?️
اسلام آباد(سچ خبریں)وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستانیوں کو غربت سے نکالنے اور معیشت کو فروغ دینے کے لیے اقتصادی ٹیم نے بڑی صنعتوں پر 10 فیصد ’سپر ٹیکس‘ لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ سپر ٹیکس ایک ایسا ٹیکس ہوتا ہے جو کسی بھی حکومت کی جانب سے اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے آمدن پر ایک اضافی طور پر لگایا جاتا ہے۔
معاشی ٹیم کے اجلاس کی صدارت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہم نے اہم فیصلے کیے ہیں، ان فیصلوں پر میں عوام کو اعتماد میں لینا اور حالات سے متعلق آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ آج جو فیصلے کیے گئے ان کے دو مقاصد ہیں، پہلا مقصد یہ ہے کہ پاکستان کے عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے کی پُر خلوص کوشش کی جائے اور مہنگائی کے بوجھ کے نتیجے میں کچھ آسودگی اور ریلیف عوام کو مہیا کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ دوسرا مقصد یہ ہے کہ یہ معیشت جو پچھلی حکومت کی نااہلی، نا تجربہ کاری اور کرپشن کی وجہ سے دیوالیہ ہونے جارہی تھی ان اقدامات کی مدد سے پاکستان اس دیوالیہ پن سے نکل جائے گا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ پچھلی حکومت میں کتنی کرپشن ہوئی ہے، اسی لیے میں نے کرپشن کا ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنا اور عوام کی محنت کے نتیجے میں خوشحالی کا انقلاب لانا چاہتے ہیں، یہ لفاظی نہیں ہے اور ایسا ہو کر رہے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ بجٹ اعلانات اور آئی ایم ایف سے مذاکرات میں پیش کی جانے والی کچھ شرائط مانی جاچکی ہیں، اگر ان کی طرف سے مزید شرائط نہ آئیں تو اُمید ہے کہ ہمارا معاہدہ طے پا جائے گا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ مخلوط حکومت نے پاکستان کو ان سنگین حالات سے نکالنے کے لیے جرأت مندانہ فیصلے کیے ہیں، اس سے یقیناً وقتی طور پر مشکلات آئیں گی لیکن پاکستان مشکلات سے نکل جائے گا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت سنبھالنے کے بعد ہمارے پاس دو راستے تھے ایک راستہ یہ تھا کہ ہم انتخابی اصلاحات کر کے انتخابات کا اعلان کردیں اور دوسرا راستہ یہ تھا کہ ہم مشکل فیصلے کیے جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ وقت سیاست کو نہیں ریاست کو بچانے کا ہے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم جرأت کے ساتھ آگے بڑھیں گے دن رات محنت کریں گے اور ہچکولے کھاتی معیشت کی کشتی کو پار لگائیں گے۔
شہباز شریف نے کہا کہ ہمارا یہ پہلا بجٹ ہے جس کا مقصد پاکستان کے عوام کو غیر معمولی سختیوں سے بچانا ہے، ہم نے جو اقدامات کیے ہیں ان کا مقصد غریبوں کے کندھوں سے بوجھ کو کم کرنا ہے اور ایسے طبقات جو یہ بوجھ برداشت کر سکتے ہیں ان سے مدد لینا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تاریخ گواہ ہے کہ ہر چیلنج اور مشکل حالات میں غریبوں نے قربانی دی ہے، آج صاحبِ حیثیت افراد کو اپنا حق ادا کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ میں ہم نے اقتصادی ویژن دیا ہے اور اس میں تمام پارٹیز کا تعاون شامل حال رہا ہے، یہ معاشی پالیسی پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے گی اور مہنگائی کے طوفان کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرے گی۔
شہباز شریف نے کہا کہ آج فیصلہ کیا ہے کہ بڑی صنعتوں پر ہم غربت کم کرنے کے لیے ٹیکس لگا رہے ہیں، ان میں سیمنٹ، اسٹیل، شوگر صنعت، تیل اور گیس، زراعت، بینکاری کی صنعت، آٹو موبائل کی صنعت، سیگریٹ مینو فیکچرنگ کی صنعت شامل ہے، ان پر 10 فیصد ٹیکس لگایا گیا ہے۔
سیگریٹ کی صنعت کا 60 فیصد سیکٹر ٹیکس ادا کرتا ہے جبکہ 40 فیصد ٹیکس نہیں دیتا یہ ریاست کا کام ہے کہ ٹیکس جمع کرے، اس فلسفے پر عمل کرنے والی قومیں جرأت سے آگے بڑھیں اور آج وہ آسمانوں سے باتیں کر رہی ہیں، لیکن ابھی تاخیر نہیں ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس کی کلیکشن کے لیے تمام ڈیجیٹل ٹولز کو بروئے کار لائیں گے، عام شہری کو ٹیکس کے بوجھ سے بچانے کے لیے ٹیکس جمع کیا جائے گا اور ٹیکس کے پیسے عوام پر استعمال کریں گے، اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو ہمیں قرض لینا پڑے گا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ آج ہمیں نفرتوں کی دیوار گرانی ہے اور ہم نے کانٹوں کو ختم کرنا ہے، یہ گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کے ذریعے ہی ممکن ہے، جب قوم اپنا میشن بنالی گی تو پاکستان کے حالات بدل جائیں گے۔
ٹیکس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ وہ افراد جو سالانہ 15 کروڑ روپے کماتے ہیں، ان کی آمدنی پر ایک فیصد ٹیکس لگایا جارہا ہے، وہ افراد جن کی آمدنی 20 کروڑ روپے ہے وہ 2 فیصد ٹیکس ادا کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ افراد جو 25 کروڑ سے زائد کما رہے ہیں ان پر 3 فیصد سے زائد ٹیکس لگایا جارہا ہے جبکہ 30 کروڑ روپے سے زائد کمانے والوں پر 4 فیصد سے زائد ٹیکس لگایا جارہا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ٹیکس کی رقم غریبوں کے فلاح و بہبود اور ترقیاتی کاموں پر خرچ کی جائے گی۔


مشہور خبریں۔
سعودی عرب کو صلح کے لیے اپنی سنجیدگی ثابت کرنا ہوگی
?️ 27 مارچ 2022سچ خبریں: یمنی نیشنل سالویشن گورنمنٹ کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ نے
مارچ
درجنوں امریکی تیل کمپنیاں وینزویلا میں داخل
?️ 13 فروری 2026 سچ خبریں: امریکی وزیر توانائی نے سی این این سے گفتگو
فروری
ایک براعظم سے دو انتخابی بیانیہ؛ برازیل بائیں اور ارجنٹینا دائیں کیوں گیا؟
?️ 2 نومبر 2025سچ خبریں: ارجنٹائن میں 26 اکتوبر 2025 کو منعقد ہونے والے پارلیمانی
نومبر
وزیراعظم ہاؤس کی سیکیورٹی بریچ ہوئی ہے، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ عمران خان
?️ 30 ستمبر 2022پشاور: (سچ خبریں) پی ٹی آئی کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم
ستمبر
زمینی جنگ میں 221 اسائیلی فوجی ہلاک
?️ 23 جنوری 2024سچ خبریں:اسرائیلی فوج نے غزہ کے خلاف زمینی جنگ میں 221 فوجیوں
جنوری
امریکیوں کا ٹیکس انسانی حقوق کے مجرم اسرائیل کو نہیں ملنا چاہیے:امریکی رکن کانگریس
?️ 1 مارچ 2023سچ خبریں:امریکی کانگریس کی رکن الہان عمر نے مغربی کنارے میں حوارہ
مارچ
ڈاکٹر عامر لیاقت حسین 49 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
?️ 9 جون 2022کراچی(سچ خبریں)رکن قومی اسمبلی اور معروف ٹی وی اینکر ڈاکٹر عامر لیاقت
جون
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی ردوبدل کا امکان
?️ 31 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی
دسمبر