اسپیکر نے جوڈیشل کمیشن کیلئے حکومت اور اپوزیشن کے ارکان کے نام بھجوادیے

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے جوڈیشل کمیشن کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے ارکان کے نام سپریم جوڈیشل کمیشن کو بھجوادیے۔

ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق اسپیکر سردار ایاز صادق نے پارلیمانی جماعتوں کی جوڈیشل کمیشن میں نامزدگی کردی اور اس حوالے سے سپریم جوڈیشل کمیشن کو خط لکھ دیا۔

جوڈیشل کمیشن کیلئے قومی اسمبلی سے اپوزیشن لیڈر اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب، مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی شیخ آفتاب کو نامزد کیا گیا ہے جب کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے خاتون نشست پر روشن خورشید بروچہ کو نامزد کیا ہے۔

علاوہ ازیں، سینیٹ سے جوڈیشل کمیشن کیلئے پاکستان پیپلزپارتی کے سینیٹر فاروق نائیک اور پی ٹی آئی سینیٹر و اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نامزد کیے گئے ہیں۔

ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق تمام نامزدگیاں سیکریٹری جوڈیشل کمیشن کو بھجوا دی گئی ہیں جو سپریم کورٹ کو موصول ہوگئی ہیں۔

ترجمان قومی اسمبلی نے بتایا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی اور تمام پارلیمانی جماعتوں سے مشاورت کے بعد نام بھجوائے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد جوڈیشل کمیشن میں 5 اراکین پارلیمنٹ کو شامل کیا گیا ہے، پارلیمنٹ سے بھجوائے گئے ناموں میں حکومت اور اپوزیشن کی برابر کی نمائندگی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتےکو چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے 26ویں آئینی ترمیم کے تحت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی تشکیل کے لیے حکومت اور اپوزیشن سے نام طلب کیے تھے۔

سپریم کورٹ کے ججز کی تعیناتی کے لیے 13 رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے گا جس کے سربراہ چیف جسٹس ہوں گے۔

26ویں آئینی ترمیم کے مطابق 13 رکنی جوڈیشل کمیشن کے سربراہ چیف جسٹس پاکستان ہوں گے، جب کہ عدالت عظمیٰ کے 3 سینیئر ترین ججز بھی کمیشن کا حصہ ہوں گے اور آئینی بینچ کا سینیر ترین جج بھی جوڈیشل کمیشن کا رکن ہوگا۔

کمیشن کے ارکان میں وزیر قانون، اٹارنی جنرل اور کم از کم 15 سالہ تجربے کا حامل پاکستان بار کونسل کا ایک نمائندہ بھی شامل ہوگا۔

قومی اسمبلی اور سینیٹ سے 2 حکومتی اور 2 اپوزیشن ارکان بھی رکن ہوں گے، جب کہ سینیٹ میں ٹیکنوکریٹ الیکشن لڑنے کے لیے اہل خاتون یا غیر مسلم کو بھی 2 سال کے لیے جوڈیشل کمیشن کاحصہ بنایا جائے گا، اس رکن کا تقرر چیئرمین سینیٹ کریں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا انتخاب کیا گیا ہے، اس سے قبل الجہاد ٹرسٹ کیس کے فیصلے کی روشنی میں سپریم کورٹ کا سب سے سینیئر جج ہی ملک کا چیف جسٹس ہوتا تھا۔

26ویں آئینی ترمیم کی منظوری سے قبل جسٹس منصور علی شاہ کو سنیارٹی اصول کے تحت اگلا چیف جسٹس پاکستان بننا تھے تاہم 22 اکتوبر کو چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کے لیے قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی اکثریت نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو اگلا چیف جسٹس آف پاکستان نامزد کردیا تھا۔

آئینی ترمیم میں سب سے زیادہ ترامیم آرٹیکل 175-اے میں کی گئی ہیں، جو سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور فیڈرل شریعت کورٹ میں ججوں کی تقرری کے عمل سے متعلق ہے۔

جوڈیشل کمیشن آف پاکستان دراصل سپریم کورٹ ہائی کورٹ، یا فیڈرل شریعت کورٹ کے ججوں کی ہر اسامی کے لیے اپنی نام زدگیوں کو 8 رکنی پارلیمانی کمیٹی کو بھیجتا تھا جو یہ نام وزیر اعظم کو اور پھر وہ صدر کو ارسال کرتے تھے تاہم ترمیم کے بعد کمیشن اب اپنی نامزدگیوں کو براہ راست وزیر اعظم کو بھیجے گا جو انہیں تقرری کے لیے صدر کو بھیجیں گے۔

ترمیم کے بعد خصوصی پارلیمانی کمیٹی میں قومی اسمبلی سے 8 اور سینیٹ کے 4 ارکان شامل ہوں گے، سیاسی جماعتوں کو ارکان اسمبلی کی بنیاد پر کمیٹی میں متناسب نمائندگی حاصل ہو گی، جنہیں ان کے متعلقہ پارلیمانی لیڈر نامزد کریں گے۔

مشہور خبریں۔

امریکہ میں گن کلچر کے اثرات

?️ 27 فروری 2024سچ خبریں: امریکی ریاست الاسکا کے ایک دور افتادہ گاؤں میں ایک

اخوان المسلمین کو دہشت گرد قرار دینا؛ امریکہ کی اسلام مخالف پالیسیوں کی علامت

?️ 13 دسمبر 2025سچ خبریں:امریکی حکومت کا اخوان المسلمین کو دہشت گرد قرار دینے کا

 خواتین کے لیے برقع پہننا لازمی نہیں ہے: سینئر طالبان عہدیدار

?️ 11 مئی 2022سچ خبریں: اقوام متحدہ میں طالبان کے منتخب نمائندے سہیل شاہین نے

صہیونیوں کا مقبوضہ علاقوں میں نیتن یاہو کے خلاف مظاہرہ

?️ 22 فروری 2026 سچ خبریں:مقبوضہ علاقوں میں سیکڑوں صہیونیوں نے گزشتہ رات تل ابیب

سلامتی کونسل افغان عبوری حکومت سے ٹی ٹی پی سے تعلقات منقطع کرنے پر زور دے

?️ 7 مارچ 2024اقوام متحدہ: (سچ خبریں) پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے

ابھی بھی کورونا وائرس کا خطرہ باقی ہے:اسد عمر

?️ 24 جولائی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر منصوبہ بندی اور این سی او

پیرو کے سابق صدر فوجیموری 16 سال بعد جیل سے رہا

?️ 7 دسمبر 2023سچ خبریں:پیرو کی آئینی عدالت نے منگل کے روز 85 سالہ فوجیموری

یورپ-بحیرۂ روم ہیومن رائٹس واچ کا صیہونی حکام کو شدید انتباہ

?️ 19 اکتوبر 2025سچ خبریں:یورپ-بحیرۂ روم ہیومن رائٹس واچ نے صیہونیوں کی جانب سے غزہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے