خوشی ہوئی کہ اس بار دونوں اہم عہدے پسماندہ علاقے کو ملے:وزیر اعظم

وزیر اعظم

?️

اسلام آباد(سچ خبریں) مرزا محمد آفریدی  اور صادق سنجرانی کی کی کامیابی کے بعد وزیراعظم عمران خان نے ایوان بالا کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخابات میں حکومتی اتحاد کے امیدواروں کی کامیابی پر انہیں مبارک باد دی ہے اور کہا ہے کہ خوشی ہوئی کہ اس بار دونوں عہدے پسماندہ اور ماضی میں پیچھے رہ جانے والے علاقوں کو ملے ہیں۔

مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے سینیٹ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخابات میں کامیابی پر صادق سنجرانی اور مرزا محمد آفریدی کو مبارک باد دی۔

عمران خان نے لکھا کہ مجھے خوشی ہے کہ پاکستان کے پسماندہ اور ماضی میں پیچھے رہ جانے والے علاقوں کی قومی دھارے میں شمولیت کی میری حکمت عملی کے تحت یہ دونوں اہم عہدے بلوچستان اور سابق فاٹا کو میسر آئے۔

واضح رہے کہ 12 مارچ کو ایوان بالا میں عددی اکثریت کے باوجود اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدواروں کو چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب پر شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لیے ایوان بالا کے 98 اراکین نے ووٹ دیئے تھے، حکومتی اتحاد کے چیئرمین سینیٹ کے امیدوار صادق سنجرانی کو 48 ووٹ ملے تھے جبکہ ان کے مد مقابل یوسف رضا گیلانی کو 42 ووٹ ملے تھے اور ان کو ملنے والے 7 ووٹوں کو مسترد کردیا گیا جبکہ ایک ووٹ دونوں اُمیدواروں کے لیے نشان زدہ ہونے پر مسترد ہوا تھا۔

علاوہ ازیں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی نشست کے لیے حکومتی امیدوار مرزا محمد آفریدی کو 54 ووٹ ملے تھے جبکہ اپوزیشن کے عبدالغفور حیدری کو 44 ووٹ ملے تھے اور کوئی بھی ووٹ مستر نہیں ہوا تھا۔

اگر ان دونوں حکومتی امیدواروں کی بات کی جائے تو صادق سنجرانی ملکی تاریخ میں ایوان بالا کے مسلسل دوسری بار منتخب ہونے والے چئرمین ہیں جن کا تعلق صوبہ بلوچستان سے ہے۔

وہ 14 اپریل 1978 کو بلوچستان کے قیمتی معدنیات سے مالامال ضلع چاغی میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم آبائی علاقے نوکنڈی سے حاصل کی اور مزید تعلیم کے لیے اسلام آباد منتقل ہوگئے جہاں سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔صادق سنجرانی کے والد خان محمد آصف سنجرانی کو ضلع چاغی کے قبائل میں نمایاں مقام حاصل ہے۔

خان محمد آصف سنجرانی کے سب بڑے بیٹے صادق سنجرانی نے سیاسی کیریئر کا آغاز پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے کیا اور 1998 میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کے معاون کے طور پر کام کیا اور 1999 میں جنرل مشرف کے مارشل لا تک اسی عہدے میں رہے۔

بعد ازاں وہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے قریب آئے اور پارٹی کے شکایات سیل کے انچارج مقرر ہوئے جہاں وہ پانچ سال تک عہدے میں رہے۔صادق سنجرانی بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ نواب ثنااللہ زہری کے ساتھ خصوصی اسسٹنٹ کے طور پر کام کرتے رہے۔

بلوچستان میں صوبائی حکومت کے خاتمے کے بعد سامنے آنے والے نئے اتحاد نے انہیں سینیٹر منتخب کیا جس کے بعد پی ٹی آئی اور پی پی پی سے مشاورت کے بعد چیئرمین سینیٹ کا امیدوار نامزد کیا اور ڈرامائی انداز میں پہلی مرتبہ ایوان میں آنے والے امیدوار چیئرمین سینیٹ منتخب ہوگئے۔

وہیں ڈپٹی چیئرمین منتخب ہونے والے مرزا محمد آفریدی سابق وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) سے تعلق رکھنے والے پہلے پارلیمنٹیرین ہیں جو پارلیمان میں اہم عہدے پر فائز ہوئے ہیں۔

قبائلی ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے مرزا آفریدی 2018 کے انتخابات میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے تھے، تاہم انتخابات کے بعد انہوں نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی تھی لیکن اس کے بعد وہ اسی سال پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں شامل ہوگئے تھے۔

آفریدی قبیلے کے ذیلی قبیلی سپاہ سے تعلق رکھنے والے مرزا آفریدی لاہور میں مقیم ایک بزنس ٹائیکون ہیں جن کی ٹیکسٹائل اور الیکٹرانکس میں سرمایہ کاری ہے۔

مشہور خبریں۔

کشمیری عوام کے حقیقی نمائندوں کی شرکت کے بغیر مسئلہ کشمیر پر بلائی گئی میٹنگ عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی سازش

?️ 25 جون 2021سرینگر (سچ خبریں) مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے نریندر

وزیراعظم سمیت سیاسی رہنماؤں نے ہندوبرادری کو دیوالی کی مبارکباد پیش کی

?️ 4 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان سمیت دیگر متعدد سیاسی رہنماؤں

افغانستان سے دہشتگردوں کے داخل ہونے کا خدشہ ہے

?️ 5 جولائی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

یوروگوئے کو غزہ میں انسانی بحران کی سنگینی پر شدید تشویش

?️ 1 جولائی 2025 سچ خبریں:یوروگوئے کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں غزہ میں

70 ہزار سے زائد افراد نے شادی کی پیش کش کی، وینا ملک

?️ 4 نومبر 2024کراچی: (سچ خبریں) ماضی کی مقبول ماڈل و اداکارہ وینا ملک نے

فلسطینی مرکز: دامون جیل میں قید 90 فلسطینی خواتین انتہائی کٹھن حالات کا سامنا کر رہی ہیں

?️ 17 جون 2026سچ خبریں: فلسطینی قیدیوں کے دفاع کے مرکز نے اسرائیلی جیلوں میں

آئی ایم ایف کی تنقید کے درمیان حکومت کا ترقیاتی اخراجات میں کمی و دیگر اصلاحات کا عہد

?️ 12 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) آئی ایم ایف کی جانب سے خصوصی سرمایہ

کیا اسرائیل کو نئی کابینہ درکار ہے؟

?️ 15 اگست 2023سچ خبریں:مقبوضہ علاقوں میں حزب اختلاف کے اتحاد کے رہنما یائر لاپیڈ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے