خواہش ہے اچکزئی کو ووٹ دوں لیکن پارٹی کا فیصلہ واجب ہے ایسا نہ کروں: فضل الرحمان

🗓️

کراچی: (سچ خبریں) جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے صدارتی انتخاب  کے حوالے سے کہا ہے کہ میری خواہش ہے محمود اچکزئی کو ووٹ دوں لیکن پارٹی کا فیصلہ واجب ہے ایسا نہ کروں۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ جہاں اپوزیشن کی نشستیں ہونگیں ہم وہیں بیٹھیں گے، حماس کی قیادت سےملوں گا تو بین الاقوامی طاقتیں توناراض ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ جنہیں پتہ تھا میں ان کے مقابلےمیں صدارتی امیدواربنوں گا انہوں نےتجوریوں کےمنہ کھولے، میری خواہش ہے محمود اچکزئی کو ووٹ دوں لیکن پارٹی کا فیصلہ واجب ہےکہ ایسا نہ کروں، سیاست دانوں کو اپنی کمٹمنٹ رکھنی چاہیے۔

ان کا کہنا تھاکہ پی ٹی آئی سے متعلق جو مؤقف تھا وہ اب بھی ہے، ہم چاہتے ہیں ایسا ماحول بنے کے اختلافات دور ہو سکیں۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ الیکشن میں اسٹیبلشمنٹ نے اپنی ہی تقسیم کی ہے، کسی کو ایک جگہ اور کسی کو دوسری جگہ ایڈجسٹ کیا گیا، الیکشن پر جمعیت کا مؤقف وضاحت سے سامنے آیا، ہم نے الیکشن کے نتائج کو مسترد کیا ہے، وقت کے ساتھ جو شواہد سامنے آ رہے ہیں وہ ہمارے مؤقف کی تصدیق کر رہے ہیں، سمجھتے ہیں 2024 کے انتخابات میں 2018 میں دھاندلی کا ریکارڈ بھی توڑ دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ پارلیمنٹ دھاندلی کی پیداوار ہے، عوامی نمائندہ نہیں، اس پارلیمنٹ میں کچھ لوگ خود کو حکمران کہلائیں گے، جمہوریت اپنا مقدمہ ہار رہی ہے، پارلیمنٹ اپنی اہمیت کھو رہی ہے، کچھ لوگ حکمران کہلائیں گےجو قوم پر حکومت کریں گے لیکن دلوں پر نہیں، ہمارا کسی سے ذاتی جھگڑا نہیں کہ کسی کو منالیں گے۔

سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھاکہ ہمارا کسی سے ذاتی جھگڑا نہیں، ان حکمرانوں نے اقتدار کو طاقت سمجھ لیا، پیسے کی بنیاد پر سندھ اور بلوچستان اسمبلی خریدی گئی، ابھی تک گرینڈ الائنس کی فضا نہیں ہے، پی پی، ن لیگ کو 2018 والا مینڈیٹ ملا پھرتب دھاندلی کیوں تھی اب کیوں نہیں؟

ان کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس جو آیا ہے اس کا احترام کیا ہے، ہم پارلیمنٹ میں جائیں گے ، احتجاج کریں گے۔ 

خیال رہے کہ ملک میں قومی و صوبائی اسمبلیوں میں ہونے والے صدارتی انتخاب کے لیے حکومتی اتحاد کی طرف سے آصف زرداری اور اپوزیشن کی جانب سے محمود اچکزئی مدمقابل ہوں گے۔

9 مارچ کو صدارتی انتخاب کیلئے ملکی اسمبلیوں میں ووٹنگ ہوگی۔ محمود خان اچکزئی نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی تھی اور صدارتی انتخاب کیلئے حمایت مانگی تھی۔

مشہور خبریں۔

اسرائیل معاشی انتشار کی طرف بڑھ رہا ہے:صہیونی ماہر اقتصادیات

🗓️ 1 مئی 2023سچ خبریں:ایک صیہونی ماہر اقتصادیات نے صیہونی حکومت میں اقتصادی بحران اور

عمران خان کے جیل ٹرائل میں صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے 3 وکلا پر مشتمل کمیشن قائم

🗓️ 6 ستمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی

ایم کیوایم پاکستان کا سپریم کورٹ سے ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ

🗓️ 9 ستمبر 2022کراچی: (سچ خبریں)کراچی میں اسٹریٹ کرائمز میں خطرناک حد تک اضافے اور

سعودی عرب میں پھانسیوں کی تعداد دوگنی

🗓️ 17 اگست 2022سچ خبریں:ہیومن رائٹس واچ نے اعلان کیا کہ 2022 کے پہلے چھ

ازبکستان اور روس کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری پر دستخط

🗓️ 16 ستمبر 2022سچ خبریں:   ازبکستان کے صدر شوکت میرضیایف اور روس کے صدر ولادیمیر

اقربا پروری پر یقین نہیں رکھتی، ٹیلنٹ اپنی جگہ خود بناتا ہے، مسکان کادوانی

🗓️ 4 نومبر 2023کراچی: (سچ خبریں) معروف ہدایت کار اور اداکار عبداللہ کادوانی کی صاحبزادی

وزیر داخلہ کی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے ملاقات، امن و امان کی صورتحال پر گفتگو

🗓️ 28 مارچ 2024پشاور: (سچ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے وزیر اعلیٰ خیبر

یمن کے بارے میں امریکہ دنیا کو کیسے دھوکہ دے رہا ہے؟

🗓️ 19 جنوری 2024سچ خبریں: یمن میں حملے ضروری، متناسب اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے