جوہری اثاثوں پر جو بائیڈن کا بیان، امریکی سفیر ڈیمارش کیلئے دفتر خارجہ طلب

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کے جوہری اثاثوں کے حوالے سے امریکی صدر جو بائیڈن کے بیان پر حکومت نے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کو آفیشل ڈیمارش کے لیے دفتر خارجہ طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدر بائیڈن نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کئی ممالک کے بارے میں بات کی اور اس دوران پاکستان کے حوالے سے بھی بیان دیا جس پر میری وزیراعظم سے بات ہوئی ہے اور ہم نے پاکستان میں امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کو ایک سرکاری ڈیمارش کے لیے دفتر خارجہ طلب کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جہاں تک پاکستان کے جوہری اثاثوں کی سیکیورٹی اور سیکیورٹی کا معاملہ ہے تو ہم نے عالمی جوہری ایجنسی کے تمام معیارات کو پورا کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر جوہری اثاثوں کی سیکیورٹی اور حفاظت کے حوالے سے سوالات تو ہمارے پڑوسی بھارت سے پوچھنے چاہئیں جس نے حال ہی میں حادثاتی طور پر پاکستانی سرزمین پر میزائل فائر کیا تھا جو ناصرف غیر ذمے دارانہ عمل اور انتہائی غیرمحفوظ ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ بھارت کی جوہری ہتھیاروں کی حفاظت کے حوالے سے قابلیت پر بھی سوالات اٹھاتا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ مجھے صدر بائیڈن کے بیان پر حیرانی ہوئی، میرا ماننا ہے کہ یہ محض غلط فہمی کی بنا پر ہوا ہے جو روابط کی کمی کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے لیکن خوش قسمتی سے اب ہم روابط کی بحالی کے سفر پر گامزن ہو چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حال ہی میں پاکستان امریکا کے دوطرفہ تعلقات کی 75ویں سالگرہ سیکریٹری اسٹیٹ کی سطح پر اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں منائی گئی تھی اور اگر اس حوالے سے کوئی تشویش تھی تو اس ملاقات میں مجھ سے یہ معاملہ اٹھایا جاتا۔

ان کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں ہم نے سفیر کو ڈیمارش کے لیے بلایا ہے، میرا خیال ہے کہ ہمیں انہیں اس موقف کی وضاحت کرنے کا موقع فراہم کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے یقین نہیں ہے کہ اس بیان سے پاکستان اور امریکا کے تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے، ہم اب تک روابط قائم کیے ہیں، اس کو مثبت انداز میں جاری رکھیں گے۔

 بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ پاکستان کا بائیڈن کے بیان سے کوئی تعلق نہیں ہے، ہم ان کے سفیر کو بلائیں گے اور ڈیمارش جاری کریں گے لیکن میں نہیں سمجھتا کہ یہ کوئی سرکاری تقریب تھی، نہ ہی یہ پارلیمنٹ سے خطاب یا انٹرویو تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک فنڈز اکٹھا کرنے کی تقریب تھی جس میں غیر روایتی گفتگو کی گئی اور اسی دوران یہ جملہ استعمال کیا گیا لہذا اسے اسی انداز میں دیکھنا چاہیے۔

بلاول  نے کہا کہ جہاں تک ہماری اقتصادی سفارت کاری کا تعلق ہے تو مجھے یاد ہے کہ جب آصف زرداری صدر تھے تو انہوں نے ہماری خارجہ پالیسی امداد نہیں تجارت پر مبنی تھی، ہم نے امریکا کے ساتھ روابط قائم کرنے کے ساتھ ساتھ چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو تاریخی سطح تک پہنچایا اور عشروں بعد روس کے ساتھ تعلقات بھی زرداری کے ذریعے ہی بحال ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے اسی پالیسی کو آگے چلانے اور اپنانے کی کوشش کی تھی لیکن وہ ناکام ہوئی اور بدقسمتی سے ان کی خارجہ پالیسی کے نتیجے میں ہمسایہ ممالک اور عرب ریاستوں میں اتحادیوں کے ساتھ ہمارے تعلقات کو نقصان پہنچا تھا جسے ہم درست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ہمیں اس کے لیے بہت محنت کرنا ہوگی۔

یاد رہے کہ جمعرات کو ڈیموکریٹک کانگریس کی مہم کمیٹی کے استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان میرے خیال میں شاید دنیا کی خطرناک ترین قوموں میں سے ایک ہے کیونکہ ان کے ’جوہری ہتھیار غیرمنظم ہیں‘۔

مشہور خبریں۔

 کیا امریکہ کو اسرائیل کے لبنان پر حملوں کا علم تھا ؟

?️ 24 ستمبر 2024سچ خبریں: پینٹاگون نے اعلان کیا کہ اسے لبنان پر حملہ کرنے

نئے ٹیکس لگانے کا معاملہ،حکومت نے منی بجٹ کیلئے آرڈیننس لانے کا فیصلہ کر لیا

?️ 13 فروری 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومت نے 170 ارب کے نئے ٹیکس لگانے

سعودی عرب کے لیے برے نتائج

?️ 4 دسمبر 2025سچ خبریں: یمن کے نائب وزیر خارجہ عبدالواحد ابوراس نے گزشتہ شب ویڈیو

یمنی مجاہدین نے عراقی مجاہدین سے کیا کہا؟

?️ 3 نومبر 2023سچ خبریں: یمن کی تحریک انصار اللہ کے سیاسی دفتر کے رکن

مرکاوا؛ اسرائیلی شکست کا نشان اور صیہونی فوج جنگ کی دلدل میں گرفتار

?️ 19 نومبر 2024سچ خبریں:اسرائیل کی مشہور جنگی مشین مرکاوا ٹینک، جو صیہونی فوج کا

پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام میں کوئی کٹوتی نہیں کی جائے گی، وزیراعلیٰ بلوچستان

?️ 18 اکتوبر 2022 بلوچستان:(سچ خبریں) وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے اراکین اسمبلی کو

شمالی کوریا کی امریکہ کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی شرط

?️ 26 فروری 2026 سچ خبریں:شمالی کوریا کے رہنما کیم جونگ اون نے جمعرات کی

امریکہ اور انگلینڈ یمن کی جنگ کیوں طول دینا چاہتے ہیں؟

?️ 7 اگست 2023سچ خبریں:یمن کی قومی نجات کی حکومت کے وزیر دفاع محمد ناصر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے