سارا پیسہ سرکاری تنخواہوں میں دیتے رہیں گے؟ عوام کو کچھ نہیں مل رہا، چیف جسٹس

?️

کراچی: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے برطرفی کے خلاف حیدرآباد ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ملازمین کی درخواست مسترد کردی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ لوگوں کو مل کیا رہا ہے؟ سڑکیں، پانی، بجلی کیا مل رہا ہے؟ کیا سارا پیسہ تنخواہوں میں دیتے رہیں گے؟ عوام کو کچھ نہیں مل رہا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس نعیم اختر افغان پر مشتمل بینچ نے حیدر آباد ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے کنٹریکٹ ملازمین کو برخاست کرنے کیخلاف درخواست پر سماعت کی۔

دوران سماعت درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ ’میں کنٹریکٹ ملازم نہیں بلکہ ریگولر ملازم تھا، حکومت نے خود پروجیکٹ شروع کیا بعد میں ملازمین کو واپس بھیج دیا‘، جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ ’کیا آپ کی اپوائنٹمنٹ میں تمام ضابطہ کار کو فالو کیا گیا تھا؟ ہمیں کیا پتا آپ کے پاس کوئی ڈگری ہے یا نہیں؟‘، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس میں کہا کہ ’ہمیں پتا ہے کمیٹی میں کیا ہوتا ہے، لسٹ آ جاتی ہے کہ اِن کو رکھنا ہے، صرف ملازمین بھرتی کررہے ہیں، عوام کی خدمت کہاں ہو رہی ہے؟ ہم دیکھیں گے کہ سرکاری محکمے کر کیا رہے ہیں، سرکاری ادارے کیا کررہے ہیں، صرف ملازمین کو پال رہے ہیں، صرف لوگوں کو سرکاری نوکریوں میں بھرا جارہا ہے، صرف ملازمین کو بٹھا کر تنخواہیں دی جارہی ہیں‘۔

قاضی فائز عیسیٰ نے مزید کہا کہ ’حکومت کے پاس کچھ کرنے کو چار آنے نہیں ہیں بس کہا جاتا ہے خدمت کررہے ہیں، ایک ایک اسامی پر 3، 3 گنا ملازمین کو بھرتی کررہے ہیں، سرکاری نوکریاں ان کو پکڑنا ہوتی ہیں جو قابل ہی نہیں ہوتے، غیر قانونی بھرتیوں کا بوجھ سندھ کے عوام پر کیوں ڈالیں؟، ہمیں حکومت تو نہیں چلانی، حکومت وہ خود چلائیں‘، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ’صدر اور گورنر کے پیکیج کے تحت بھرتیاں ہوئیں‘۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ’اختیارات کے نام پر کیا قانون کی دھجیاں اڑائی ہیں؟ صدر اور گورنر کے پاس کیا اختیار ہے؟ کیا ان کے پاس اپنے پیسے تھے؟ آئین کی دھجیاں اُڑائیں گے تو ہم اجازت نہیں دیں گے، صدر کے پاس کیسے اختیار آیا کہ کسے چاہیں پیسے بانٹتے رہیں، کب ہوا تھا یہ؟ کس نے کیا تھا؟‘، وکیل نے بتایا کہ ’سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دور میں بھرتیاں ہوئیں اور پیکیج ملا تھا‘۔

قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’جس چیز کی بنیاد ہی غلط ہو پھر یہی ہوتا ہے، چیز قائم نہیں رہ سکتی، صوبے کے لوگوں کی بات کریں انہیں مل کیا رہا ہے؟ سڑکیں، پانی، بجلی کیا مل رہا ہے؟ کیا سارا پیسہ تنخواہوں میں دیتے رہیں گے؟ آپ ان لوگوں کی بات کر رہے ہیں، صوبے کی بات نہیں کررہے، صوبے میں ملازمین کو دینے کے لیے تنخواہیں نہیں ہیں‘۔

مشہور خبریں۔

گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، گھریلو صارفین کیلئے 194 فیصد تک مہنگی

?️ 31 اکتوبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) نگران وفاقی کابینہ نے گیس کی قیمتوں میں ہوشربا

سرینگر کے اسکول میں حجاب پر پابندی ،مسلمانوں کی شناخت پر ایک اور شرمناک حملہ ہے ، غلام گلزار

?️ 9 جون 2023سرینگر: (سچ خبریں) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں

Democratic Party politician calls Prabowo ‘cardboard general’

?️ 25 اگست 2022Dropcap the popularization of the “ideal measure” has led to advice such

حمزہ شہباز کو ہو سکتے ہیں گرفتار

?️ 25 مارچ 2021لاہور(سچ خبریں) فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے گزشتہ ایک

آئی جی پنجاب کے ترجمان کو تبدیل کر دیا گیا

?️ 5 نومبر 2021لاہور(سچ خبریں) آئی جی پنجاب کے تبادلے کی خبریں چلانے کے الزام

فوج کے خلاف کوئی نعرہ نہیں لگنا چاہیے:شیخ رشید

?️ 13 اپریل 2022اسلام آباد(سچ خبریں)سابق وزیرداخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ فوج کے

سعودی حکام کا اپنے فوجیوں کے ساتھ سلوک

?️ 10 اپریل 2021سچ خبریں:سعودی عرب کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ملک کے

ٹرین حادثے کے بارے میں نئے انکشافات سامنے آگئے

?️ 14 جون 2021گھوٹکی (سچ خبریں) رپورٹ کے مطابق لگیج وین میں حد سے زیادہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے