سیالکوٹ واقعہ پر پولیس کی جانب سے اہم انکشافات

سیالکوٹ سانحہ: پولیس نے مزید 18 مرکزی ملزمان کو گرفتار کرلیا

?️

سیالکوٹ ( سچ خبریں) سیالکوٹ واقعے سے متعلق پولیس کی جانب سے مزید انکشافات سامنے آگئے پریانتھا کمارا پر حملہ کرنے والے ہجوم کے پاس پیٹرول کی بوتلوں کا انکشاف ہوا ہے ملزمان نے پہلے سے ہی فیکٹری کو آگ لگانے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی یہاں تک کہ پولیس پارٹی کو بھی دھمکی ملی تھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سیالکوٹ میں فیکٹری کے سری لنکن منیجر پریانتھا کمارا کے قتل کیس کی تحقیقات میں سامنے آنے والے مزید انکشافات میں پولیس نے بتایا ہے کہ پریانتھا کمارا پر حملہ کرنے والے ہجوم کے پاس پیٹرول کی بوتلیں تھیں‘ سری لنکا سے تعلق رکھنے والے فیکٹری مینیجر کو قتل کرنے کے بعد ملزمان نے اس کی گاڑی کو بھی نقصان پہنچایا۔

اس کے علاوہ ملزمان نے فیکٹری کو آگ لگانے کی منصوبہ بندی کی ہوئی تھی اور جس وقت پولیس اہلکار فیکٹری میں داخل ہوئے تو اس وقت ہجوم فیکٹری مالک شہباز بھٹی پر بھی تشدد کر رہا تھا ، اس دوران ہجوم نے پولیس پارٹی پر بھی پیٹرول پھینک کر آگ لگانے کی دھمکی دی ، سری لنکن شہری کے قتل کے واقعے میں گرفتار کیے گئے 13 مرکزی ملزمان کو ایک روزہ سفری ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا ہے ، ملزمان کو کل گوجرانوالہ انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

دوسری جانب پولیس نے سیالکوٹ واقعے میں ملوث مزید 6 مرکزی ملزمان گرفتار کرلیا ‘ گرفتاریوں کی تعداد 124 ہوگئی ، پولیس ترجمان کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ سیالکوٹ میں فیکٹری کے سری لنکن مینیجر کے قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے دوران مزید 6 مرکزی ملزمان گرفتار کیا گیا ہے ، جس کے لیے سائنٹفک انداز سے تفتیش کو آگے بڑھایا گیا۔

سی سی ٹی سی فوٹیج اور موبائل کالز ڈیٹا سے گزشتہ 12 گھنٹوں میں پولیس نے مزید 6 مرکزی کرداروں کا تعین کرکے انہیں گرفتار کرلیا ، یہ ملزمان اپنے دوستوں اور رشتے داروں کے گھروں میں گرفتاری کے ڈر سے چھپے ہوئے تھے۔

قبل ازیں انسپکٹر جنرل پنجاب راؤ سردار نے کہا کہ سیالکوٹ واقعے میں پولیس کی کوتاہی ثابت نہیں ہوئی، 160 فوٹیجز کی روشنی میں گرفتاریاں کی جائیں گی، سیالکوٹ کے افسوسناک واقعے کا آغاز 10 بج کر2 منٹ پرہوا جب کہ 11 بجے تک پریا نتھاکمارا کی ہلاکت ہوچکی تھی۔

پولیس11 بج کر 28 منٹ پر جائے وقوعہ پر پہنچی ، واقعے کی اطلاع ملنے پر مقامی پولیس نے فوری طورپر حکام کوآگاہ کیا ، ڈی پی او اور ایس اپی پیدل چل کر وہاں پہنچے، واقعے کے بعد راستے بلاک تھے اس میں پولیس کی کوتاہی ثابت نہیں ہوئی، اگر واقعے میں پولیس کی کوئی کوتاہی ہوئی تو اس کا جائزہ لیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ 13 مرکزی ملزمان میں وہ لوگ ہیں جو ادھر میڈیا کو بھی انٹرویوز میں بیان حلفی دیتے رہے ، واقعے میں سارے ملزم تو قاتل نہیں ہر ملزم کا کردار طےکیا جائے گا اور تفتیش میں طے کریں گے کس ملزم کا کیا رول تھا ، مزید گرفتاریوں کے لیے بھی 10 ٹییمیں بنائی گئی ہیں ، واقعے کے مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات شامل ہیں ، آر پی او اور ڈی پی او 24 گھنٹے چھاپوں کی نگرانی کررہے ہیں۔

مشہور خبریں۔

انسٹاگرام پر ڈس لائیک بٹن کی آزمائش

?️ 19 فروری 2025سچ خبریں: سوشل شیئرنگ ایپلی کیشن انسٹاگرام پر لائیک سمیت دیگر بٹنز

فلسطینی نسل کشی کے حوالے سے عالمی برادری کی ذمہ داریاں

?️ 8 نومبر 2023سچ خبریں:ایک بیان میں، عراقی وزیر اعظم کے دفتر نے اعلان کیا

اسلامی حکومت کے خواہاں طالبان کے رمضان المبارک میں بھی حملے جاری

?️ 22 اپریل 2021سچ خبریں:رمضان المبارک کا مہینہ آجانے کے باوجود افغانستان میں طالبان کے

 جنگ بندی کا معاہدہ عوام کی قربانیوں اور مزاحمت کا نتیجہ ہے:فلسطینی مزاحمتی گروہ

?️ 9 اکتوبر 2025 جنگ بندی کا معاہدہ عوام کی قربانیوں اور مزاحمت کا نتیجہ ہے:فلسطینی

پاکستان: استنبول مذاکرات کے بے نتیجہ ختم ہونے کے بعد ہم نامعلوم مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں

?️ 8 نومبر 2025سچ خبریں: پاکستانی وزیر دفاع نے اعلان کیا کہ استنبول میں طالبان

صیہونی فوج کی لبنان میں دراندازی کے بارے میں اقوام متحدہ کی امن فوج کا بیان

?️ 11 اکتوبر 2024سچ خبریں: اقوام متحدہ کی امن فوج کے ترجمان نے کہا ہے

نیتن یاہو کو بائیڈن کے خفیہ پیغام کی تفصیلات کا انکشاف

?️ 31 مارچ 2023سچ خبریں:مقبوضہ فلسطین میں گذشتہ چند دنوں کے واقعات کے بعد صیہونی

قومی اسمبلی کے اسپیکر نے عہدہ چھوڑنے کی دھمکی دی

?️ 9 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں) اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے اسپیکر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے