’سب کرکے دیکھ لیا آپ مان کیوں نہیں لیتے کہ جس کا کام اسی کو ساجھے‘ میاں اسلم قبال کا مقتدرہ کو مشورہ

?️

لاہور: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء میاں اسلم اقبال نے مقتدرہ کو مشورہ دیا ہے کہ آپ مان کیوں نہیں لیتے کہ جس کا کام اسی کو ساجھے۔ اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ تمام ٹی وی چینلز پر اینکرز روزانہ بیٹھ کر "پی ٹی آئی ٹوٹ گئی، پی ٹی آئی کا شیرازہ بکھر گیا” جیسی باتیں کرتے ہیں۔

پچھلے ڈھائی سال سے جو کچھ پی ٹی آئی کے ساتھ ہو چکا ہے، ہر طرح کا جبر، فسطائیت، گولیاں، بندوقیں سب کر کے دیکھ لیا، آپ نے زور لگا کر تحریک انصاف کی لیڈر شپ کو جیلوں میں ڈالا، اغواء کیا سب کچھ کر کے دیکھا، زبردستی پارٹی بھی چھڑوائی لیکن مقتدرہ جواب دے یہ سب کچھ کرنے کے بعد 8 فروری کو عوام نے آپ کے ساتھ کیا کیا؟ 8 فروری کے بعد کیا عمران خان کی مقبولیت میں کمی ہوئی ہے یا اضافہ؟ آپ مان کیوں نہیں لیتے کہ جس کا کام اسی کو ساجھے اور آپ سیاسی نظریات سے مقابلہ کر ہی نہیں سکتے۔

پی ٹی آئی رہنماء نے کہا میرا سوال یہ ہے کہ کیا ملک کے تمام معاشی معاملات درست ہو گئے ہیں؟ بڑے بڑے ٹی وی چینلز پر بیٹھے اینکرز جو میرے لیے قابل احترام ہیں وہ یہ موضوع گفتگو کیوں نہیں بناتے کہ کسان کی کمر ٹوٹ چکی ہے، گندم کھلے آسمان تلے پڑی ہے اس کو حکومت خریدنے کو تیار نہیں اور کسان 2200 روپے پر بیچنے پر مجبور ہے، پچھلے سال بھی یہی ہوا، گنے کی فصل کے ساتھ بھی یہی ہوا اور اب بھی یہی ہو رہا ہے، شوگر مل مافیا کو تو سب فائدہ ہے، اسحاق ڈار ٹی وی پر بیٹھ کر چینی کی قیمت بڑھا دیتے ہیں اور اپنی رشتہ داری نبھاتے ہیں، اپنے لیے اربوں روپے کے منافع ہیں اور کسان کا استحصال ہی استحصال ہے۔

سابق صوبائی وزیر کا کہنا ہے کہ یہ تحریک انصاف کی حکومت ہی تھی جس نے کسان کو پوری ادائیگی کرکے زراعت کو کھڑا کیا مگر ان موضوعات پر بات کرنے کا کسی چینل کے پاس وقت ہی نہیں، یہی حال صنعت کا بھی ہے، صنعت بند پڑی ہے، گروتھ ریٹ منفی ہے، بے شرمی سے "ہم نے کر دکھایا” کی محفل سجا کر عوام کا کروڑوں روپیہ خرچ کیا گیا، بجلی سستی کرنے کے جھوٹے دعوے کیے گئے، توانائی اتنی ہی سستی ہوتی تو ملک میں یوں صنعتی بحران نہ ہوتا، ملک سے brain drain تاریخی سطح پر نہ ہوتا۔

میاں اسلم اقبال کہتے ہیں کہ اس کا کسی کو احساس نہیں کہ عوام پس رہی ہے، لوگوں کے پاس قوت خرید ہی نہیں ہے، دنیا میں تیل کی قیمت 60 سے 65 ڈالر فی بیرل تک گر چکی ہے جو ہمارے دور میں 117 ڈالر فی بیرل تھی اس کے باوجود ہمارے دور میں پیٹرول 150 روپے فی لیٹر تھا جو اب 255 روپے فی لیٹر ہے، ڈیزل 145 روپے تھا، چینی جو ہمارے دور میں 70 روپے کلو تھی آج 170 روپے پر ہے اور پھر بھی کچھ سائنسدان کہتے ہیں کہ مہنگائی کم ہو گئی ہے، میرا پھر سے دانشوروں اور اینکرز سے یہی سوال ہے کہ ضرور تحریک انصاف پر تنقید کریں آپ کا حق ہے مگر کیا آپ کو یہ بھی منع کر دیا گیا ہے کہ آپ نے غریب آدمی کے ساتھ کھڑے نہیں ہونا؟۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھی ٹی وی پر جاتے ہیں تو ان سے سے پارٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق سوالات کرتے رہتے ہیں اور عوام کے متعلق کوئی سوال ہوتا ہی نہیں، جنہوں نے اس حکومت پر تنقید کی اور بہادری سے اس میک اپ زدہ حکومت پر بات کی انہوں نے اپنی نوکریاں بھی گنوائیں، خدا سے ڈریں اور جو اس ملک کو یہاں تک پہنچانے والے ہیں تیس سال سے اس ملک کو چوس رہے ہیں ان کے بارے میں بھی سوال کریں غریب آدمی کے ساتھ کھڑے ہوں۔

مشہور خبریں۔

سوشل میڈیا پر بھی وزیر خارجہ، بلاول کی لفظی جنگ جاری

?️ 2 جولائی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) قومی اسمبلی میں وزیر خارجہ  شاہ محمود قریشی اور

اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کا سلسلہ جاری، انڈیکس میں 600 سے زیادہ پوائنٹس کا اضافہ

?️ 23 نومبر 2023کراچی: (سچ خبریں) پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج بھی زبردست تیزی دیکھی

ٹیکس افسران کو کاروباری احاطے میں تعینات کرنے کا فیصلہ، سروسز سیکٹر کی نگرانی کا اختیار

?️ 6 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) محدود ٹیکس بیس کو وسیع کرنے کے لیے

صیہونی فوج کی حالت زار؛ریٹارڈ صیہونی جنرل کی زبانی

?️ 2 دسمبر 2024سچ خبریں:ریٹارڈ صیہونی جنرل اسحاق بریک نے اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے

اردگان کی نیتن یاہو سے نیویارک میں ملاقات

?️ 20 ستمبر 2023سچ خبریں:ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے نیویارک میں ترک ہاؤس

صیہونی ٹیم کی حمایت میں اماراتی چینل کا غیر پیشہ ورانہ اقدام

?️ 10 نومبر 2024سچ خبریں:اماراتی چینل اسکائی نیوز نے آمستردام میں صیہونی ٹیم کے حامیوں

روس نے لبنان کو ریفائنری کی پیشکش کی ہے: لبنانی وزیر

?️ 12 مارچ 2022سچ خبریں:  لبنان کے وزیر توانائی ولید فیاض نے جمعہ کو اعلان

امریکی فوجی پائلٹوں میں کینسر کی بڑھتی ہوئی شرح

?️ 20 مارچ 2023سچ خبریں:پینٹاگون کے نئے نتائج امریکی فوجی پائلٹوں میں کینسر کی اعلی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے