اگر انتخابات الگ الگ کروانے کا فیصلہ آیا تو سندھ قبول نہیں کرے گا، پی پی پی

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی دن کروانے کے علاوہ کوئی اور فیصلہ آیا تو سندھ قبقل نہیں کرے گا۔

لاڑکانہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتےہوئے نثار احمد کھوڑو کا کہنا تھا کہ اگر ملک میں دو انتخابات ہوئے تو اس کے نتائج کی ذمہ دار براہ راست عدلیہ ہوگی اور سندھ اس طرح کے فیصلے کی مزاحمت کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ یہ معاملہ حل کرنے کے لیے فل کورٹ تشکیل کیوں نہیں دے رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ اور عدلیہ کے ٹکراؤ کے باعث عوام ’کنفیوز‘ ہوگئے ہیں، جیسا کہ عدالت عظمیٰ اس وقت از خود نوٹس اور عام انتخابات کے معاملے پر تقسیم ہے۔

صدر پی پی پی سندھ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اب تک مسئلے کی حل نہیں بتایا کہ آیا پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کی تحلیل قانونی تھی یا نہیں، انہوں نے الیکشن ایکٹ کے آرٹیکل 69 کا حوالہ دیا اور مطالبہ کیا کہ انتخابات ایک ہی دن منعقد ہونے چاہیے۔

انہوں نے سوال کیا کہ سندھ کیوں قبل از وقت انتخابات کی طرف جائے اور کہا کہ الگ الگ دو انتخابات کے انعقاد پر ’بڑا سوالیہ نشان‘ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی پی پی اپنے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لے گی، جب چیف جسٹس نے بلاول بھٹو زرداری کے مذاکرات کے اقدام کی تو پھر انہوں عمران خان کی جانب سے مذاکرات سے گریز پر ان کی مذمت کیوں نہیں کی۔

نثار کھوڑو نے کہا کہ کیوں ایک یک طرفہ فیصلہ پارلیمنٹ کی مجموعی دانش پر مسلط کیا جا رہا ہے اور سیاسی جماعتوں کو کیوں مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ اتفاق رائے کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب اور خبیرپختونخوا اسمبلیاں بغیر کسی معقول وجہ کے تحلیل کردی گئی تھیں اور پرویز الہٰی نے ریکارڈ پر کہا تھا کہ اسمبلی کی تحلیل کے عمل میں تمام متعلقہ قواعد کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

پی پی پی کے سابق ضلعی صدر عبدالفتح بھٹو اور لاڑکانہ شہر کے سیکریٹری جنرل خیر محمد اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ اس فیصلے پر بھی سوالیہ نشان ہے کہ پنجاب اور خیبرپختوںخوا اسمبلیوں کی تحلیل درست تھی اور 14 مئی کو انتخابات کی تاریخ کہاں سے آئی اور کیا یہ آئین کی خلاف ورزی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ مسئلے کا واحد ایک ہی دن انتخابات ہیں، اس وقت ملک کو مشکل صورت حال درپیش ہے، جس کا اس سے قبل کبھی سامنا نہیں ہوا کہ جب سیاسی نظام کو اس طرح مشکل میں ڈال دیا گیا ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ پارلیمنٹ کے اختیارات میں مداخلت کر رہی ہے، جو نہیں ہونی چاہیے۔

پریس کانفرنس کے دوران ان سے سوال کیا گیا کہ چیف جسٹس جس طرح کابینہ کا مطلب وزیراعظم نہیں ہے اسی ہے سپریم کورٹ نہیں ہیں تو انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا کام آئین کی بنیاد پر فیصلہ دینا ہے اور سیاسی نظام کو نقصان پہنچانا اس کا کام نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ایک منقسم فیصلے کے تحت پھانسی پر چڑھایا گیا تھا، جسٹس نسیم حسن شاہ اور انوار الحق نے بعد میں اعتراف کیا تھا کہ وہ دباؤ میں تھے۔

نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ بدقسمتی سے یہ ملک کی تاریخ ہے کہ عدالت عظمیٰ نے 4 مارشل لا قوانین کو تقویت دی اور یہاں تک کہ فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کو آئین میں ترمیم کی اجازت دی جس کے لیے ان سے کہا نہیں گیا تھا۔

مشہور خبریں۔

اسرائیل کے شام کے نئے حکمرانوں کے ساتھ مذاکرات

?️ 15 دسمبر 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت کے چینل 13 نے اپنی ایک رپورٹ میں

منشیات محض بہانہ تھیں،واشنگٹن وینزویلا کے تیل کے پیچھے ہے:صہیونی میڈیا

?️ 4 جنوری 2026 منشیات محض بہانہ تھیں،واشنگٹن وینزویلا کے تیل کے پیچھے ہے:صہیونی میڈیا

انسانی حقوق کا عالمی دن مظلوم کشمیریوں کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا: کل جماعتی حریت کانفرنس

?️ 10 دسمبر 2023سرینگر: (سچ خبریں) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں

دوحہ آپریشن کی ناکامی کا ذمہ دار موساد یا اسرائیلی فضائیہ؟

?️ 11 ستمبر 2025دوحہ آپریشن کی ناکامی کا ذمہ دار موساد یا اسرائیلی فضائیہ؟ قطر

قوم کا مستقبل بیٹیوں کی کامیابیوں میں جھلکتا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری

?️ 11 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا

خیبرپختونخوا میں نیا وزیراعلیٰ نہیں آرہا، جنید اکبر خان

?️ 29 جنوری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) خیبرپختونخوا کے

ایران کے خلاف جنگ کا ایک بھی مقصد پورا نہیں ہوا: سابق اردنی وزیر خارجہ

?️ 16 جولائی 2026سچ خبریں:اردن کے سابق وزیر خارجہ مروان المعاشر نے کہا ہے کہ

شام میں پھنسے بیروت پہنچنے والے پاکستانیوں کو چارٹر پرواز کے ذریعے وطن لانے کا فیصلہ

?️ 12 دسمبر 2024 اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت شام

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے