ٹیکس فائل نہ کرنے والے 11ہزار سے زائد افراد کی سمز بلاک

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس ریٹرن فائل نہ کرنے والے 11ہزار سے زائد افراد کی موبائل فون سمز بلاک کر دیں۔

ایف بی آر کے ترجمان بختیار محمد نے ڈان کو بتایا کہ انکم ٹیکس جنرل آرڈر کے تحت 22 مئی سے 11ہزار 252 سمز بلاک کر دی گئی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکس جمع کرنے والا ادارہ ٹیکس کی تعمیل اور ٹیکس کلچر کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔

ایف بی آر حکام کے مطابق ٹیلی کام کمپنیوں کو 30 ہزار نان فائلرز کا ڈیٹا بھیجا ہوا ہے اورروزانہ کی بنیاد پر نان فائلرز کا ڈیٹا ٹیلی کام کمپنیوں کو بھیجا جائے گا۔

ایف بی آر نے پانچ لاکھ سے زائد نان فائلرز کی نشاندہی کر رکھی ہے۔

ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس جنرل آرڈر کے نفاذ کے لیے ایف بی آر کی پی ٹی اے اور ٹیلی کام آپریٹرز کے ساتھ ملاقاتوں میں ٹیلی کام آپریٹرز نے چھوٹے بیچز میں مینوئل طریقے سے سمز بلاک کرنے سے اتفاق کیا تھا۔

حکام کا ماننا ہے کہ نان فائلرز کی سمز بلاک کرنے سے ٹیکس وصولی میں اضافہ ہو گا۔

اس سے قبل میڈیا میں رپورٹ کیا گیا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 2023 میں ٹیکس ریٹرن فائل نہ کرنے والوں کی سمز بلاک کرنے کے حکومتی فیصلے پر حکم امتناع جاری کر دیا ہے۔

تاہم ہائی کورٹ نے بعد میں واضح کیا کہ حکم امتناع سموں کو بلاک کرنے پر نہیں بلکہ صرف درخواست گزار نجی ٹیلی کام آپریٹر زونگ کے خلاف کارروائی کرنے پر تھا۔

گزشتہ روز اسی کیس کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا تھا میں واضح کردوں کہ حکم امتناع سموں کو بلاک کرنے پر نہیں بلکہ صرف درخواست گزاروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ حکومت کا سم بلاک کرنے کا آرڈر اب بھی ان فیلڈ ہے۔

30 اپریل کو ایف بی آر نے 5لاکھ 6ہزار 671 ایسے افراد کی فہرست جاری کی تھی جو 2023 میں ٹیکس گوشوارے جمع کرانے میں ناکام رہے اور بطور ہرجانہ ان کی موبائل فون سمز کو فوری طور پر بلاک کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا تاہم، ٹیلی کام کمپنیوں نے اس فیصلے پر اعتراض کیا تھا۔

4 مئی کو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ایف بی آر کے مطالبے پر یہ کہتے ہوئے عمل کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ اس پر عمل درآمد ان کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا اور اس طرح اس حکم کا ان پر قانونی طور پر اطلاق نہیں ہوتا۔

کچھ دن بعد ٹیلی کام کمپنیوں نے اجتماعی طور پر اپنے تحفظات وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بھجوا دیے تھے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایف بی آر کا نان فائلرز کی سمز کو بلاک کرنے کا فیصلہ بے جلد بازی میں کیا گیا ہے اور اس سے ٹیلی کام صارفین پر منفی اثر پڑے گا۔

سیلولر موبائل آپریٹرز(سی ایم اوز) کے خط میں کہا گیا کہ ہم ٹیلی کام ایکٹ اور قابل اطلاق ضوابط میں بیان کردہ حالات کے سوا اپنے صارفین کو بلا تعطل سروسز فراہم کرنے کے پابند ہیں، ایسی کوئی مثال نہیں ہے جس میں سیلولر موبائل آپریٹرز کسی بھی کسٹمر کی سروس کو منقطع یا بلاک کر سکیں۔

آخر کار 10 مئی کو ٹیلی کام آپریٹرز نے نان فائلرز کو چھوٹے بیچوں میں مینوئل طریقے سے بلاک کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

یہ اتفاق اس وقت ہوا تھا جب انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 114۔بی کے تحت جاری کردہ انکم ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 1 کے نفاذ کے لیے ایف بی آر نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور ٹیلی کام آپریٹرز کے ساتھ اہم ملاقاتیں کی تھیں۔

مشہور خبریں۔

بھارت کا نیا وزیراعظم کون ہو گا؟

?️ 5 جون 2024سچ خبریں: بھارت کے الیکشن کمیشن نے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (NDA) کی

غزہ میں صیہونیوں کے لیے سب سے بڑا چینلج کیا ہے؟صیہونی رپورٹر کی زبانی

?️ 28 جنوری 2024سچ خبریں: اسرائیلی رپورٹر رونن برگمین نے غزہ میں حماس کی سرنگوں

صومالی لینڈ کو اسرائیلی تسلیم کرنے کے خلاف ایران اور اسلامی ممالک کا سخت بیان

?️ 28 دسمبر 2025سچ خبریں: اسلامی تعاون تنظیم اور 21 عرب اور اسلامی ممالک نے

پاکستانی ریٹائرڈ جنرل: ایران کی مسلح افواج نے دنیا کو حیران کر دیا

?️ 29 مارچ 2026سچ خبریں: پاکستان کے ریٹائرڈ جنرل اور سابق آرمی چیف نے ایران

سعودی عرب پر یمنی فوج کے حملے پر صیہونی حکومت کے وزیراعظم کا ردعمل

?️ 27 مارچ 2022سچ خبریں:  صیہونی حکومت کے وزیراعظم نے یمنی عوام کے مسلسل محاصرے

حماس اسرائیل کے مقابلے بہت طاقتور ہے، روس کا فلسطینی مزاحمت کے بارے میں اہم انکشاف

?️ 5 جون 2021ماسکو (سچ خبریں)  روس نے فلسطین کی اسلامی تحریک مزاحمت حماس کی

بھارتی طیاروں کی تباہی کے ناقابلِ تردید شواہد منظر عام پر آگئے

?️ 11 مئی 2025راولپنڈی (سچ خبریں) پاک فضائیہ کی زبردست کارروائی، بھارتی طیاروں کی تباہی

شہید امام خامنہ ای کی نماز جنازہ میں لاکھوں ایرانیوں کی شرکت 

?️ 8 جولائی 2026سچ خبریں:  آر ٹی کے عربی سیکشن نے رپورٹ کیا کہ آج

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے