سینیٹ اجلاس: بھارتی جارحیت اجاگر کرنے کیلئے قائم کمیٹی میں کسی اپوزیشن رکن کو شامل نہ کرنے پر تنقید

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن نے حکومت کی جانب سے پاک بھارت جنگ پر پاکستان کا نقطہ نظر دنیا پر واضح کرنے کیلئے بنائی گئی کمیٹی میں حزب اختلاف سے کوئی رکن لینے پر سخت تنقید کی۔

ڈان نیوز کے مطابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر کی زیرِ صدارت سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حملے کے بعد پوری قوم پاکستان کے لیے کھڑی ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دی جس کا مقصد پاکستان کا نقظہ نظر عالمی دنیا کو بتانا ہے، بدقسمتی سے اس کمیٹی میں پی ٹی آئی بلکہ اپوزیشن کا کوئی رکن شامل نہیں ہے۔

شبلی فراز نے کہا کہ حکومت نے بڑی تنگ نظری کا مظاہرہ کیا ہے، اپوزیشن کو اس کمیٹی میں شامل نہ کرنا افسوسناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے کمیٹی میں کانگریسں کے نمائندوں کو شامل کیا، مگر جو آپ نے کمیٹی بنائی وہ سب غیر قانونی طریقے سے منتخب ہوکر آئے ہیں، یہ لوگ باہر جا کر پاکستان کا مقدمہ کیا لڑیں گے۔

شبلی فراز نے مزید کہا کہ ملک کی خدمت کے لیے اپوزیشن اپنی کمیٹی بنا کر اپنے نمائندے، اپنے خرچ پر بھیجے گی، بھارت سے ہمیں بھی خطرہ ہے اور اب حکومت اپنے چکر میں لگ گئی ہے۔

انہوں نے حکومت سے گزارش کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن اپنے جو نمائندے باہر بھیجے ان کے نام ای سی ایل میں نہ ڈالے جائیں۔

شبلی فراز نے مزید کہا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں یہ قومی مسئلہ ہے تو پوری قوم کو ساتھ لے چلیں، بانی پی ٹی آئی کو دنیا پہچانتی ہے ان کا نام استعمال کریں۔

چیئرمین سینیٹ کے ساتھ حکومتی ارکان اور اپوزیشن اس معاملے پر ساتھ بیٹھے، اعظم نذیر تارڑ

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں ایک وضاحت دوں گا کہ حکومتی وفد میں صرف حکومتی لوگ شامل ہوتے ہیں، تاریخ میں ایسی روایت اور مثالیں موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا سیاسی حق ہے کہ وہ اختلاف رائے کا اظہار کرے، قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ پارلیمانی وفود کے حوالے سے غور کررہے ہیں۔

وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کے ساتھ حکومتی ارکان اور اپوزیشن اس معاملے پر ساتھ بیٹھے۔

سینیٹر کامران مرتضیٰ اور انوار الحق کاکڑ کے درمیان شدید تلخ کلامی

سینیٹر کامران مرتضیٰ نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ بلوچستان میں 18 مئ کی رات کو جنرل سیکرٹری بار کونسل عطاء اللہ بلوچ کو اغواء کرلیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ وکالت ایک مقدس پیشہ ہے، اس اقدام سے اس کی توہین کی گئے، انہوں نے کہا کہ قومی یک جہتی کا پورے ملک میں ماحول ہے، اسے چلنے دیں۔

سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے جواباً کہا کہ سینیٹر کامران مرتضیٰ خود ہی جج بن گئے اور بول رہے ہیں کہ اغواء میں سیکورٹی فورسز ملوث ہیں، میں اس بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔

سینیٹر کامران مرتضیٰ نے ان سے استفسار کیا کہ کیا آپ یہاں سیکورٹی فورسز کی نمائندگی کرتے ہیں؟

سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ جی ہاں! میں نمائندگی کرتا ہوں، اس کے بعد سینیٹر کامران مرتضیٰ اور انوار الحق کاکڑ کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوئی جس پر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال ناصر نے انہیں ہدایت کی کہ دونوں رہنما چیئر کو مخاطب کرکے بات کریں۔

مشہور خبریں۔

عمران خان کرپشن کے خلاف جنگ جاری رکھے گا: شیخ رشید

?️ 26 دسمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے

حزب اللہ مقبوضہ علاقوں میں بھی موجود ہے؛صہیونیوں کا اعتراف

?️ 3 جولائی 2022سچ خبریں:صیہونی ذرائع ابلاغ نے مقبوضہ علاقوں کے پانیوں میں حزب اللہ

اسرائیل، امریکہ اور برطانیہ جواب کے لیے تیار رہیں؛یمن کا واضح پیغام 

?️ 7 مئی 2025 سچ خبریں:یمن کی انصار اللہ تحریک کے سیاسی دفتر کے سینئر

امریکی اپنی حرکت سے باز نہیں آنے والے

?️ 2 اکتوبر 2023سچ خبریں:امریکی فوج حسکہ اور دیر الزور صوبوں کے آئل فیلڈز سے

تاجکستان میں شدید زلزلہ، متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے

?️ 11 جولائی 2021دوشنبہ (سچ خبریں)  تاجکستان کے رشت ضلع سے 27کلومیٹر مشرق میں شدید

سپریم کورٹ میں کیا ہوا؟

?️ 13 جولائی 2024سچ خبریں: سپریم کورٹ آف پاکستان نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص

حکومت سندھ کا وفاق سے گندم کی امدادی قیمت مقرر کرنےکا مطالبہ

?️ 19 اکتوبر 2025کراچی: (سچ خبریں) حکومت سندھ نے وفاق سے ملکی سطح پر گندم

فواد چوہدری کو بیرون ملک جانے کی عارضی اجازت اور ان کا ردعمل

?️ 10 جولائی 2024سچ خبریں: اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیر فواد چوہدری کا نام

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے