ریویو ایکٹ کے خلاف کیس مضبوط نہ ہوا تو آئندہ لائحہ عمل طے کریں گے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ میں پنجاب میں انتخابات کرانے کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی نظرِثانی درخواست اور ریویو آرڈرز اینڈ ججمنٹس ایکٹ کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ریویو ایکٹ کے خلاف کیس مضبوط نہ ہوا تو آئندہ لائحہ عمل طے کریں گے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے دائر نظرِثانی درخواست پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

سماعت کے آغاز پر الیکشن کمیشن کے وکیل ریاض حنیف راہی ایڈووکیٹ روسٹرم پر آگئے اور عدالت سے مخاطب ہوکر کہا کہ عدالت سے گزارش ہے کہ میری درخواست بھی سن لے۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ عدالت پہلے نظر ثانی قانون پر دلائل سنے گی، ہم نے دونوں کیس ایک ساتھ مقرر کیے تھے، اگر قانون کے خلاف کیس مضبوط نہ ہوا توآئندہ لائحہ عمل طے کریں گے، اس پر ریاض حنیف راہی ایڈووکیٹ نے کہا کہ نظر ثانی قانون کے خلاف درخواستوں پر فیصلے تک ہماری درخواستیں زیر التوا رکھی جائیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ شاید یہ توقع کر رہے ہیں کہ ہم اس قانون پر بھی حکم امتناع دیں، ایک کے بعد ایک کیس میں قانون پر حکم امتناع تو ممکن نہیں، درخواست گزار زمان وردگ نے کہا کہ ری ویو ایکٹ میں بھی پریکٹس اینڈ پروسیجر والے ہیں، ری ویو اینڈ ججمنٹ ایکٹ پر بھی حکم امتناع دیا جائے، ریویو اینڈ ججمنٹ آرڈر قانون کو معطل کر کے 8 رکنی بینچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم بار بار قانون کو معطل نہیں کر سکتے، ہم نے پہلے ایک قانون کو معطل کیا دوسرے کو معطل نہیں کرسکتے۔

درخواست گزار نے کہا کہ سپریم کورٹ رولز اینڈ پروسیجر اور ریویو اینڈ ججمنٹ آرڈر کی شقوں میں مماثلت ہے، اس پر جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ آپ بتائیں کس اصول کے تحت ریویو اینڈ ججمنٹ آرڈر کو معطل کریں۔

درخواست گزار نے کہا کہ سپریم کورٹ ریویو اینڈ ججمنٹ آرڈر آئین کے آرٹیکل 10 سے متصادم ہے، اس پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ اگر ایک قانون آئینی شقوں سے متصادم ہے تو ہرگز یہ قرار نہیں دیا سکتا کہ دوسرا قانون بھی خلاف قانون ہے، 2 قوانین میں مطابقت ہونا بالکل الگ بات ہے، قوانین میں مطابقت ہونا خلاف ورزی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ بتائیں پھر دونوں قوانین میں کیا یکساں ہے؟ درخواست گزار نے کہا کہ ریویو ایکٹ آرٹیکل 10 اے کے خلاف ہے، ریویو عدلیہ کی آزادی میں بھی مداخلت ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ اور ریویو ایکٹ کا مقصد ایک ہی ہے۔

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ دونوں قوانین الگ الگ دائرہ اختیار سے متعلق ہیں، اس پر درخواست گزار نے کہا کہ محض قانون سازی سے سپریم کورٹ میں اپیل کا حق دینا خلاف آئین ہے۔

دریں اثنا عدالت نے پی ٹی آئی کی جانب سے ریویو ایکٹ کیس میں فریق بننے کی درخوست منظور کرلی، دوران سماعت بیرسٹر علی ظفر روسٹرم پر آگئے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ نے یہ درخواستیں کس کی جانب سے دائر کیں؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ درخواست پی ٹی آئی کے رہنما عمر ایوب نے دائر کی ہے، سپریم کورٹ کے پاس اختیار ہے کہ فیصلوں پر نظر ثانی کرسکتی ہے، آرٹیکل 188 میں ریویو کا ذکر ہے، ری ویو کا کیا مطلب ہوتا ہے یہ واضح ہے، اس ضمن میں 1956 کے آئین میں بھی وہی لینگویج استعمال ہوئی جو 1973کے آئین میں ہے۔

بیرسٹر علی ظفر نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حتمی ہونے کا ایک تصور موجود ہے، نظرثانی میں شواہد دوبارہ نہیں دیکھے جاتے، نظرثانی کا دائرہ اختیار اپیل جیسا نہیں ہوسکتا، نظرثانی صرف اس لیے ہوتی ہےکہ سابقہ فیصلے میں کوئی غلطی نہ ہو، جسٹس دراب پٹیل، جسٹس فخر الدین جی ابراہیم جیسے ججز اس پر فیصلے دے چکے ہیں، یہ سب ہیوی ویٹ ججز تھے جو بہت کلیئر تھے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 188 ایکٹ آف پارلیمنٹ کی بھی بات کرتا ہے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ نظر ثانی اور اپیل 2 الگ الگ دائرہ اختیار ہیں، آئین سپریم کورٹ فیصلے کے خلاف اپیل کا نہیں کہتا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ نظر ثانی کا اسکوپ اپیل جیسا ہو گا، بیرسٹر علی ظفر نے آرٹیکل 175 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 175 میں عدالتوں سے متعلق وضاحت موجود ہے، آرٹیکل 142 قانون سازی کو آئین سے مشروط کرتا ہے، کسی معاملے پر مجلس شوریٰ آئین کے مطابق قانون سازی کر سکتی ہے، کوئی بھی قانون بنیادی آئین کی خلاف ورزی میں نہیں بنایا جاسکتا۔

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 188 کو ایکٹ آف پارلیمنٹ سے مشروط کیا گیا، کیا ایکٹ کے ذریعے نظرثانی کی محض نوعیت نہیں بدلی گئی؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ نئے ایکٹ سے نظر ثانی کو اپیل جیسا اختیار دیا گیا ہے۔

جسٹس منیب اختر نے استفسار دیا کہ کل فُل کورٹ رولز بدل دے تو کیا ہوگا؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ رولز کو بھی آئین پر فوقیت حاصل نہیں ہوگی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اپیل اور نظر ثانی میں بہت فرق ہے، اب ایکٹ سے اپیل اور نظر ثانی کو یکساں کردیا گیا ہے، کیا اب اس اپیل کے خلاف بھی نظر ثانی میں جانے کا آپشن ہوگا؟

جسٹس اعجاز الاحسن نے بیرسٹر علی ظفر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو یہی مطمئن کرنا ہوگا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ایسے ہی قوانین بنتے رہے تو کیا پتا کل سیکنڈ اپیل کا قانون آجائے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بھارت میں اِن چیمبر کیوریٹو لگایا گیا ہے، بھارت میں یہ ریویو 2 گراؤنڈز پر ہوتا ہے، ہمارے یہاں ریویو ایکٹ میں آرٹیکل 187 بھی شامل ہوتا تو اچھا نہیں تھا، آپ کو نہیں لگتا یہ معاملات جلد بازی کے بجائے تحمل سے دیکھے جائیں۔

دریں اثنا سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی، ری ویو ایکٹ کے خلاف وکلا کے دلائل کل بھی جاری رہیں گے۔

یاد رہے کہ 7 جون کو ہونے والی گزشتہ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے پنجاب میں انتخابات کرانے کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی نظرِثانی درخواست اور ریویو آرڈرز اینڈ ججمنٹس ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر ایک ساتھ سماعت کا فیصلہ کیا تھا۔

مشہور خبریں۔

لیول پلیئنگ فیلڈ تو کیا ہمیں فیلڈ ہی نہیں دی گئی، بلا چھین لیا گیا، بیرسٹر گوہر

?️ 28 جنوری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر نے

صیہونی حکومت نے غزہ میں بھاری قیمت چکائی

?️ 6 دسمبر 2023سچ خبریں:صیہونی جنگی کابینہ کی مشترکہ پریس کانفرنس نیتن یاہو اور موجودہ

دنیا کا سب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والا ڈرون

?️ 7 ستمبر 2022سچ خبریں:دنیا کا سب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والا ڈرون

امریکی انٹیلی جنس کی ابتدائی تشخیص: ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے ناکام ہو گئے

?️ 25 جون 2025سچ خبریں: امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک سی این این نے اطلاع

نیتن یاہو کے شیطانی گروہ سے تمام اسرائیلی پریشان

?️ 13 اکتوبر 2024سچ خبریں: عبرانی اخبار Ha’aretz نے مشہور صہیونی مصنف تسوی بریل کے

آنے والے سالوں میں ملک کو سیاحت سے ہونے والی آمدنی

?️ 7 جولائی 2024سچ خبریں: پاکستان میں سیاحت کے فروغ سے حاصل ہونے والی آمدنی

خیبرپختونخوا میں طوفان اور بارش نے تباہی مچادی، 5 افراد ہلاک

?️ 29 مئی 2025پشاور (سچ خبریں) خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں طوفان اور موسلادھار بارش

امریکہ میں 237,000 سرکاری ملازمین کی ذاتی معلومات کا افشاء

?️ 15 مئی 2023سچ خبریں:باخبر ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ امریکی ٹرانسپورٹیشن سیکٹر میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے