?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس کی تفتیش میں شامل ہونے کی ہدایت کردی۔
تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ تفتیشی کو جب بھی ضرورت ہو عمران خان ان کے سامنے پیش ہوں، اگر عمران خان تفتیش میں رکاوٹ ڈالیں تو نیب ضمانت منسوخی کی درخواست دائر کر سکتاہے۔
عدالت عالیہ کے جسٹس میاں گل اورنگزیب اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز پر مشتمل ڈویژن بینچ نے گزشتہ روز عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت کی تھی جس کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا گیا۔
عدالت نے القادر ٹرسٹ کیس میں 31 مئی تک کے لیے خان کی عبوری ضمانت منظور کی اور انہیں 10 لاکھ روپے کے 2 ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی۔
عدالت نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد اور ایڈیشنل اٹارنی نے کہا آرٹیکل 245 کا نفاذ ہے خان کو ریلیف نہیں مل سکتا، ایڈووکیٹ جنرل اور ایڈیشنل اٹارنی کا یہ مؤقف جارحانہ ہے۔
عدالت نے مزید کہا کہ اس مؤقف کا مطلب وہ بنیادی حقوق غصب کرنا ہے جو جمہوری اور اسلامی ریاست کی بنیاد ہیں، تصور نہیں کیا جا سکتا ایک ذمہ دار حکومت شہریوں کیے لیے انصاف کی رسائی میں یہ رکاوٹ ڈالے گی۔
عدالت نے آرٹیکل 245 کے نفاذ میں عدالت تک رسائی کے نکتےپر اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کرلی۔
عدالت نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے دورانِ سماعت متعلقہ فورم احتساب عدالت ہونے کا اعتراض بھی اٹھایا۔
ساتھ ہی واضح کیا کہ عمران خان کو سپریم کورٹ احکامات پر ہائی کورٹ پیش کیا گیا تھا اس لیے ایڈوکیٹ جنرل اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا اعتراض درست نہیں۔
حکم نامے میں کہا گیا کہ ہائی کورٹ کوڈ آف کریمنل پروسیجر کی سیکشن 561 اے کے تحت بھی کیس سننے کا اختیار رکھتی ہے۔
خیال رہے کہ 11 مئی کو سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے ہاتھوں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتاری غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔
عدالت عظمیٰ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے خلاف درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیے تھے کہ گرفتاری کو وہیں سے ریورس کرنا ہوگا جہاں سے ہوئی تھی۔
عدالت عظمیٰ نے نیب اور پولیس کو ہدایت کی تھی کہ وہ عمران خان کی ہائی کورٹ میں پیشی تک ’فول پروف‘ سیکیورٹی کو یقینی بنائیں۔
بعد ازاں تین صفحات پر مشتمل حکم نامے میں عدالت عظمیٰ نے کہا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے القادر ٹرسٹ کیس میں چیئرمین نیب کی جانب سے عمران خان کے خلاف جاری کردہ وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد کا طریقہ غلط اور غیر قانونی تھا۔
عدالت نے عمران خان کو سپریم کورٹ کی نگرانی میں گیسٹ ہاؤس میں رکھنے کا حکم دیا تھا اور آئی جی اسلام آباد کو عمران خان کی سیکیورٹی یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی۔
عمران خان نے استدعا کی تھی کہ انہیں بنی گالہ میں رہنے کی اجازت دی جائے تاہم چیف جسٹس نے کہا کہ آپ عدالت کی نگرانی میں ہیں، ہم نہیں چاہتے کہ آپ کو کوئی نقصان پہنچے، سرکار تمام سیکیورٹی کو یقینی بنائے۔


مشہور خبریں۔
نیتن یاہو ان دنوں کیا کر رہے ہیں؟ صیہونی میڈیا کی زبانی
?️ 30 اکتوبر 2023سچ خبریں: عبرانی میڈیا نے صیہونی وزیر اعظم کی نااہلی کا ذکر
اکتوبر
شہید العروری کے قتل پر حزب اللہ کا ردعمل
?️ 6 جنوری 2024سچ خبریں:لبنانی مزاحمت نے بیروت کے جنوبی مضافات میں حماس کے سیاسی
جنوری
غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے پر یورپی یونین کا ردعمل
?️ 23 نومبر 2023سچ خبریں:یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے بدھ کے
نومبر
صیہونی ٹرانسپورٹ کمپنی کی سعودی عرب کے ساتھ تجارتی روٹ کے قیام کی تیاریاں
?️ 7 جولائی 2021سچ خبریں:کچھ ذرائع نے سعودی عرب کے ساتھ حمل و نقل کا
جولائی
اسرائیلی میں فوجی افسروں کی شدید قلت
?️ 1 دسمبر 2025سچ خبریں: اسرائیلی فوج نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے
دسمبر
بھارت مقبوضہ جموں وکشمیرمیں اپنے جنگی جرائم کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے: حریت کانفرنس
?️ 19 مئی 2025سرینگر: (سچ خبریں) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں
مئی
پب جی ایک ماہ کے دوران سب سے زیادہ کمائی کرنے والا گیم
?️ 12 دسمبر 2021لندن (سچ خبریں)پب جی نے ایک ماہ کے دوران کمائی کے سارے
دسمبر
ایران پر کسی بھی امریکی جارحیت کی صورت میں ہم غیرجانبدار نہیں رہیں گے
?️ 13 فروری 2026ایران پر کسی بھی امریکی جارحیت کی صورت میں ہم غیرجانبدار نہیں
فروری