?️
اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) غیر قانونی کرنسی کے کاروبار کے خلاف ہر ممکن اقدامات کر رہا ہے، لیکن اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 181.3 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے باعث شرح تبادلہ پر دباؤ برقرار ہے اطلاعات کے مطابق ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل ثنااللہ عباسی نے ڈان کو بتایا کہ صرف دسمبر کے دوران ایجنسی نے 158 افراد کو گرفتار کیا اور ملک بھر میں 30 کروڑ روپے کی مقامی اور غیر ملکی کرنسی ضبط کی تاکہ روپے کو ڈالر کے مقابلے میں مستحکم کیا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ غیر قانونی کرنسی کے کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف کریک ڈاؤن اس خدشے کے باعث کیا گیا کہ ڈالر کو ذخیرہ کر کے ملک سے باہر اسمگل کیا جارہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے نے انٹیلی جنس ایجنسیوں، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور اس کی اپنی ٹیموں کی جانب سے فراہم کی گئی معلومات پر کارروائی کی۔
انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ دونوں میں روپے کے مقابلے ڈالر کی قیمت میں اضافے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایجنسی صرف بلیک مارکیٹ سے نمٹتی ہے۔
انہوں نے محتاط انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’جزوی اور کُلی معاشیات اور دوسرے قومی اور بین الاقوامی متغیرات ہیں جن کے ذریعے کسی بھی کرنسی کی قدر میں اضافے اور کمی سے نمٹا جاتا ہے اور یہ کام حکومت اور خاص طور پر مرکزی بینک اور وزارت خزانہ کرتی ہے‘۔
ثنااللہ عباسی نے بتایا کہ ایف آئی اے کی مہم کو دو مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے، پہلا مرحلہ افغانستان میں حکومت کی تبدیلی کے فوراً بعد 25 اگست سے شروع ہوا اور 30 نومبر تک جاری رہا۔
انہوں نے بتایا کہ ’اس مرحلے میں ایف آئی اے نے 92 ایف آئی آر درج کیں، 40 انکوائریاں کی گئیں، 107 افراد کو گرفتار کیا گیا، 21 دکانیں سیل کی گئیں اور 36 کروڑ 50 لاکھ روپے برآمد کیے جن میں 15 کروڑ 60 لاکھ روپے کی غیر ملکی کرنسی بھی شامل ہے‘۔
دوسرے مرحلے میں، جو یکم دسمبر کو شروع ہوا اور اب تک جاری ہے، ایف آئی اے نے 117 ایف آئی آر درج کیں، 32 انکوائریاں کی، 158 افراد کو گرفتار کیا، 9 دکانیں سیل کی گئیں اور 8 کروڑ 80 لاکھ روپے کی غیر ملکی کرنسی سمیت 30 کروڑ روپے ضبط کیے۔
ایف آئی اے کے سربراہ نے بتایا کہ رواں سال کے دوران ضبط کی گئی کُل رقم ایک ارب 30 کروڑ روپے رہی۔ڈاکٹر ثنااللہ عباسی نے کہا کہ 10 ہزار سے زائد ٹرانزیکشنز کی جانچ پڑتال کی گئی ہے جبکہ وفاقی حکومت نے ایف آئی اے سے کہا ہے کہ وہ فارن ایکسچینج کمپنیوں کے آپریشنز کو دیکھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے نے ایکسچینج کمپنیوں کی خرید و فروخت کے ریکارڈ کا معائنہ کیا اور 5 ’اے‘ کیٹیگری اور 29 ’بی‘ کیٹیگری کی فاریکس کمپنیوں کی جانچ پڑتال کی۔
انہوں نے بتایا کہ ان کمپنیوں کے ذریعے کرنسیوں کی خرید و فروخت کی 10 ہزار سے زائد ٹرانزیکشنز کی جانچ پڑتال کی گئی، جس میں کچھ بے ضابطگیوں سامنے آنے پر 7 مقدمات درج کیے گئے اور کیٹیگری ’بی‘ کی فاریکس فرمز کے خلاف 11 انکوائریاں کی گئیں۔
رواں سال کے دوران ایف آئی اے نے مشکوک ٹرانزیکشن رپورٹس (ایس ٹی آر) کے ذریعے مذکورہ کمپنیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے بعد بڑی تعداد میں مشکوک ٹرانزیکشنز کی چھان بین کی۔
انہوں نے کہا کہ یکم جنوری سے اب تک 29 ایس ٹی آرز کو مزید کارروائی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، قومی احتساب بیورو (نیب) اور انسداد منشیات فورس (اے این ایف) کے حوالے کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کی کارروائی اب بھی جاری ہے کیونکہ روپے کے استحکام میں کردار ادا کرنا ادارے کی اولین ترجیح ہے۔
ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ظفر پراچہ نے حکومت کی جانب سے سنجیدگی کو روپے کے استحکام سے جوڑتے ہوئے کہا کہ ’معیشت کے تمام اشارے بتاتے ہیں کہ ڈالر کی قدر زیادہ ہے، اس کی شرح تبادلہ 160 سے 165 روپے کے درمیان ہونی چاہیے‘۔
انہوں نے کہا کہ ’مجموعی طور پر اسٹیٹ بینک نے اچھے اقدامات کیے ہیں لیکن اس کے اثرات ڈالر کی قدر پر ظاہر نہیں ہو رہے ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم نے حکومت کی طرف سے کبھی ایسی سنجیدگی نہیں دیکھی اور ایسا لگتا ہے جیسے حکومت اور اسٹیٹ بینک ایک صفحے پر نہیں ہیں‘۔
ظفر پراچہ نے کہا کہ مارکیٹ کا خیال ہے کہ حکومت روپے کی قدر میں کمی کو کنٹرول کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہی ہے، روپے کی قدر میں کمی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط میں سے ایک ہو سکتی ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ یقیناً ڈالر کی قدر زیادہ ہے لیکن ہم نے اس طرح کا بیان کسی اور سے نہیں سنا‘۔
ایف آئی اے کی کارروائی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ’ایکسچینج کمپنیاں انٹر بینک ریٹ کا تعین نہیں کرتیں، انٹر بینک ریٹ میں اضافے کی وجہ سے اوپن مارکیٹ میں شرح بڑھ رہی ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم لائسنس یافتہ ادارے ہیں جو مرکزی بینک کی جانب سے مقرر کردہ شرائط کی سختی سے تعمیل کرتے ہوئے کاروبار کر رہے ہیں اور یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ہمارے اراکین اور صارفین کو ایف آئی اے کی جانب سے بلایا جارہا ہے‘۔


مشہور خبریں۔
بحیرہ روم ایک بار پھر تارکین وطن کی قتل گاہ
?️ 5 اپریل 2022سچ خبریں:بحیرہ روم میں ایک بر پھر غیر قانونی تارکین وطن کے
اپریل
داعشی رہنما افریقہ کے بڑے صحرا میں ہلاک؛ فرانسیسی صدر کا دعویٰ
?️ 16 ستمبر 2021سچ خبریں:فرانسیسی صدر نے دعویٰ کیا کہ عدنان ابو ولید الصحراوی داعشی
ستمبر
سعودی عرب نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کردیا
?️ 8 مئی 2021ریاض (سچ خبریں) سعودی عرب نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے
مئی
ہم صہیونیوں کے ساتھ مسلسل 6 ماہ کی لڑائی کے لیے تیار ہیں: حماس
?️ 12 اپریل 2022سچ خبریں: المیادین کے ساتھ ایک انٹرویو میں حماس کے سیاسی بیورو
اپریل
امریکہ کا سب سے بڑا معاشی ہتھیار بیکار
?️ 29 دسمبر 2022سچ خبریں: فارن افیئرز میگزین نے ایک رپورٹ میں اعلان کیا ہے
دسمبر
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے نئے صوبے بنانے کو خوش آئند قرار دیدیا
?️ 4 ستمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے نئے صوبے
ستمبر
عدالتوں میں مقدمات کی وجہ سے فائیوجی کے لیے نیلامی نہیں ہوسکتی.پی ٹی اے
?️ 21 اپریل 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے
اپریل
اگر اگلے الیکشن میں ٹرمپ کا حریف ہونا میری خوش قسمتی ہے:بائیڈن
?️ 25 مارچ 2022سچ خبریں: جو بائیڈن نے اس بات کا خیر مقدم کیا کہ
مارچ