ریئل اسٹیٹ بروکرز، بلڈرز کو ٹیکس دائرہ کار میں لایا جائے گا:مفتاح اسماعیل

?️

اسلام آباد(سچ خبریں)وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ریسٹورنٹس، بلڈرز اور ریئل اسٹیٹ بروکرز کو آئند چند کے اندر ’مشاورت کے ساتھ‘ ٹیکس کے دائرہ کار میں لائیں گے۔

چھوٹے کاروبار کرنے والوں اور تاجروں پر فکسڈ ماہانہ ٹیکس لگانے سے متعلق ایک ٹوئٹ کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ وہ صرف ’بہت سی جنگیں‘ لڑ سکتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ہم (آہستہ سے) لاکھوں دکان داروں کو ٹیکس نیٹ میں لارہے ہیں، میں جیولرز کو ٹیکس نیٹ میں لایا ہوں اور یقین دلاتا ہوں کہ آئندہ چند ماہ میں ان تمام پروفیشنل افراد کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لاؤں گا جن کا آپ نے ذکر کیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ انہوں نے چھوٹے دکانداروں اور جیولرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ان کی ایسوسی ایشن سے بات کی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’اب میں ریئل اسٹیٹ بروکرز، بلڈرز، ہاؤسنگ سوسائٹی ڈویلپرز، کار ڈیلرز، ریسٹورنٹس، سلونز وغیرہ کو ٹیکس نیٹ میں لاؤں گا لیکن کچھ بھی زور زبردستی نہیں بلکہ مشاوت سے کیا جائے گا۔

مفتاح اسمٰعیل کے وزیر اعظم کے مشیر برائے اصلاحات سلمان صوفی نے بھی ٹوئٹ کر کے تصدیق کی کہ وزیراعظم اب ریئل اسٹیٹ، بلڈرز، ہاؤسنگ سوسائٹی ڈویلپرز اور مزید کو ٹیکس دائرہ کار میں لانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ کام بتدریج اور مفتاح اسٰعیل کے ساتھ ان کے نمائندوں کی مشاورت سے کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز حکومت نے صنعتوں اور افراد پر نئے ٹیکس لگانے کا اعلان کیا تھا۔

قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے ٹیکس دائرہ کار سے باہر چھوٹے دکانداروں پر 3 ہزار روپے اور بڑے دکانداروں پر 10 ہزار روپے ماہانہ ٹیکس عائد کرنے کا کہا تھا۔

اس کے علاوہ سونے کا کاروبار کرنے والے دکاندار جن کی دکان کا رقبہ 300 مربع فٹ یا کم ہو ان کے لیے ٹیکس 50 ہزار روپے سے کم کر کے 40 ہزار روپے جبکہ بڑے دکانداروں کے لیے سیلز ٹیکس 17 فیصد سے کم کر کے 3 فیصد کردیا گیا۔

اس کے علاوہ کسی شخص کے سونار کو سونا فروخت کرنے پر ود ہولڈنگ ٹیکس 4 فیصد سے کم کر کے ایک فیصد کردیا گیا اور ریئل اسٹیٹ کا کاروبار کرنے والوں، بلڈرز اور کار ڈیلرز کے بھی اسی طرح کی اسکیم کا اعلان کیا گیا۔

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے بڑی صنعتوں پر 10 فیصد ’سپر ٹیکس‘ لگانے کا اعلان کیا تھا تا کہ مہنگائی کے سبب غریب طبقے کو بچاتے ہوئے ریونیو اکٹھا کیا جاسکے۔

جن 13 صنعتوں پر ٹیکس لگایا جارہا ہے ان میں سیمنٹ اسٹیل، چینی، تیل اور گیس، کھاد، ایل این جی ٹرمینلز، ٹیکسٹائل، بینکنگ، آٹو موبائل، سگریٹس، مشروبات، کیمیکلز اور ایئرلائنز شامل ہیں۔

مشہور خبریں۔

آل سعود کی جیلوں میں تشدد کی چونکا دینے والی تفصیلات

?️ 15 ستمبر 2022سچ خبریں:سعودی عرب کے ایک سابق سکیورٹی افسر نے آل سعود کی

پاکستانی قیادت افغانستان میں امن کی خواہاں ہے: فواد چوہدری

?️ 30 جولائی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر اطللاعات فوادچوہدری کا کہنا ہے کہ

امریکی کانگریس کے درجنوں ارکان نے ایک بار پھر سینچری ڈیل ختم کرنے کا مطالبہ کردیا

?️ 2 جولائی 2021واشنگٹن (سچ خبریں) امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 28 جنوری

حکام نے ٹیکس نیٹ میں مزید 15 لاکھ افراد کو شامل کرنے کے منصوبے سے آئی ایم ایف کو آگاہ کردیا

?️ 12 نومبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان کی ٹیکس اتھارٹی کے اعلیٰ حکام نے

ایران اور چین مغرب کی حمایت پر بھروسہ نہیں کرتے:پاکستانی دانشور

?️ 16 فروری 2023سچ خبریں:پاکستانی تھنک ٹینک پیس اسٹڈیز اینڈ فارن پالیسی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر

اگلے ہفتے تک منی بحٹ لائیں گے

?️ 24 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں)  تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل سماء

عرب سربراہی اہم اجلاس میں سعودیوں کی معنی خیز غیر موجودگی

?️ 25 اگست 2022سچ خبریں:مصر کی میزبانی میں”عرب اتحاد” کے موضوع پر ہونے والے سربراہی

زیلینسکی اور پوٹن کے درمیان جلد ملاقات متوقع

?️ 21 اگست 2025سچ خبریں: صدر فرانس ایمانوئل مکرون کا کہنا ہے کہ انہیں توقع

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے