?️
اسلام آباد: (سچ خبریں)غیرمعمولی سیلاب کی بڑی تباہ کاریوں سے نمٹنے میں پاکستان کی مدد کے لیے اقوام متحدہ کی ہنگامی اپیل کے اعلان کے 2 ہفتے گزر جانے کے بعد مزید مؤثر حکمت عملی کی ضرورت محسوس ہورہی ہے جسے ‘کلسٹر اپروچ’ بھی کہا جاتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کے ریزیڈینٹ اینڈ ہیومن کوآرڈینیٹر جولین ہارنیس نے بتایا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے حکومت کے زیر قیادت شعبوں میں خدمات فراہم کی جائیں گی اور حکومت کی کوششوں میں مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا۔
اسی طرح یونیسیف کے ایک عہدیدار نے کہا کہ تنظیم کے تحت بچوں کے تحفظ پر ایک تکنیکی ورکنگ گروپ تشکیل دیا گیا ہے جو پنجاب میں سیلاب سے متاثرہ 2 اضلاع میں کام کر رہا ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے تحت تعلیم، غذائی تحفظ، زراعت، ذریعہ معاش، صحت، لاجسٹکس، غذائیت، پناہ گاہ، بچوں کے تحفظ اور قدرتی آفات کے خطرے میں کمی کے شعبوں کا احاطہ کرنے کے لیے ایک انٹر سیکٹرل کوآرڈینیشن گروپ بھی تشکیل دیا گیا ہے۔
لیکن جس حکمت عملی کی غیر موجودگی واضح طور پر محسوس ہورہی ہے وہ ‘کلسٹر اپروچ’ ہے جو پاکستان میں 2005 کے زلزلے کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے پہلی بار اپنائی گئی تھی۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امورکے مطابق بہتر ہم آہنگی کے لیے زلزلے کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر 9 کلسٹرز قائم کیے گئے تھے۔
تحفظ، پانی، صفائی، حفظان صحت، صحت، تعلیم، زراعت، ہنگامی پناہ گاہ اور غذائیت کے شعبوں میں کلسٹر قائم کیے جانے تھے۔
تاہم اس بار اقوام متحدہ نے ایک مختلف حکمی عملی اپنائی جبکہ تباہی کی شدت ماضی کی قدرتی آفات سے کہیں زیادہ بدتر ہے جن سے نمٹنے کے لیے کامیابی کے ساتھ ‘کلسٹر اپروچ’ کا استعمال کیا گیا تھا۔
پاکستان کو اس وقت دہرے چیلنج کا سامنا ہے، نہ صرف موجودہ تباہی سے ہونے والا نقصانات ماضی کی قدرتی آفات سے کہیں زیادہ ہیں بلکہ امدادی کارروائیوں میں سرگرم تنظیموں کی تعداد بھی کم ہے۔
الائنس فار ایمپاورنگ پارٹنرشپ کے مطابق 2010 میں پاکستان میں 158 تنظیمیں سرگرم تھیں لیکن اس بار انسانی ہمدردی کی صرف 70 تنظیمیں پاکستان کی امدادی سرگرمیوں میں مدد کر رہی ہیں۔
دریں اثنا اقوام متحدہ کو امدادی سرگرمیوں کے لیے درکار فنڈنگ میں 32 ارب ڈالر کی ریکارڈ کمی کا سامنا ہے اور اسے پاکستان سمیت دنیا بھر میں اپنے اہم پروگراموں کے لیے اپنے ہنگامی فنڈ پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور (او سی ایچ اے) نے کہا کہ عطیہ دہندگان نے 2022 میں دنیا بھر آنے والے بحرانوں کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ امداد دی ہے لیکن پاکستان میں بدترین سیلاب اور صومالیہ میں قحط کے انتباہ کے پیش نظر طلب بھی بڑھ گئی ہے۔
ان بحرانوں کے لیے فنڈز کی تاخیر سے آمد کا حوالہ دیتے ہوئے ترجمان او سی ایچ اے جینز لایرکے نے کہا کہ کچھ نئے جاری کردہ فنڈز کو نائیجر میں خشک سالی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے متوقع امدادی کارروائی کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ‘یہ ایک عمومی تشویش ہے کہ وسائل اکثر اسی وقت بروئے کار لائے جاتے ہیں جب آفات اور مصائب عروج پر پہنچ چکی ہوتی ہیں اور ان سے نمٹنا زیادہ مہنگا ہو جاتا ہے’۔
بگڑتی ہوئی صورتحال کے ساتھ بدلتے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ 2010 کے سیلاب نے 2 کروڑ 20 لاکھ افراد کو متاثر کیا تھا جبکہ حالیہ سیلاب سے اب تک 3 کروڑ 30 لاکھ آبادی متاثر ہوچکی ہے اور یہ تعداد مزید بڑھنے کا بھی خدشہ ہے۔


مشہور خبریں۔
اسرائیل کے خلاف ایرانی حملے کے بارے میں سابق صیہونی وزیر جنگ کا تازہ ترین انکشاف
?️ 7 مئی 2025 سچ خبریں:اسرائیل کے سابق وزیر جنگ یواو گالانت نے انکشاف کیا
مئی
پاک-افغان ٹرانزٹ ٹریڈ سے متعلق مذاکرات آج سے شروع ہوں گے
?️ 25 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاک-افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور دوطرفہ تجارت میں حائل
مارچ
تل ابیب کے وزیر توانائی کی اپنی گیس فیلڈ کے بارے میں مبالغہ آرائی
?️ 6 جولائی 2022سچ خبریں: گذشتہ دنوں لبنان کی حزب اللہ کی حکمت عملی اور
جولائی
سابق سینیٹر مشتاق احمد خان پاکستان پہنچ گئے
?️ 9 اکتوبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) گلوبل صمود فلوٹیلا کے قافلے میں شامل سابق
اکتوبر
امریکہ ، جنوبی کوریا اور جاپان کا شمالی کوریا کو غیر مسلح کرنے پر اتفاق
?️ 23 ستمبر 2021سچ خبریں:جاپانی وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ اور ان کے امریکہ
ستمبر
یوم یکجہتی کشمیر پر ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان
?️ 2 فروری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی حکومت نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع
فروری
جنرل نشستوں کیلئے 5 فیصد ٹکٹس خواتین کو نہ دینے پر سیاسی جماعتوں کیخلاف شکایت درج
?️ 4 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں)8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں سیاسی
فروری
میں اقتدار منتخب حکومت کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہوں: عراقی وزیر اعظم
?️ 11 اگست 2022سچ خبریں: عراق کی حکومت کے امور کے وزیر اعظم مصطفیٰ
اگست