?️
سیالکوٹ ( سچ خبریں) سیالکوٹ واقعے سے متعلق پولیس کی جانب سے مزید انکشافات سامنے آگئے پریانتھا کمارا پر حملہ کرنے والے ہجوم کے پاس پیٹرول کی بوتلوں کا انکشاف ہوا ہے ملزمان نے پہلے سے ہی فیکٹری کو آگ لگانے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی یہاں تک کہ پولیس پارٹی کو بھی دھمکی ملی تھی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سیالکوٹ میں فیکٹری کے سری لنکن منیجر پریانتھا کمارا کے قتل کیس کی تحقیقات میں سامنے آنے والے مزید انکشافات میں پولیس نے بتایا ہے کہ پریانتھا کمارا پر حملہ کرنے والے ہجوم کے پاس پیٹرول کی بوتلیں تھیں‘ سری لنکا سے تعلق رکھنے والے فیکٹری مینیجر کو قتل کرنے کے بعد ملزمان نے اس کی گاڑی کو بھی نقصان پہنچایا۔
اس کے علاوہ ملزمان نے فیکٹری کو آگ لگانے کی منصوبہ بندی کی ہوئی تھی اور جس وقت پولیس اہلکار فیکٹری میں داخل ہوئے تو اس وقت ہجوم فیکٹری مالک شہباز بھٹی پر بھی تشدد کر رہا تھا ، اس دوران ہجوم نے پولیس پارٹی پر بھی پیٹرول پھینک کر آگ لگانے کی دھمکی دی ، سری لنکن شہری کے قتل کے واقعے میں گرفتار کیے گئے 13 مرکزی ملزمان کو ایک روزہ سفری ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا ہے ، ملزمان کو کل گوجرانوالہ انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
دوسری جانب پولیس نے سیالکوٹ واقعے میں ملوث مزید 6 مرکزی ملزمان گرفتار کرلیا ‘ گرفتاریوں کی تعداد 124 ہوگئی ، پولیس ترجمان کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ سیالکوٹ میں فیکٹری کے سری لنکن مینیجر کے قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے دوران مزید 6 مرکزی ملزمان گرفتار کیا گیا ہے ، جس کے لیے سائنٹفک انداز سے تفتیش کو آگے بڑھایا گیا۔
سی سی ٹی سی فوٹیج اور موبائل کالز ڈیٹا سے گزشتہ 12 گھنٹوں میں پولیس نے مزید 6 مرکزی کرداروں کا تعین کرکے انہیں گرفتار کرلیا ، یہ ملزمان اپنے دوستوں اور رشتے داروں کے گھروں میں گرفتاری کے ڈر سے چھپے ہوئے تھے۔
قبل ازیں انسپکٹر جنرل پنجاب راؤ سردار نے کہا کہ سیالکوٹ واقعے میں پولیس کی کوتاہی ثابت نہیں ہوئی، 160 فوٹیجز کی روشنی میں گرفتاریاں کی جائیں گی، سیالکوٹ کے افسوسناک واقعے کا آغاز 10 بج کر2 منٹ پرہوا جب کہ 11 بجے تک پریا نتھاکمارا کی ہلاکت ہوچکی تھی۔
پولیس11 بج کر 28 منٹ پر جائے وقوعہ پر پہنچی ، واقعے کی اطلاع ملنے پر مقامی پولیس نے فوری طورپر حکام کوآگاہ کیا ، ڈی پی او اور ایس اپی پیدل چل کر وہاں پہنچے، واقعے کے بعد راستے بلاک تھے اس میں پولیس کی کوتاہی ثابت نہیں ہوئی، اگر واقعے میں پولیس کی کوئی کوتاہی ہوئی تو اس کا جائزہ لیں گے ۔
انہوں نے کہا کہ 13 مرکزی ملزمان میں وہ لوگ ہیں جو ادھر میڈیا کو بھی انٹرویوز میں بیان حلفی دیتے رہے ، واقعے میں سارے ملزم تو قاتل نہیں ہر ملزم کا کردار طےکیا جائے گا اور تفتیش میں طے کریں گے کس ملزم کا کیا رول تھا ، مزید گرفتاریوں کے لیے بھی 10 ٹییمیں بنائی گئی ہیں ، واقعے کے مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات شامل ہیں ، آر پی او اور ڈی پی او 24 گھنٹے چھاپوں کی نگرانی کررہے ہیں۔


مشہور خبریں۔
صنعا کا سعودی اتحاد کو انتباہ
?️ 27 دسمبر 2022سچ خبریں: یمن کے عبد الملک العجری نے کہا کہ
دسمبر
امریکی نائب وزیر خارجہ اور صیہونی قومی سلامتی کے مشیر کی ملاقات
?️ 4 اگست 2021سچ خبریں:صہیونی حکومت نے ایران مخالف اپنی مہم کو جاری رکھنے میں
اگست
سندھ کی 3 مخصوص نشستوں کے ووٹ کو فیصلہ کن ہونے پر صدارتی انتخاب میں کاؤنٹ نہ کرنے کی ہدایت
?️ 8 مارچ 2024کراچی: (سچ خبریں) سندھ ہائیکورٹ نے صوبائی اسمبلی کی 3 مخصوص نشستوں
مارچ
حکومت کا زیرِ حراست 290 بلوچ مظاہرین کو رہا کرنے کا دعویٰ
?️ 25 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) نگران حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ جبری
دسمبر
حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے خواہاں صیہونیوں کے نوکر ہیں:حزب اللہ
?️ 14 مارچ 2022سچ خبریں:حزب اللہ کی سیاسی کونسل کے سربراہ نے اعلان کیا کہ
مارچ
جانسن کا جوا سعودی تیل کے ساتھ
?️ 17 مارچ 2022سچ خبریں: برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن آئندہ چند گھنٹوں میں مشرق
مارچ
سپریم کورٹ کا بابری مسجد تنازعے میں شاہ رخ سے رابطےکا انکشاف
?️ 26 اپریل 2021ممبئی (سچ خبریں) بھارتی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر نے
اپریل
پنجاب: گردوں کی غیرقانونی پیوندکاری میں ملوث گروہ سرغنہ سمیت گرفتار
?️ 2 اکتوبر 2023لاہور: (سچ خبریں) نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے گزشتہ روز
اکتوبر