کے دفتر میں شریف خاندان کی 3 گھنٹے طویل ملاقات ہوئی، شہباز شریف کے وزیر اعظم بننے کے بعد لندن میں شریف برادران کی اس دوسری ملاقات میں سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار اور شہباز شریف کے بیٹے سلیمان شہباز نے بھی شرکت کی۔
اطلاعات کے مطابق خواجہ آصف اور وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی۔
اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ نئے آرمی چیف کے تقرر کا طریقہ کار وہی ہوگا جو برسوں سے جاری ہے، نئے آرمی چیف کی تعیناتی ہر 3 برس بعد ہوتی ہے جس پر قوم کو یا کسی شخص کو کوئی پریشانی نہیں ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا مرحلہ (ریٹائرمنٹ) سے 2 یا 3 ہفتے قبل شروع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ میں یہ لازمی کہوں گا کہ آرمی چیف کی وفاداری اپنے وطن سے ہے جو کسی سیاستدان کے ماتحت نہیں اور دوسری بات یہ کہ ان کی اپنے ادارے کے ساتھ بھی وفاداری ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ آرمی چیف ہی وہ شخص ہیں جو 7 لاکھ فوجی افسران کو کمانڈ کرتے ہیں جو ان کی ایک پکار پر جان دینے کے لیے بھی تیار ہوتے ہیں، اس پوزیشن اور شخصیت کو کسی تنازع یعنی سیاسی تنازع کا حصہ نہیں بنانا چاہیے۔
خواجہ آصف کا بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ملک میں نئے آرمی چیف کی تعیناتی پر قیاس آرائیاں چل رہی ہیں، سابق وزیر اعظم عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ حکمراں اتحاد بدعنوانی کے مقدمات سے بھاگنے کے لیے اپنی پسند کا آرمی چیف تعینات کرنا چاہتا ہے۔
حال ہی میں عمران خان نے آرمی چیف کے تقرر کو نئی حکومت کے آنے تک مؤخر کرنے کی تجویز دی تھی، عمران خان کے اس بیان کو حکومتی وزرا، فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
وزیر دفاع نے صحافیوں کو مزید بتایا کہ وہ نواز شریف کی جلد وطن واپسی کو ترجیح دیتے ہیں، مزید کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے ساتھ پاکستان میں جو ناانصافیاں کی گئی ہیں، اس پر انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت انتخابات سے بھاگ نہیں رہی مگر ہم چاہتے ہیں کہ انتخابات آئین کے مطابق مقررہ وقت پر ہوں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ جب عمران خان کے پاس پارلیمنٹ میں ایک نشست ہوتی تھی تو بھی وہ اسی طرح کے بیانات دیتے تھے۔
آئین کے آرٹیکل 243 (3) کے مطابق وزیر اعظم کی تجویز پر صدر مملکت، مملکت کے نئے سربراہان کو تعینات کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نئے آرمی چیف پر کسی کو کوئی پریشانی نہیں ہے اور یہ ایسی رسم ہے کہ ہر تین سال بعد ہوتی ہے جو اب نومبر میں ہوگی مگر اس پر پریشانی صرف عمران خان کو ہے۔
تاہم، ڈان نے پہلے رپورٹ کیا تھا کہ یہ عمل جس انداز میں چلتا ہے اس کی قانونی کتابوں میں واضح طور پر وضاحت نہیں کی گئی، نہ ہی غور کرنے کے لیے کوئی خاص معیار مقرر کیا گیا ہے، سوائے اس مبہم شرط کے کہ فوج کی قیادت کے لیے منتخب جنرل نے ایک کور کی کمانڈ کی ہو۔
جنرل ہیڈکوارٹرز 4 سے 5 سینئر ترین لیفٹیننٹ جنرلز کی فہرست وزارت دفاع کو بھیجتا ہے، جو انہیں وزیرِ اعظم کے پاس بھیجتا ہے تاکہ وہ جس افسر کو اس منصب کے لیے بہتر سمجھتے ہیں، انہیں منتخب کریں۔


مشہور خبریں۔
خطے اور دنیا کے لیے ایران کے فتاح میزائل کے پیغامات
?️ 8 جون 2023سچ خبریں:المیادین نیٹ ورک کے مطابق ایران کی جانب سے فتاح ہائپرسونک
جون
ہند اور وینزویلا میں دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق
?️ 31 جنوری 2026ہند اور وینزویلا میں دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق ہند
جنوری
ایران پاکستان اسٹریٹجک اتحاد پر مغربی ممالک پریشان؛ کیا خطے میں ایک نیا محور تشکیل پا رہا ہے؟
?️ 21 نومبر 2024سچ خبریں:ایران اور پاکستان کے درمیان دہشت گردی کے خلاف بڑھتے ہوئے
نومبر
ایران کے ساتھ معاہدے میں سب سے بڑی رکاوٹ کانگریس نہیں بلکہ اسرائیل ہے: ٹکر کارلسن
?️ 21 جون 2026سچ خبریں: معروف امریکی ٹیلی ویژن میزبان اور تجزیہ کار ٹکر کارلسن
جون
الکاظمی کردستان میں صہیونیوں کی موجودگی کا جواب دیں: عراقی رکن پارلیمنٹ
?️ 16 مارچ 2022سچ خبریں:عراقی پارلیمنٹ کے رکن نےاس بات پرزور دیتے ہوئے کہ کردستان
مارچ
مغربی ممالک کی نظروں میں نہ آنے والا یمنیوں کا قتل عام
?️ 27 مارچ 2022سچ خبریں:یمن کے عین انسانی حقوق کے مرکز نے اس ملک پر
مارچ
اسرائیل کی طرف سے معاہدے کی خلاف ورزیوں کے بعد مذاکرات ممکن نہیں: حماس
?️ 12 مئی 2026 سچ خبریں:حماس کے پولیٹیکل بیورو کے سربراہ کے میڈیا مشیر، طاہر
مئی
پاکستان اور آئین کو نہ ماننے والوں سے کیسے مذاکرات کریں۔ فیصل کریم کنڈی
?️ 13 جنوری 2026پشاور (سچ خبریں) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ
جنوری