حکومت کا آئی ایم ایف اجلاس سے قبل ٹیکس وصولی میں بہتری کیلئے اقدامات پر غور

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) معیشت کی سست رفتاری کے باعث حکومت کو ٹیکس وصولیوں میں کمی کا سامنا ہے اور ٹیکس کلیکشن میں کمی کو پورا کرنے کے لیے اضافی محصولات اکٹھا کرنے کی مشکل سے دوچار ہے تاکہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو (ای ایف ایف) ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی کے تحت جاری 9ویں جائزے کی تکمیل کے لیے میز پر لایا جا سکے اور دیگر عالمی قرض دہندگان سے بھی زرمبادلہ کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

اس سلسلے میں وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے گورنر جمیل احمد سے ملاقات کی جس میں زر مبادلہ کی شرح، مرکزی بینک اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے مقررہ ہدف سے زیادہ منافع سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ قومی سطح پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کے نفاذ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔

سمجھتا جاتا ہے کہ وزیر خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک کے درمیان ہونے والی ملاقات میں حالیہ مہینوں میں بینکوں کی جانب سے شرح مبادلہ میں ہیرا پھیری کرنے اور ان کے خلاف تادیبی کارروائیوں اور اصلاحات سے متعلق امور پر بھی بات چیت ہوئی۔

اسحٰق ڈار کی میٹنگ کے دوران صوبائی چیف سیکرٹریز نے ملک بھر میں جی ایس ٹی کو ہم آہنگ کرنے پر متفقہ طور اتفاق کیا، اس کے نفاذ سےایک ارب 40 کروڑ ڈالر کی غیر ملکی آمد کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور ہو جائیں گی۔

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول بات چیت اکتوبر کے آخری ہفتے میں طے تھی، پھر ان مذاکرات کا شیڈول آگے بڑھا کر 3 نومبر کردیا گیا تھا تاہم ٹیکس کلیکشن اور اخراجات میں بڑے خلا کی وجہ سے مذاکرات شیڈول کے مطابق شروع نہیں ہوسکے اور نہ ہی تاحال کوئی نئی تاریخیں طے کی گئیں۔

دیگر چیزوں کے علاوہ، آمند و اخراجات کا فرق بڑھ گیا ہے جب کہ بجٹ اور زرعی سپورٹ کے علاوہ برآمدی شعبوں کو 100 ارب روپے سے زیادہ کی اضافی سبسڈی دی گئی ہے، محصولات میں بھی کمی آئی ہے جب کہ اکتوبر میں وصولی کا ہدف حاصل نہیں ہوسکا جس کی وجہ درآمدات میں کمی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ وزیر خزانہ کو اسٹیٹ بینک سے وفاقی حکومت کا منافع بجٹ میں 300 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں تقریباً 371 ارب روپے تک بڑھنے کی توقع تھی، اسی طرح، حکومت نے پہلے ہی ہائی آکٹین بلینڈنگ کمپوننٹ (ایچ او بی سی) پر پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی میں 20 روپے فی لیٹر اضافے کی منظوری دے دی تھی اور اس سے یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کے لیے سبسڈی مختص کرنے پر بھی قابو پانے کی توقع تھی۔

یہ کچھ ایسے اقدامات ہیں جن سے مجموعی طور پر محصولات کی کمی پوری کی جاسکتی ہے جب کہ حکومت برآمد کنندگان اور کاشتکاروں کے لیے خصوصی پیکجز کو تبدیل کرنے کو سیاسی طور پر چیلنج سمجھتی ہے، خاص طور پر ایسے حالات میں جب کہ حالیہ تباہ کن سیلاب کی وجہ سے زرعی شعبے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

مشہور خبریں۔

امریکی قانون سازوں نے سرکاری ڈیوائسز میں ’ڈیپ سیک‘ پر پابندی کا بل پیش کردیا

?️ 8 فروری 2025سچ خبریں: امریکی قانون سازوں نے چینی مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس)

صیہونیوں کے ساتھ سازش خلیج فارس میں امن کے لیے خطرہ:ایرانی جنرل

?️ 20 اگست 2022سچ خبریں:ایرانی سپاہ پاسداران کی بحریہ ونگ کے کمانڈر کا کہنا ہے

جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے کی نئی صیہونی چال

?️ 22 اکتوبر 2025سچ خبریں: غزہ میں صیہونی فوج نے جنگ بندی کی خلاف ورزی

اے آئی چِپس بنانے والی ’این ویڈیا‘ دنیا کی پہلی 5 ٹریلین ڈالر مالیت والی کمپنی بن گئی

?️ 30 اکتوبر 2025سچ خبریں: مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی چِپس بنانے والی عالمی کمپنی

مقبوضہ مغربی کنارے میں بچوں کے لیے مہلک ترین سال

?️ 29 دسمبر 2023سچ خبریں:اقوام متحدہ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ یہ سال مقبوضہ

بالی ووڈ کی مشہور اداکارہ بھی کورونا کا شکار

?️ 1 فروری 2022ممبئی (سچ خبریں) 71بالی ووڈ کی مشہور اداکارہ شبانہ اعظمی بھی عالمی

ہم یوکرین پر قبضہ نہیں چاہتے:پوٹن

?️ 24 فروری 2022سچ خبریں:  روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے ایک بیان میں کہا کہ

انتخابی انسانیات؛ مغرب کو اخلاق کا ثالث کس نے بنایا؟

?️ 17 فروری 2026سچ خبریں:یورپی پارلیمنٹ کی حالیہ قراردادیں اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے