?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں لیکن ضروری نہیں کہ امریکا جو بھی کہے یا کرے ہم اس سے اتفاق کرتے ہیں۔
اسلام آباد میں دورہ پاکستان پر آئے ہارورڈ یونیوسٹی کے طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ اگر کوئی قوم ٹیکنالوجی، تحقیق اور ترقی سے جڑی رہنا چاہتی ہے تو اس کے لیے امریکا سے لاتعلق رہنا ممکن نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں لیکن ضروری نہیں کہ امریکا جو بھی کہے یا کرے ہم اس سے اتفاق کرتے ہیں، کئی معاملات میں دونوں ممالک کے درمیان واضح عدم اتفاق پایا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا امریکا کے ساتھ مثبت اور تعمیری تعلق ہے، ملکوں کے درمیان مخلتف امور پر اتفاق اور اختلاف بھی رہتا ہے لیکن ہم منفی توانائیوں پر یقین نہیں رکھتے، ہم امریکا کے ساتھ طویل مدتی شراکت داری چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں اپنی ٹیم کو کہتا رہتا ہوں کہ ماحولیاتی تبدیلی کا مسئلہ ہماری نیشنل سیکیورٹی پالیسی کا حصہ ہونا چاہیے، یہ مسئلہ صرف پاکستان نہیں بلکہ دنیا کے تمام ممالک کے وجود کے لیے خطرہ بنتا جارہا ہے لیکن موسمیاتی تباہ کاریوں کا سب سے زیادہ نشانہ پاکستان بنا ہے۔
نگران وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کی امن کی خاطر پاکستان نے بےپناہ قربانیاں دیں اور نمایاں کردار ادا کیا لیکن شاید دنیا کو صحیح طریقے سے یہ باور کروانے میں ہم ناکام رہے ہیں۔
عام آدمی کو سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ گزشتہ 7 دہائیوں کے دوران جنوبی ایشیائی خطے میں دنیا کی 2 بڑی فوجی طاقتوں، یعنی سوویت یونین اور نیٹو اتحاد کی موجودگی کے معاشرے پر بہت زیادہ اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اس ماحول میں ہمارے ریاستی اداروں نے جس انداز میں ردعمل ظاہر کیا اور بہت سی بیرونی حقیقتوں نے ہماری رائے تشکیل دی، جس کے نتیجے میں بعض اوقات ہمارا جمہوری نظام منقطع ہوتا رہا ہے،کبھی کبھی عام آدمی کو ریلیف پہنچانے کے حوالے سے ہماری ترجیحات بدلتی رہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس دوران حکومت ان چہزوں پر خرچ کرتی رہی جو اس کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل تھیں لیکن عام آدمی کے سیاسی، معاشی اور سماجی حقوق کو ترجیح نہیں دی گئی، تاہم ہمارے پاس ایک نظریہ ہے اور ہم ان نظریات اور ان عظیم قدروں پر مبنی نظام کی تشکیل کی کوشش کر رہے ہیں جس کی بنیاد پر یہ ملک بنایا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اب صورتحال بدلتی محسوس ہورہی ہے، عام آدمی ریاست کی ترجیحات کا مرکز بنتا جا رہا ہے اور پاکستان ایک ایسے سماجی معاہدے کی جانب گامزن ہے جس میں شہریوں کے حقوق اور ذمہ داریوں کو یقینی بنایا جائے۔
بیرونی مالیاتی اداروں پر پاکستان کے انحصار سے متعلق سوال کے جواب میں نگران وزیر اعظم نے کہا کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) دوست ہے نہ دشمن۔
انہوں نے کہا کہ اصل دشمن ہماری اخراجات کی عادت اور ہمارا آمدنی پیدا کرنے کا طریقہ ہے، لہذا اگر ہم بطور ریاست برقرار رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں دونوں کو تبدیل کرنا ہوگا، اپنے اخراجات کو معقول بنائیں اور ہمیں آمدنی پیدا کرنے کے طریقے بدلنا ہوں گے۔
وزیر اعظم نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ جی ڈی پی میں پاکستان کا ٹیکس تناسب 9 فیصد ہے، انہوں نے ٹیکس نیٹ کو بڑھانے اور غیر دستاویزی معیشت کو آگے لانے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم اپنے انسانی وسائل میں سرمایہ کاری یا سروسسز کی فروخت جیسے شعبوں میں وسیع پیمانے پر توجہ مرکوز کریں گے، قدرت نے پاکستان کو قیمتی وسائل سے نوازا ہے، جس میں معدنی سامان اور باصلاحیت افراد دونوں شامل ہیں۔
پاکستان میں جمہوریت کے مستقبل کے بارے میں بات کرتے ہوئے نگران وزیر اعظم نے نشاندہی کی کہ کسی حکومت کی مدت مکمل نہ ہونا بالکل بھی غیر جمہوری نہیں ہے۔
انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ جمہوریت ہی پارلیمنٹ کی مضبوطی کی ضامن ہے اور جمہوری معاشرے میں ہر فرد کے حقوق کا تحفظ ضروری ہوتا ہے، ریاست اور عوام کے درمیان ایسے سماجی معاعدے پر یقین رکھتے ہیں جہاں حقوق کا تحفظ ہو، ہر ذمہ دار معاشرے کی طرح ہم بھی اپنے شہریوں کی فلاح و بہبود چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جمہوری عمل کا ارتقا ہو رہا ہے، گزشتہ 15 برسوں میں 3 اسمبلیوں نے اپنی مدت پوری کی، حکومت کی تبدیلی آئینی طریقے سے عمل میں آئی، آئین میں حکومت کی تبدیلی کا طریقہ کار موجود ہے۔
بھارت کا بالواسطہ حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے پڑوس میں گزشتہ 7 دہائیوں سے جمہوریت رائج ہے لیکن وہ آمرانہ جمہوریت کی جانب بڑھ رہا ہے، کیا وہاں ایسی جمہوریت ہے جسے آپ مثالی سمجھیں گے یا امریکا، برطانیہ، فرانس وغیرہ کے لیے چاہیں گے؟ مجھے ایسا نہیں لگتا۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے نگران وزیراعظم کا کہنا تھا گزشتہ 48 گھنٹوں سے مجھے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر ایک نامکمل بیان کی وجہ سے ٹرول کیا جا رہا ہے جس کی میں نے وضاحت کرنے کی کوشش بھی کی۔
انہوں نے کہا کہ لوگ پاکستان چھوڑ کر امریکا یا دنیا کے کسی بھی ملک جا کر رہیں، ہیں یہ صرف چیلنج نہیں بلکہ ایک موقع بھی ہے، یہ لوگ بیرون ملک جاتے ہیں اور وہاں معاشرے میں بہتری کے لیے کردار ادا کرتے ہیں، اپنے خاندان کے لیے کماتے ہیں اور ہم بالواسطہ طور پر ان کے بھیجے گئے زرمبادلہ سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اچھے مواقع کی تلاش میں بیرون ملک جانے میں کوئی برائی نہیں ہے، 60 اور 70 کی دہائی میں بھارت سے پڑھے لکھے نوجوان باہر گئے، 30 برس بعد وہی لوگ اپنے ملک کا قیمتی اثاثہ ثابت ہوئے۔


مشہور خبریں۔
فلسطین نے سال 2022 کیسے گزارا؟
?️ 27 دسمبر 2022سچ خبریں: اگر یہ پوچھا جائے کہ 2022 میں فلسطین
دسمبر
یمن کے شہر صعدہ میں فلسطین کی حمایت میں احتجاجی مظاہرہ
?️ 6 فروری 2026یمن کے شہر صعدہ میں فلسطین کی حمایت میں احتجاجی مظاہرہ یمن
فروری
وزیراعظم شہباز شریف 2 روزہ سرکاری دورے پر آسٹریا روانہ
?️ 15 فروری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیرِ اعظم شہباز شریف آسٹریا کے چانسلر کرسچیئن اسٹاکر
فروری
ٹرمپ کے بارے میں بات کرنے سے تنگ آچکا ہوں:بائیڈن
?️ 17 فروری 2021سچ خبریں:امریکی صدر نے ایک جلسہ عام میں کہا کہ وہ سابق
فروری
میرواعظ کاجیل میں یاسین ملک اور شبیر احمد شاہ کی گرتی ہوئی صحت اظہار تشویش
?️ 30 اکتوبر 2025سرینگر: (سچ خبریں) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں کل
اکتوبر
پیپلز پارٹی نے کسی بھی اتحادی پارٹی کو مدعو نہیں کیا
?️ 21 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں) راولپنڈی میں پیپلز پارٹی ذوالفقارعلی بھٹو کی 42ویں برسی
مارچ
ایک ہزار بین الاقوامی مصنفین کی جانب سے اسرائیلی ثقافتی اداروں کا بائیکاٹ
?️ 29 اکتوبر 2024سچ خبریں: Yediot Aharanot نے اعلان کیا کہ دنیا کے مختلف حصوں
اکتوبر
مقبوضہ کشمیر میں دفعہ 370 اور 35A کی واپسی کا مطالبہ زور پکڑنے لگا
?️ 4 اپریل 2021سرینگر (سچ خبریں) مقبوضہ کشمیر کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے دفعہ
اپریل