دریائے ستلج میں ہیڈ اسلام اور گنڈا سنگھ کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب برقرار

?️

لاہور: (سچ خبریں) پنجاب کے صوبائی ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے کہا ہے کہ دریائے ستلج میں ہیڈ اسلام اور گنڈا سنگھ کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے جہاں مختلف علاقوں سے 970 افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے۔

ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق ہیڈ اسلام کے مقام پر پانی کی سطح کمی ہو رہی ہے جہاں پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 35 ہزار کیوسک ہے۔

ترجمان پی ڈی ایم اے کے گنڈا سنگھ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 22 ہزار کیوسک ہے جبکہ سلیمانکی مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ سلیمانکی کے مقام پر پانی کی آمد 1 لاکھ 2 ہزار کیوسک اور اخراج 89 ہزار کیوسک ہے اور دریائے سندھ میں چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ دریائے چناب، راوی اور جہلم میں پانی کا بہاؤ نارمل ہے اور دریاؤں، براجز، ڈیمز اور نالہ جات میں پانی کے بہاؤ کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہری دریاؤں ندی نالوں میں نہانے اور سیر و تفریح سے گریز کریں۔

ترجمان نے کہا کہ دریائے ستلج میں طغیانی کم ہونے لگی ہے، پی ڈی ایم اے کی صورتحال کی کڑی نگرانی جاری ہے اور متاثرہ اضلاع میں بھرپور ریلیف اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 3 روز میں 100 سے زائد دیہاتوں میں سیلابی صورتحال میں بہتری رپورٹ ہوئی۔

ترجمان نے کہا کہ 23 سے 26 اگست کے دوران متاثرہ اضلاع میں بھرپور ریلیف اقدامات اٹھائے گئے۔

ترجمان پی ڈی ایم پی ڈی ایم اے نے مزید کہا کہ بہاولنگر، قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، لودھراں، ویہاڑی اور بہاولپور میں 970 افراد کو ریسکیو کیا گیا اور مذکورہ اضلاع میں قائم میڈیکل کیمپوں سے 32 ہزار لوگوں نے استفادہ کیا۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق متاثرہ اضلاع میں 175 ریلیف کیمپس لوگوں کی امداد میں پیش پیش رہے اور سیلاب سے متاثرہ تین سو خاندانوں میں راشن تقسیم کیا گیا ہے جبکہ مذکورہ اضلاع میں 21 ہزار سے زائد مویشیوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔

ترجمان کے مطابق 480 دیہات متاثر ہیں جو کہ گزشتہ ہفتے سے کہیں کم ہیں.

ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے کہا کہ معمولات زندگی بحال ہو رہی ہے، نقل و مکانی کرنے والوں کی جلد واپسی ہوگی، سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں ۔

ریلیف کمشنر پنجاب نے کہا کہ نگران وزیر اعلیٰ کی ہدایات کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اولین ترجیح ہے، انتظامی افسران ہمہ وقت فیلڈ میں موجود رہیں اور کوتاہی یا غیر ذمہ داری ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔

ترجمان ریکسیو 1122 فاروق احمد کے مطابق سیلابی علاقہ جات میں ریسکیو 1122 کی 425 ریسکیو بوٹ، 1660 ریسکیور ایمرجنسی سروسز فراہم کر رہے ہیں اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں 6725 لوگوں کا انخلا، 937 افراد کی ٹرانسپورٹیشن اور 1021 مویشیوں کو محفوظ مقام پہ منتقل کیا گیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ قصور میں 1562 لوگوں کا انخلا اور 288 افراد کی ٹرانسپورٹیشن اور 25 جانوروں کو منتقل کیا گیا، اوکاڑہ میں 93 لوگوں کا انخلا اور 402 افراد کی ٹرانسپورٹیشن کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ پاکپتن میں 1460 لوگوں کا محفوظ انخلا اور 24 جانوروں کو محفوظ جگہ پہ منتقل کیا گیا ہے، اسی طرح بہاولنگر میں 607 لوگوں کا انخلا 159 کی ٹرانسپورٹیشن اور 76 جانوروں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔

فاروق احمد نے مزید کہا کہ وہاڑی میں 1840 لوگوں کا محفوظ انخلا اور 211جانوروں کو محفوظ مقام پہ منتقل کیا گیا، سیلابی علاقہ جات میں ریسکیو 1122 کی خصوصی ٹیمیں متعین ہیں اور قریبی اضلاع بیک اپ کے لیے تیار ہیں۔

مشہور خبریں۔

عمان کے ساحل کے قریب امریکی حملے میں بھارتی تیل بردار جہاز کے 3 ملاح ہلاک

?️ 11 جون 2026سچ خبریں:بھارت کے وزیر جہاز رانی نے ایک بیان میں عمان کے

کراچی سے ’را‘ کا خفیہ نیٹ ورک پکڑا گیا، شہر میں سیف ہاؤس کی موجودگی کا انکشاف

?️ 23 اگست 2025کراچی: (سچ خبریں) کراچی سے بھارت کی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالائسس

امریکی فوجی اتحاد کامیاب ہے یا مزاحمت؟

?️ 22 دسمبر 2023سچ خبریں:15 اکتوبر کو الاقصی طوفان آپریشن کے آغاز سے ہی چار

حزب اللہ کے حامیوں کے خلاف سعودی عرب کی دشمنانہ کاروائی

?️ 29 اکتوبر 2021سچ خبریں:سعودی عرب نے ایک دشمنانہ اقدام میں لبنان کی القرض الحسن

معاہدے کے بعد ایران اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کی دوسری ملاقات

?️ 3 جون 2023سچ خبریں:حسین امیرعبداللہیان اور فیصل بن فرحان، جو کہ برکس فرینڈز سمٹ

جنگ بندی کے حوالے سے حزب اللہ کے 3 اصول کیا ہیں ؟

?️ 19 نومبر 2024سچ خبریں: لبنان میں جنگ بندی کی تجویز کی تحقیقات اور جواب

بھارتی دعوے مسترد، پاکستان نے جنگ بندی کی درخواست نہیں کی تھی ، دفتر خارجہ

?️ 21 جون 2025اسلا م آباد: (سچ خبریں) دفتر خارجہ نے بھارتی میڈیا کے اس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے