پی ٹی اے نے موبائل نمبر کے ذریعے وی پی این رجسٹریشن کی سہولت متعارف کرادی

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے موبائل نمبر کے ذریعے ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) رجسٹریشن کی سہولت متعارف کرادی ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق ترجمان پی ٹی اے نے بتایا ہے کہ اتھارٹی کی جانب سے فراہم کردہ اس سہولت سے اسٹیٹک آئی پی نہ رکھنے والے فری لانسرز فائدہ اٹھا سکیں گے۔

ترجمان پاکستان کمیونیکیشن اتھارٹی کا کہنا تھا کہ فری لانسرز وی پی این رجسٹریشن کے لیے اپنے موبائل نمبر رجسٹرڈ کروا سکیں گے اور فری لانسرز اپنے موبائل ڈیٹا پر وی پی این استعمال کر سکیں گے۔

ترجمان نے بتایا کہ فری لانسرز کے لیے وی پی این رجسٹریشن کا عمل آئی ٹی کی ترویج کے لیے کیا گیا ہے، یہ عمل پی ٹی اے نے وی  پی  این رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنانے کے لیے کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب تک پی ٹی اے کے ساتھ 31 ہزار سے زائد وی پی اینز رجسٹرڈ کیے جاچکے ہیں جب کہ اسٹیٹک آئی پی کے ذریعے رجسٹریشن کے لیے فری لانسرز کو مشکلات کا سامنا تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان میں حالیہ کچھ عرصے کے دوران سیاسی جماعتوں کی جانب سے کیے جانے والے احتجاجی مظاہروں اور مارچ کے دوران انٹرنیٹ کی بندش اور بعض ایپس تک رسائی میں مشکلات کی وجہ سے فری لانسرز، آن لائن کام کرنے والے پروفیشنلز وی پی این استعمال کرکے اپنے خاندانوں کے لیے روزگار کما رہے تھے۔

تاہم پی ٹی اے نے وی اینز کی رجسٹریشن لازمی قرار دے دیتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ یکم دسمبر کے بعد غیر رجسٹرڈ وی پی اینز کام نہیں کریں گے۔

بعد ازاں، قانونی بنیادوں کی کمی کی وجہ سے پی ٹی اے نے وی پی این پر پابندی نہ لگانے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے بعد تمام ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک سروسز 30 نومبر کے بعد بھی چل رہی ہیں۔

وزارت داخلہ کے ذرائع نے بتایا تھا کہ اس ماہ کے اوائل میں کی گئی درخواست واپس لے لی جائے گی، یہ فیصلہ وزارت قانون سے رائے لینے کے بعد کیا گیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت کے پاس وی پی این کو بلاک کرنے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

وزارت آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ وی پی این موبائل فون یا کمپیوٹر کی طرح ایپلی کیشنز تک رسائی یا رابطہ قائم کرنے کا ذریعہ ہیں، ماضی میں حکومت کو عدالت میں انٹرنیٹ کی بندش پر پابندیوں کا دفاع کرنے میں مشکلات پیش آئی تھیں کیوں کہ انٹرنیٹ بھی ایک ذریعہ تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام کے قانون (پیکا) 2016 کی شقوں کی تشریح کا مسئلہ تھا اور اس حوالے سے وزارت داخلہ کا موقف کمزور تھا۔

پیکا کی دفعہ 34 ’غیر قانونی آن لائن مواد‘، حکام کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ اسلام کی عظمت، پاکستان یا اس کے کسی بھی حصے کی سالمیت، سلامتی یا دفاع، امن عامہ، غیر اخلاقی یا توہین عدالت سے متعلق کسی بھی مواد کو ’ہٹانے یا بلاک کرنے کرنے کی ہدایات جاری کر سکتے ہیں۔

وزارت قانون کے مطابق مذکورہ دفعہ حکومت کو کسی ٹول یعنی ایپ کو بلاک کرنے کے بجائے صرف ’مواد‘ کو بلاک کرنے کی اجازت دیتی ہے۔

مشہور خبریں۔

روس یوکرین جنگ کی تازہ ترین صورتحال

?️ 12 اگست 2023سچ خبریں: روس کی وزارت دفاع نے جزیرہ نما کریمیا پر یوکرینی

یمن کی تقدیر خلیج تعاون کونسل سے منسلک ہے :ریاض

?️ 8 اپریل 2022سچ خبریں:  یمن کے بحران کے حل کے بہانے سعودی عرب میں

ٹرمپ نے اپنے خلاف مجرمانہ الزامات کے نتائج سے خبردار کیا

?️ 26 مارچ 2023سچ خبریں:ٹروتھ سوشل کے نام سے مشہور اپنے سوشل نیٹ ورک پر

ریاض میں دمشق کا سفارت خانہ دوبارہ کھلا

?️ 1 اکتوبر 2023سچ خبریں:سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں شام کا سفارت خانہ دوبارہ

الکاظمی اپنے تحفظ کے لیے امریکی سفارت خانے گئے ہیں:عراقی سیاست دان

?️ 4 جنوری 2023سچ خبریں:ایک عراقی سیاست دان نے اس ملک کے سابق وزیر اعظم

کیا فلسطینی عوام بھی طوفان الاقصیٰ کی حامی ہے؟

?️ 8 اکتوبر 2023سچ خبریں: قابضین کے خلاف قابل فخر آپریشن طوفان الاقصیٰ کے اچانک

یمن جنگ بندی میں توسیع کے لیے امریکی ایلچی کا ریاض اور ابوظہبی کا دورہ

?️ 6 نومبر 2022سچ خبریں:یمن میں امریکی ایلچی نے اس ملک میں جنگ بندی کو

شمالی شام میں دھماکہ؛متعدد افراد ہلاک اور زخمی

?️ 26 جنوری 2021سچ خبریں:شامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ صوبہ رقہ میں ایک

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے