?️
نیویارک (سچ خبریں) کورونا وائرس کے بعد ایک اور قاتل انسانوں کی جانیں لینے کے لئے تیار ہے ،اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ عالمی حدت یعنی گلوبل وارمنگ سے اربوں انسانوں کو درپیش سنگین خطرات سے آگاہ کر رہی ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ آنے والی ہیٹ ویوز قاتل ثابت ہوں گی جو لوگوں کی جانیں لینے کو کافی ہوں گی۔
کلائمٹ چینج کے ابتدائی ماڈلز نے تجویز کیا تھا کہ اگر آلودگی بلا روک ٹوک اسی رفتار سے جاری رہی تو تقریباً 100 سال بعد گرمی کی ایسیغیر معمولی لہریں یعنی ہیٹ ویوز پیدا ہوں گی جو انسان کی برداشت سے باہر ہوں گی، اب مزید تحقیق کہتی ہے کہ گرمی کی ایسی غیر معمولی اور قاتل لہروں کا سامنا پہلے ہی ہوگا۔4 ہزار صفحات پر مشتمل انٹر گورنمنٹل پینل آن کلائمٹ چینج کی یہ رپورٹ فروری 2022 میں ریلیز کی جائے گی البتہ اس کے کچھ مندرجات جاری کردیے گئے ہیں۔
یہ رپورٹ ایک مایوس کن اور ہلاکت خیز تصویر پیش کرتی ہے جس کے مطابق اگر زمین کے درجہ حرارت میں اوسط 1.5 درجے سینٹی گریڈ کا اضافہ ہوتا ہے تو اس سے دنیا کی 14 فیصد آبادی کو ہر پانچ سال میں ایک مرتبہ گرمی کی شدید لہر کا سامنا کرنا پڑے گا اور اگر مزید نصف ڈگری کا اضافہ ہوتا ہے تو اس کا دائرہ 1.7 ارب افراد تک پھیل جائے گا۔اس سے سب سے زیادہ ترقی پذیر ممالک کے بڑے شہر متاثر ہوں گے یعنی کراچی سے کنشاسا، منیلا سے ممبئی اور لاگو سے ماناؤس تک۔
یہ محض تھرما میٹر پر نظر آنے والا نتیجہ نہیں ہے جو حالات کو خراب کرے گا، بلکہ گرمی کے ساتھ نمی کا زیادہ تناسب ہے جو اسے مہلک بنا دیتا ہے۔ یعنی اگر ہوا خشک ہو تو زیادہ درجہ حرارت میں بھی دن گزارنا آسان ہوگا، لیکن ہوا میں نمی کا تناسب زیادہ ہو تو کم درجہ حرارت میں بھی زندگی بچانا مشکل ہو جاتا ہے۔
اس کو ویٹ بلب ٹمپریچر کہتے ہیں، ماہرین کہتے ہیں کہ اگر ویٹ بلب ٹمپریچر 35 درجہ سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جائے تو ایک صحت مند بالغ انسان کا بچنا مشکل ہو جاتا ہے، باوجود اس کے کہ اگر اسے سایہ اور پینے کا پانی بھی دستیاب ہو۔خلیج میں گرمی کی لہروں پر حالیہ تحقیق کے نمایاں مصنف کولن ریمنڈ کہتے ہیں کہ جب ویٹ بلب ٹمپریچر بہت زیادہ ہو تو ہوا میں نمی کے تناسب کی وجہ سے پسینے کا عمل جسم کو ٹھنڈا کرنے میں غیر مؤثر ہو جاتا ہے۔ یوں 6 گھنٹوں بعد جسم کے اعضا کام کرنا چھوڑ جاتے ہیں اور ٹھنڈ حاصل کرنے کے مصنوعی ذرائع مثلاً ایئر کنڈیشنر تک رسائی نہ ہو تو موت یقینی ہوگی۔
اس ہلاکت خیز گرمی کا سامنا پہلے بھی ہوچکا ہے، سنہ 2015 میں پاکستان اور بھارت میں گرمی کی ایسی ہی ایک لہر میں 4 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تب ویٹ بلب ٹمپریچر صرف 30 درجہ سینٹی گریڈ تک ہی پہنچا تھا۔ اس سے پہلے 2003 میں مغربی یورپ میں گرمی کی لہر میں 50 ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی تھیں حالانکہ ویٹ بلب ٹمپریچر 30 درجہ سینٹی گریڈ تک بھی نہیں پہنچا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی حدت کو پیرس معاہدے کے عین مطابق 1.5 درجہ سینٹی گریڈ تک محدود رکھا جائے تو بدترین اثرات سے بچا جا سکتا ہے۔ لیکن پھر بھی کئی علاقے ایسے ہوں گے کہ جہاں عالمی اوسط سے کہیں زیادہ درجہ حرارت میں اضافہ ہوگا اور اس کے انتہائی سنگین اثرات سامنے آئیں گے۔


مشہور خبریں۔
بن سلمان کا یوکرین کی 400 ملین ڈالر کی مدد کا وعدہ
?️ 15 اکتوبر 2022سچ خبریں:سعودی عرب نے یوکرین کے لیے 400 ملین ڈالر کی انسانی
اکتوبر
راکٹ حملے سے ہمارا کوئی تعلق نہیں، دشمن بہانے تراش رہا ہے:حزب اللہ
?️ 23 مارچ 2025 سچ خبریں:حزب اللہ نے جنوبی لبنان سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی
مارچ
اللہ کا شکر ہے بڑی تباہی نہیں ہوئی، فورسز نے بہادری سے حملہ آوروں کا خاتمہ کیا، شہباز شریف
?️ 18 فروری 2023کراچی: (سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف نے کراچی پولیس آفس پر
فروری
کینیڈا میں مسلم خاندان کے قتل کا معاملہ، ہزاروں افراد نے اس دہشت گردی کے خلاف مارچ کیا
?️ 13 جون 2021کینیڈا (سچ خبریں) کینیڈا میں ایک انتہاپسند دہشت گرد کی جانب سے
جون
کُرم میں ہر حال میں امن یقینی بنایا جائے گا، دشمنوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے، بیرسٹر سیف
?️ 5 جنوری 2025 پشاور: (سچ خبریں) مشیراطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹرسیف نے واضح کیا کہ گرینڈ
جنوری
مشرق وسطیٰ کی جنگ سے سوڈان کے صحت اور انسانی بحران میں اضافہ
?️ 24 اپریل 2026 سچ خبریں:مشرق وسطیٰ کی جنگ نے سوڈان میں صحت اور انسانی
اپریل
ٹرمپ کو مجرمانہ الزامات کی چوتھی سیریز کا سامنا
?️ 15 اگست 2023سچ خبریں:سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مجرمانہ الزامات کی چوتھی سیریز
اگست
صلح کے دھوکے سے جنگ کی حقیقت تک؛ تھائی لینڈ–کمبوڈیا سرحد پر ٹرمپ کی جنگ بندی کا خاتمہ
?️ 11 دسمبر 2025سچ خبریں:چند ہفتے قبل اس جنگ بندی کو جسے ڈونلڈ ٹرمپ نے
دسمبر