زرمبادلہ ذخائر میں نمایاں کمی، اسٹیٹ بینک 14 ارب ڈالر کا ہدف حاصل نہیں کر سکے گا

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) زرمبادلہ کے ذخائر میں غیر معمولی کمی نے اسٹیٹ بینک کے لیے مالی سال 2025 کا 14 ارب ڈالر کا ہدف حاصل کرنا مشکل بنا دیا ہے، حکومتی قرضوں کی ادائیگیوں کے باعث ذخائر تین سال کی کم ترین سطح پر آ گئے ہیں، جس پر ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے زرمبادلہ کے ذخائر ایک ہفتے کے دوران 2 ارب 70 کروڑ ڈالر کی نمایاں کمی کے بعد تین سال کی کم ترین سطح پر آگئے ہیں، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ مالی سال 25-2024 کے لیے مقررہ 14 ارب ڈالر کا ہدف حاصل نہیں کیا جا سکے گا۔

ایس بی پی نے رپورٹ کیا کہ 20 جون کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران اُس کے ذخائر 2 ارب 65 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی کمی کے بعد 9 ارب 6 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہ گئے، جس کی بڑی وجہ حکومت کی جانب سے بیرونی قرضوں، خاص طور پر کمرشل قرضوں کی ادائیگیاں تھیں، اس کے مقابلے میں مالی سال 2022 میں ذخائر 9 ارب 80 کروڑ ڈالر تھے۔

یہ موجودہ مالی سال کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر میں سب سے بڑی ہفتہ وار کمی ہے، حالانکہ اس سال مجموعی کارکردگی گزشتہ دو سالوں کے مقابلے میں نسبتاً بہتر رہی ہے۔

آخری وقت پر کی جانے والی 2 ارب 70 کروڑ ڈالر کی ادائیگی نے بظاہر اسٹیٹ بینک کی تخمینہ کاری کو متاثر کیا ہے، اسٹیٹ بینک نے قبل ازیں مالی سال 2025 کے لیے ذخائر کا ہدف 13 ارب ڈالر سے بڑھا کر 14 ارب ڈالر کر دیا تھا۔

مالیاتی شعبے کے ماہرین کے مطابق حکومت شاید متوقع کمرشل قرضے رول اوور کروانے میں ناکام رہی ہے، جو کہ ماضی میں بالخصوص چینی بینکوں کے ساتھ کامیابی سے کیا جاتا رہا ہے، یا یہ ادائیگی تاخیر کا شکار تھی اور مزید تاخیر کی صورت میں بھاری جرمانے کا خطرہ تھا۔

ایک کرنسی ماہر نے کہا کہ یہ کمرشل مارکیٹ کے لیے حیران کن تھا، کیونکہ ہمیں معلوم نہیں تھا کہ مالی سال کے اختتام پر اتنی بڑی رقم کی ادائیگی واجب الادا ہے۔

تاہم، اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ اُسے 3 ارب 60 کروڑ ڈالر کے کمرشل قرضے موصول ہو چکے ہیں، جنہیں آئندہ ہفتہ وار ذخائر کی رپورٹ میں ظاہر کیا جائے گا۔

مرکزی بینک کے مطابق، موجودہ ہفتے کے دوران اسٹیٹ بینک کو حکومتِ پاکستان کی جانب سے 3 ارب 10 کروڑ ڈالر کے کمرشل قرضے اور 50 کروڑ ڈالر سے زائد ملٹی لیٹرل (کثیر فریقی) قرضے موصول ہوئے ہیں، یہ رقوم 27 جون 2025 کو ختم ہونے والے ہفتے کی رپورٹ میں ظاہر کی جائیں گی۔

تاہم، ان آمدنیوں کے باوجود، اسٹیٹ بینک 14 ارب ڈالر کا ہدف حاصل نہیں کر سکے گا۔

موجودہ ذخائر 9 ارب 6 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ہیں اور اگر 3 ارب 60 کروڑ ڈالر شامل کیے جائیں تو مجموعی ذخائر 12 ارب 66 کروڑ 40 لاکھ ڈالر بنتے ہیں، جو ہدف سے کم ہیں اور مالی سال ختم ہونے میں صرف چند دن باقی ہیں۔

پورے مالی سال 25-2024 کے دوران، اسٹیٹ بینک نے کرنسی مارکیٹ سے فعال طور پر ڈالرز خریدے ہیں، تاہم کرنسی ڈیلرز اس بات سے لاعلم ہیں کہ اسٹیٹ بینک نے سال بھر میں کل کتنے ڈالر خریدے۔

انٹربینک مارکیٹ کے ایک ڈیلر عاطف احمد کے مطابق، ممکن ہے کہ اسٹیٹ بینک نے 6 سے 8 ارب ڈالر خریدے ہوں تاکہ ذخائر کو آئی ایم ایف کے ہدف کے قریب رکھا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسٹیٹ بینک نے بینکاری شعبے میں ڈالر کی فروخت پر سخت کنٹرول رکھا ہوا ہے، مارکیٹ میں درآمد کنندگان کے لیے ڈالر کی قلت ہے کیونکہ اسٹیٹ بینک زیادہ حصہ خود لے رہا ہے۔

دوسری جانب، ترسیلات زر میں اضافہ جاری ہے اور بینکاروں کا اندازہ ہے کہ مالی سال 25-2024 میں مجموعی ترسیلات کی آمد ریکارڈ 38 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گی۔

20 جون تک ملک کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر 14 ارب 39 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تھے، جن میں سے 5 ارب 33 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کمرشل بینکوں کے پاس موجود تھے۔

مشہور خبریں۔

ہالینڈ کے مسلمانوں کا قرآن پاک کی بے حرمتی کے خلاف مظاہرہ

?️ 27 اگست 2023سچ خبریں: قرآن پاک کی بے حرمتی پر ہالینڈ کے مسلمانوں نے

عبداللہ ثانی نے جولانی سے کیا کہا؟

?️ 27 فروری 2025 سچ خبریں: شام کے عبوری دور کے سربراہ احمد الشرع جولانی

ترکی میں کارکنوں کی تنخواہوں میں 30 فیصد اضافہ

?️ 25 دسمبر 2024سچ خبریں: ترکی کی حکومت نے منگل کے روز اعلان کیا کہ

ایران روس بڑھتے تعلقات سے امریکہ کو تشویش

?️ 24 جولائی 2022سچ خبریں:امریکہ کا کہنا ہے کہ ہم مشرق وسطی سے نہیں نکلیں

اسلام آباد ہائیکورٹ: بلوچ لاپتا طلبہ کی بازیابی کیلئے وفاقی حکومت کو 13 فروری تک کی ڈیڈ لائن

?️ 13 جنوری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے بلوچ لاپتا طلبہ کی

ملتان کا ایک ائیرپورٹ بین الاقوامی ائیر پورٹ بن گیا

?️ 21 جولائی 2021ملتان (سچ خبریں)پاکستان کا ایک اور ائیرپورٹ بین الاقوامی معیار کا ائیرپورٹ

پاکستان کا مصنوعی ذہانت کے اخلاقی استعمال کیلئے ’بائنڈنگ‘ فریم ورک کا مطالبہ

?️ 25 نومبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) سیکریٹری خارجہ سائرس قاضی نے مصنوعی ذہانت اور

کیا اسرائیل اور شام کی جنگ ہو سکتی ہے؟ نیتن یاہو کا بیان

?️ 16 دسمبر 2024سچ خبریں:صیہونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے