سابق آرمی چیف نے ’ڈان لیکس‘ کا معاملہ اپنی توسیع کیلئے اچھالا، جنرل (ر) قمر باجوہ

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ 2016 میں ڈان میں شائع ہونے والی ہنگامہ خیز خبر میں کوئی چیز مصدقہ نہیں تھی اور دعویٰ کیا کہ اس معاملے کو ان کے پیش رو نے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف سے توسیع لینے کے لیے اچھالا تھا۔

یہ دعویٰ صحافی شاہد میتلا کو دیے گئے سابق آرمی چیف کے انٹرویو کی دوسری قسط میں سامنے آیا جو بدھ کو ویب سائٹ پاکستان24 ڈاٹ ٹی وی میں شائع ہوئی۔

صحافی نے اپنے تازہ مضمون میں دعویٰ کیا کہ سابق آرمی چیف نے ’ڈان لیکس‘ تنازع کو مسترد کر دیا جیسا کہ اس سے قومی سلامتی کے لیے ممکنہ خطرے کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔

ڈان کی خبر میں ملک کی سویلین اور فوجی قیادت کے درمیان اجلاس کے حوالے سے بتایا گیا تھا، جہاں حکومت نے فوجی قیادت سے کہا تھا کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کریں یا ملک کو عالمی سطح پر تنہائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

خبر شائع ہونے کے بعد سول اور ملٹری عہدیداروں نے کہا تھا کہ یہ خبر ’من گھڑت اور فرضی‘ ہے اور اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں خفیہ ایجنسیوں کے عہدیداران پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔

صحافی شاہد میتلا کے مطابق سابق آرمی چیف نے ایک سوال پر بتایا کہ ’درحقیقت ڈان لیکس کچھ بھی نہیں تھیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’لیکن جب کبھی میں ان سے، جونیئر افسران سے ملتا تھا تو اس (تنازع) حوالے سے پوچھا جاتا تھا، اس کے بعد میں نے اس وقت کے وزیر داخلہ چوہدری نثار اور وزیر خزانہ اسحٰق ڈار سے بات کی اور تجویز دی کہ وہ ڈان لیکس کے معاملے میں مبینہ طور پر ملوث صحافیوں کا کیس سی پی این ای کو بھیج دیں کیونکہ میں اس چھتے پر ہاتھ نہیں ڈالنا چاہتا تھا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’دیگر کے خلاف انتظامی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا تھا، نواز شریف پرویز رشید کے حوالے سے راضی نہیں تھے لیکن آخر میں اتفاق کرلیا تھا، پھر یہ فیصلہ ہوا کہ پرویز رشید اور طارق فاطمی کو برطرف کردیا جائے‘۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے نواز شریف سے ہونے والی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں سابق وزیراعظم نے میرے پیش رو جنرل راحیل شریف کے بارے میں بتایا کہ وہ سابق ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) آئی ایس آئی رضوان اختر کے ہمراہ تین سال کی توسیع پر زور دے رہے تھے۔

انٹرویو میں جنرل باجوہ کو یہ کہتے ہوئے رپورٹ کیا گیا کہ ’جب میں نے نواز شریف سے ڈان لیکس سے متعلق بات کی تو انہوں نے مجھے بتایا کہ جب بھی جنرل راحیل شریف اور جنرل رضوان اختر ان سے ملنے آتے تھے تو وہ جنرل راحیل شریف کو تین سال کی توسیع دینے پر زور دیتے تھے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’جنرل راحیل شریف کی موجودگی میں جنرل رضوان اختر سابق آرمی چیف کی تین سال کے لیے توسیع کی بات کرتے تھے لیکن ان کے پیچھے وہ صرف ایک سال کی بات کرتے تھے کیونکہ وہ خود کو جنرل راحیل شریف کے بعد آرمی چیف کے طور پر دیکھتے تھے‘۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے اس انٹرویو کی پہلی قسط شائع ہونے کے بعد کئی سینئر صحافیوں اور براڈ کاسٹرز نے جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ سے رابطہ کیا تھا اور انہوں نے سابق آرمی چیف کے دعوے سے متعلق بتایا کہ انہوں نے شاہد میتلا کو انٹرویو دینے کی تردید کردی ہے۔

اس سے قبل کہا گیا تھا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کئی سینئر صحافیوں سے نجی سطح پر گفتگو کر چکے ہیں، جن میں سے کئی صحافیوں نے سابق آرمی چیف کے ساتھ ان کی گفتگو شائع کی اور اس کی تردید بھی نہیں ہوئی تھی۔

مشہور خبریں۔

آنکارا اور تل ابیب کے تعلقات کا مطلب ترکی کا فلسطین کی حمایت سے گریز

?️ 11 اگست 2022سچ خبریں:     ترکی ان اسلامی ممالک میں سے ایک ہے جو

مڈغاسکر کے صدر آندری راجولینا نے عوامی احتجاج کے بعد حکومت کو تحلیل کر دیا ہے

?️ 30 ستمبر 2025مڈغاسکر کے صدر آندری راجولینا نے عوامی احتجاج کے بعد حکومت کو

یورو زون اور انگلینڈ میں افراط زر میں اضافہ جاری

?️ 20 اکتوبر 2022سچ خبریں:یوکرین میں جنگ اور روس کے خلاف پابندیوں کے براہ راست

امیرلی ترکمانستان میں حاج قاسم نے کیمرے کے لینز سے کیا دیکھا؟

?️ 30 دسمبر 2021سچ خبریں: حشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر نے مزاحمت کے دو عظیم کمانڈروں،

ٹک ٹاک گائیڈ لائنز تبدیل: ڈائٹ، ادویات، جنسی استحصال اور نفرت انگیز مواد پر پابندی

?️ 21 مئی 2024سچ خبریں: شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک نے اپنی کمیونٹی

حزب اللہ نے 4 اسرائیلی جاسوس ڈرون مار گرائے

?️ 23 اپریل 2026 سچ خبریں:لبنان کی عسکری تنظیم حزب اللہ نے ایک بیان میں

ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے ایک سال بعد امریکی خفیہ سرویس کی ناکامی پر سوالات

?️ 13 جولائی 2025 سچ خبریں:امریکی خفیہ سرویس نے پنسیلوانیا میں ٹرمپ کے انتخابی اجتماع

ایمنسٹی انٹرنیشنل: برطانیہ اسرائیل کو ہتھیاروں کی برآمدات فوری طور پر بند کرے

?️ 22 جولائی 2025سچ خبریں: ایمنسٹی انٹرنیشنل نے برطانیہ کی طرف سے غزہ سے متعلق

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے