آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پا گیا

?️

اسلام آباد(سچ خبریں) عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور پاکستان کے درمیان 6 ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے چھٹے جائزے کے لیے درکار پالیسیوں اور اصلاحات پر عملے کی سطح کا معاہدہ ہوگیا، جس کے بعد پاکستان کو ایک ارب 5 کروڑ 90 لاکھ ڈالر ملنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

اس پیش رفت کا اعلان پیر کے روز آئی ایم ایف کی جانب سے ایک بیان میں کیا گیا، آئی ایم ایف پروگرام اپریل سے ’موقوف‘ تھا۔آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ پیشگی اقدامات کی تکمیل بالخصوص مالی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے بعد مذکورہ معاہدے کی منظوری آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ دے گا۔

معاہدے کی منظوری سے اسپیشل ڈرائنگ رائٹس (ایس ڈی آر) کی مد میں 75 کروڑ دستیاب ہوں گے، جو ایک ارب 5 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کے مساوی ہیں۔

آئی ایم ایف کے بیان کے مطابق اس سے پروگرام کی اب تک دی گئی رقم 3 ارب 2 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تک پہنچ جائے گی اور باہمی اور کثیرالجہتی شراکت داروں سے فنڈنگ کھلنے میں مدد ملے گی۔

ایس ڈی آر مخلوط کرنسیوں کا ایک مجموعہ ہے جو آئی ایم ایف کے رکن ممالک کے لیے دستیاب ہے۔پاکستانی عہدیداروں کے ساتھ بات چیت کے بعد جاری بیان میں کہا گیا کہ آئی ایم ایف نے ’مشکل ماحول کے باوجود‘ پروگرام پر عملدرآمد کے سلسلے میں ملک کی پیش رفت کو تسلیم کیا ہے۔

آئی ایم ایف نے کہا کہ بجٹ کے بنیادی خسارے کے سوا جون کے آخر تک کے لیے تمام مقداری کارکردگی کے معیارات کو بڑے مارجن کے ساتھ پورا کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ فنڈ نے انسداد منی لانڈرنگ کو بہتر بنانے اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے نظام سے نمٹنے میں پاکستان کی پیش رفت کا بھی اعتراف کیا، تاہم اس کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اضافی وقت درکار ہے۔

آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ دستیاب اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ کووڈ 19 عالمی وبائی مرض کے سلسلے میں حکام کے کثیر الجہتی پالیسی ردعمل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مضبوط معاشی بحالی نے زور پکڑا جس نے اس کے انسانی اور میکرو اکنامک اثرات پر قابو پانے میں مدد ملی۔آئی ایم ایف نے ذکر کیا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے ٹیکس ریونیو کی وصولی بھی خاصی مضبوط رہی۔

بیان میں کہا گیا کہ ’اسی وقت بڑھتے ہوئے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور زرمبادلہ کی شرح پر گراوٹ کے دباؤ کی صورت میں بیرونی دباؤ پڑنا شروع ہوگیا تھا جو بنیادی طور پر مضبوط اقتصادی سرگرمی، ایک توسیعی میکرو اکنامک پالیسی مکس اور اعلی بین الاقوامی اجناس کی قیمتوں کے اثرات کی عکاسی کرتا ہے۔آئی ایم ایف نے کہا کہ حکومت نے ردعمل میں کورونا وائرس سے متعلق محرک اقدامات کو بتدریج ختم کرنا شروع کر دیا ہے۔

فنڈ کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے موافق مانیٹری پالیسی کے مؤقف میں تبدیلی کا آغاز کر کے، صارفین کے قرضوں کی نمو پر قابو پانے کے لیے کچھ میکرو پرڈینشل اقدامات کو مضبوط بنا کر اور آگے کی رہنمائی فراہم کر کے ’درست اقدامات اٹھائے‘۔

آئی ایم ایف نے کہا کہ حکومت کی پالیسیوں سے قریبی مدت کے مثبت نقطہ نظر کو محفوظ رکھنے میں مدد ملے گی، ساتھ ہی فنڈ نے پیش گوئی کی کہ پاکستان کی اقتصادی ترقی کی شرح رواں مالی سال میں 4 فیصد اور مالی سال 2023 میں 4.5 فیصد تک یا اس سے آگے جائے گی۔

بیان میں کہا گیا کہ ملک میں مہنگائی کی شرح بلند رہے گی البتہ روپے کی قدر میں کمی ختم ہونے کے بعد اس میں کمی کا رجحان نظر آنا شروع ہو جائے گا اور سپلائی میں عارضی رکاوٹیں اور طلب کے دباؤ ختم ہو جائیں گے۔

کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے بارے میں آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال کے دوران اس کے مزید بڑھنے کا امکان ہے۔آئی ایم ایف نے اس بات پر زور دیا کہ مانیٹری پالیسی کو افراط زر کو روکنے، شرح مبادلہ میں لچک کو برقرار رکھنے اور بین الاقوامی ذخائر کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز رکھنے کی ضرورت ہے۔

فنڈ کا کہنا تھا کہ جیسے جیسے معاشی استحکام مضبوط ہورہا ہے اور ایس بی پی ترمیمی ایکٹ پارلیمنٹ سے منظور ہوا مرکزی بینک کو درمیانی مدت میں مہنگائی کو ہدف بنانے والے نظام کو باضابطہ طور پر اپنانے کے لیے تیاری کے کام کو ایک مستقبل کی تلاش اور شرح سود پر مرکوز آپریشنل فریم ورک کے ذریعے زیرِ اثر آہستہ آہستہ تیز کرنا چاہیے۔

فنڈ نے بجلی کے شعبے کو مالی طور پر قابل عمل بنانے اور بجٹ، مالیاتی شعبے اور حقیقی معیشت پر اس کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے اصلاحات کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

مشہور خبریں۔

ریویو ایکٹ کے خلاف کیس مضبوط نہ ہوا تو آئندہ لائحہ عمل طے کریں گے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال

?️ 13 جون 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ میں پنجاب میں انتخابات کرانے کے

صہیونی شمالی محاذ سے کیوں کانپتے ہیں؟

?️ 11 مارچ 2024سچ خبریں: صہیونی ذرائع ابلاغ نے حزب اللہ کے طاقتور حملوں کی

جی-7 ممالک نے یوکرین کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان

?️ 17 نومبر 2024سچ خبریں:جی-7 ممالک کے رہنماؤں نے یوکرین میں جنگ کے 1000 دن

10 دن میں 500 مرتبہ بمباری؛ اسرائیل شام سے کیا چاہتا ہے؟

?️ 25 دسمبر 2024سچ خبریں:صیہونی حکومت نے طویل عرصے سے شام پر اپنے حملوں کو

امریکی جرائم کے بارے میں اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اداروں کو یمن کا خط

?️ 22 اپریل 2025سچ خبریں: امریکہ غزہ کی پٹی میں شہریوں کے خلاف صیہونی حکومت

27 ویں آئینی ترمیم پر انسانی حقوق کمشنر کا بیان زمینی حقائق کا عکاس نہیں۔ دفتر خارجہ

?️ 30 نومبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشنر

واشنگٹن اور پکن کے درمیان اقتصادی رقابت نئی سطح پر پہنچ گئی

?️ 12 اکتوبر 2025واشنگٹن اور پکن کے درمیان اقتصادی رقابت نئی سطح پر پہنچ گئی

اب گولی کا جواب گولی سے دیا جائے گا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا انقلاب لانے کا اعلان

?️ 29 ستمبر 2024پشاور: (سچ خبریں) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے باضابطہ طور پر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے