?️
اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف نے کہا ہے کہ پڑوسی ممالک سے برتاﺅ کی وجہ سے بھارت پورے خطے کے لیے ایک خطرہ بن چکا ہے اور دنیا جتنی جلدی آنکھیں کھول لے گی انہیں اس کا اندازہ ہو جائے گا. اسلام آباد میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے معید یوسف نے کہا کہ قومی سلامتی کے ہدف کا بنیادی مقصد پاکستانیوں کو زندگی گزارنے کے وسائل اور ذرائع فراہم کرنا ہے اور وہ خود کو محفوظ تصور کرے اور یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم ملک کو ریاست مدینہ کی طرز پر فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں.
انہوں نے کہا کہ ہماری تمام قیادت مستقل پاکستان کی سوچ کی جیو پولیٹیکل سے جیو اکنامک منظرنامے کی جانب منتقلی کی بات کرتی ہے جو دراصل ہماری سوچ میں تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے کیونکہ 70سال تک ہم یہ کہتے رہے کہ ہمارا جغرافیائی محل وقوع ہمارا سب سے اہم اسٹریٹیجک اثاثہ ہے لیکن ماضی میں اسی محل وقوع کی وجہ سے ہم عالمی جنگوں اور پراکسی جنگوں کے مرکز رہے ہیں اور گزشتہ 40سال سے افغانستان اس کی سب سے بہترین مثال ہے.
انہوں نے کہا کہ ہم یہ سوچ رہے ہیں کہ ہم اپنے اس جغرافیائی محل وقوع کو جیوپولیٹیکل سے جیو اکنامک محل وقوع کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں جس کے تین ستون ہیں جس میں پہلا کنیکٹیویٹی ہے، ہم جس جگہ بیٹھے ہیں وہاں سے ہم جنوب، شمال، مغربی دنیا اور مشرق سے خود کو مربوط رکھ سکتے ہیں اور پھر ہم اپنے اس محل وقوع کو استعمال کر سکتے ہیں. انہوں نے کہا کہ آپ نے وسط ایشیا کی جانب ہماری تیزی سے منتقلی کے عمل کا مشاہدہ کیا ہو گا، وزیر اعظم نے اس خطے میں تین سے چار اہم دورے بھی کیے ہیں کیونکہ وسط ایشیا گرم پانیوں سے ہوتا ہوا افغانستان کے ذریعے ہم سے منسلک ہوتا ہے جو وسط ایشیا کے لیے معاشی لحاظ سے سب سے موثر راستہ ہے.
انہوں نے کہا کہ اسی طرح سی پیک بھی اہمیت کا حامل ہے اور اس کا مقصد چین کو ان کی عالمی تجارت کے لیے ہمارے گرم پانیوں سے منسلک کرنا ہے اور پاکستان ٹرانزٹ کا علاقہ بن گیا ہے، سی پیک کے حوالے کافی باتیں کی گئیں لیکن اس کا مقصد زیادہ سے زیادہ انفرااسٹرکچر بنانا، توانائی کا حصول اور پاکستان سے ٹرانزٹ بنانا ہے. معید یوسف نے کہا کہ ہم اس رابطے کو مغرب تک بھی تو سیع دے سکتے ہیں لیکن بھارت میں حکومت کے رویے اور صورتحال کے سبب یہ راستہ بند ہو گیا ہے، مذکورہ حکومت کی ہندوتوا سوچ کے سبب ان کے ساتھ بات چیت کی گنجائش بہت کم رہ جاتی ہے لیکن یہ راستہ بھی آگے جا کر کبھی نہ کبھی کھل جائے گا.
انہوں نے کہا کہ دوسرا اہم ستون دنیا سے شراکت داریاں قائم کرنا ہے لیکن اس کا مطلب امداد نہیں ہے بلکہ اہم چیز یہ ہے کہ ہم ایکسپورٹ، تجارت، سرمایہ کاری، ایف بی آئی اور دیگر اہم چیزوں میں کس طرح سے پارٹنرشپ کر سکتے ہیں. انہوں نے کہا کہ ان سب کے لیے ہمیں ملک میں بھی کافی کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ دنیا میں جہاں کہیں بھی کم مزاحمت ہو گی، وہاں سرمایہ کار آئے گا اور ہمیں کوشش کرنی ہے کہ ہم اس پہلو میں بہتری لا سکیں انہوں نے ابتدائی دونوں پہلو اس وقت تک ممکن نہیں ہو سکتے جب تک ہم تیسرے ستون پر کام نہیں کرتے اور وہ اندرونی اور علاقائی امن و سلامتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ریاست کی رٹ قائم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر کوششیں کی جا رہی ہیں.
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے انسداد کے لیے 2007 سے اب تک پاکستان کی کاوشیں اور قربانیاں سب کے سامنے ہیں اور علاقائی طور پر افغانستان سب سے بہترین مثال ہے بلکہ حتیٰ کہ بھارت کی بھی مثال ہے کیونکہ ہم نے ان سے بات کرنے کی کوشش کی تھی کہ ہم کس طرح سے تعلقات میں پیشرفت کر سکتے ہیں لیکن بھارت میں جو کچھ ہو رہا ہے اور وہ جس راہ پر گامزن ہیں وہ بہت مایوس کن ہے.
مشیر قومی سلامتی نے کہا کہ دنیا جتنی جلدی آنکھیں کھول لے گی انہیں اتنی ہی جلدی اس بات کا اندازہ ہو جائے گا کہ بھارت جس طرح سے اپنے تمام پڑوسی ممالک سے برتاﺅ کررہا ہے تو وہ اب صحیح معنوں میں پورے خطے کے لیے ایک خطرہ بن چکا ہے. انہوں نے کہا کہ افغانستان اب اس تمام صورتحال کا مرکز ہے کیونکہ جب تک افغانستان میں استحکام نہیں ہو گا تو آپ ایک مربوط راہداری کیسے بنا سکیں گے جو وسط ایشیا کو ہمارے گرم پانیوں سے منسلک کر سکے لہٰذا افغانستان بہت اہمیت کا حامل ہے.


مشہور خبریں۔
250,000 فلسطینیوں کی موجودگی کے ساتھ مسجد اقصیٰ میں شب قدر کا احیاء
?️ 28 اپریل 2022سچ خبریں: صیہونی حکومت کی جانب سے رمضان المبارک کے مقدس مہینے
اپریل
صہیونی فوج کو گزرتے دن کے ساتھ اپنی طاقت کم ہونے کا اعتراف
?️ 24 جولائی 2024سچ خبریں: عبرانی زبان کے میڈیا نے بدھ کو اعتراف کیا کہ
جولائی
امریکہ کی جانب سے صیہونی حکومت کو بھاری مقدار میں اسلحہ بھیجنے پر انصار اللہ کا ردعمل!
?️ 15 اپریل 2025 سچ خبریں:یمن کی انصار اللہ تحریک کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے
اپریل
پاکستان کا ایک بار پھر امریکی جمہوریت کے اجلاس میں شرکت سے انکار
?️ 28 مارچ 2023سچ خبریں:حکومت پاکستان نے دوسری بار امریکی صدر کی میزبانی میں ورچوئل
مارچ
فوج کے ساتھ ہوئے اراضی کے معاہدے میں صدر کی منظوری درکار تھی، وکیل
?️ 31 مئی 2023لاہور:(سچ خبریں) لاہور ہائی کورٹ کو بتایا گیا ہے کہ بورڈ آف
مئی
غزہ کے لوگوں کو بے گھر کرنے کے لیے صہیونی وزیر کے طنز
?️ 31 دسمبر 2023سچ خبریں:ہمیں غزہ میں طویل عرصے تک رہنا چاہیے اور میں غزہ
دسمبر
وائٹ ہاؤس کو اسرائیل کے خلاف حملوں کی دو لہروں کی توقع
?️ 6 اگست 2024سچ خبریں: Axios نیوز ویب سائٹ نے امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ
اگست
ہمت کریں توامید کی روشنی یقین کا تمتماتا سورج بن جاتی ہے۔ مریم نواز
?️ 12 جولائی 2025لاہور (سچ خبریں) وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ ہمت
جولائی