آئی ایم ایف سے سات ارب ڈالر کے بیل آﺅٹ پیکج کی اگلی قسط کے لیے مذاکرات

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے درمیان آج اہم مذاکرات متوقع ہیں جس میں سات ارب ڈالر کے بیل آﺅٹ پیکج کی اگلی قسط پر غور کیا جائے گا یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان اور انڈیا کے درمیان سرحدی کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ایسے میں اس بات کا خدشہ سامنے آ رہا ہے کہ انڈیا آئی ایم ایف پر پاکستان کو مزید قرض نہ دینے کے لیے دباﺅ ڈالے انڈین سیکرٹری خارجہ وکرم مسری نے گزشتہ روز بیان دیا تھا کہ انڈیا آئی ایم ایف کے سامنے اپنا موقف رکھے گا اور بورڈ کو گزشتہ تین دہائیوں کے دوران دیے گئے بیل آﺅٹس کے اثرات پر سنجیدگی سے غور کرنے پر زور دے گا.

یاد رہے کہ آئی ایم ایف کا بیل آﺅٹ پیکیج پاکستان کی سست روی سے سنبھلتی معیشت کے لیے بہت اہم دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے دوران ورلڈ بینک کے صدر اجے بانگا نے جمعرات کے روز انڈین وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی عالمی بینک نے واضح کیا ہے کہ وہ دریائے سندھ کے پانی کی تقسیم سے متعلق سندھ طاس معاہد ے کو معطل کرنے کے انڈیا کے فیصلے میں مداخلت نہیں کرے گا.

عالمی بینک کے صدر اجے بانگا نے” سی این بی سی نیوز“ کو بتایا کہ معاہدے میں معطلی کی کوئی گنجائش موجود نہیں یہ یا تو مکمل طور پر ختم کیا جا سکتا ہے یا کسی نئے معاہدے سے تبدیل کیا جا سکتا ہے انہوں نے واضح کیا کہ عالمی بینک کا کردار اس معاہدے میں صرف ایک سہولت کار کا ہے. دوسری جانب انڈیا اور پاکستان کے درمیان جاری تنازع ہر گزرتے روز کے ساتھ خطرناک رخ اختیار کر رہا ہے اور دنیا کے مختلف ممالک دونوں ممالک سے تحمل سے کام لینے کی اپیل کر رہے ہیں ابتدا میں ایسا لگ رہا تھا کہ انڈیا کی فضائی کارروائی اور پاکستان کی طرف سے انڈین طیارے مار گرانے کے دعوے کے بعد دونوں ملک خود کو بظاہر کامیاب ظاہر کریں گے اور کشیدگی میں کمی آنا شروع ہو گی تاہم اب خطرہ ہے کہ اگر دونوں طرف سے جوابی حملے جاری رہے تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں.

دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی نئی بات نہیں تاہم پچھلے تنازعات میں امریکہ سمیت دیگر بااثر ممالک نے دہلی اور اسلام آباد پر دباﺅ ڈال کر حالات کو قابو میں کیا تھا کشیدگی کے آغاز کے بعد، اب انڈیا اور پاکستان دونوں ہی میں قوم پرستی کے جذبات اپنے عروج پر ہیں اور ایسے میں دونوں ممالک کئی دہائیوں بعد ایک بار پھر جنگ کے دہانے پر موجود دکھائی دے رہے ہیں ایسے میں اگر امریکہ نے سرگرم کردار ادا نہ کیا تو عین ممکن ہے کہ پاکستان اور انڈیا ایک دوسرے پر الزام تراشی کا سلسلہ جاری رکھیں.

قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت جن خلیجی ممالک سے دونوں ملکوں کے اچھے تعلقات ہیں وہ اس صورت حال میں ثالثی کے لیے کردار ادا کر سکتے ہیںاگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کی ترجیحات تجارتی محصولات چین اور روس یوکرین تنازع ہیں تاہم عالمی برادری کو ان دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوشش میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا.

مشہور خبریں۔

غزہ کے لیے تازہ ترین جنگ بندی منصوبہ

?️ 2 نومبر 2024سچ خبریں:ایک نامعلوم ذریعے نے غزہ میں نئی جنگ بندی کی تجویز

صیہونی حزب اللہ سے کیوں ڈرتے ہیں؟

?️ 24 جنوری 2024سچ خبریں: مقبوضہ علاقوں کی شمالی سرحدوں میں طاقت کے توازن کی

اسرائیل سے جنگ میں فلسطینی کامیاب ہوں گے، ایرانی صدر

?️ 23 اپریل 2024لاہور: (سچ خبریں) ایرانی صدر ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی نے دورہ لاہور

برطانوی مصنف کا اسرائیل کی تزویراتی ناکامیوں کا بیان

?️ 27 جون 2025سچ خبریں: مشرق وسطیٰ میں ایک مضمون میں برطانوی مصنف اور تجزیہ

حماس کے شام کے ساتھ تعلقات دوبارہ شروع کرنے کے ارادے پر صنعا کا رد عمل

?️ 11 جولائی 2022سچ خبریں:   7 جولائی کو حماس کے عرب اور اسلامی تعلقات کے

سوڈان کے ساتھ معمول کے عمل کو ختم کرنے کے بارے میں اسرائیل کی تشویش

?️ 21 اپریل 2023سچ خبریں:صہیونی رہنماؤں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سوڈان میں حالیہ

8 تضادات کا شکار مکہ معاہدہ ؛کیا ریاض سہ فریقی عہد پر بھروسہ کر سکتا ہے؟

?️ 10 اگست 2026سچ خبریں:سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان مکہ معاہدہ  متعدد تضادات

اسرائیل کے وزیر جنگ کے الفاظ سے جولانی کی توہین

?️ 14 مارچ 2025سچ خبریں: صیہونی حکومت کے جنگی وزیر یسرائیل کاٹز نے شام کے مقبوضہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے