?️
سچ خبریں:اقوام متحدہ کے تازہ تجزیے کے مطابق یمن کی تقریباً نصف آبادی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے، لاکھوں افراد قحط کے خطرے میں ہیں جبکہ امدادی فنڈز کی کمی صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔
اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ فوڈ سیکیورٹی پلیٹ فارم کے تازہ ترین تجزیے کے مطابق یمن کی تقریباً نصف آبادی شدید غذائی عدم تحفظ کی بلند سطح کا سامنا کر رہی ہے اور اگر بین الاقوامی امداد میں کمی جاری رہی تو یہ بحران مزید گہرا ہو جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق تقریباً پانچ ملین افراد، جو یمنی آبادی کا 47 فیصد بنتے ہیں، اس وقت غذائی عدم تحفظ کے شدید یا اس سے بھی بدتر حالات میں زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ مزید 14 لاکھ افراد ایمرجنسی کی سطح پر موجود ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت، عالمی خوراک پروگرام اور یونیسیف کی مشترکہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معاشی تباہی، موسمی جھٹکوں، روزگار کے نظام میں خلل اور انسانی امداد میں کمی نے یمنی خاندانوں کو اپنی برداشت سے کہیں زیادہ دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جون سے ستمبر تک کے کم خوراک موسم میں ایمرجنسی سطح پر موجود افراد کی تعداد بڑھ کر 15 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ اکتوبر سے دسمبر 2026 کے بعد یہ تعداد 18 لاکھ تک جا سکتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خوراک کے محدود تنوع، ناکافی غذائی استعمال، صحت اور غذائیت کی خدمات تک محدود رسائی اور زندگی کے بگڑتے حالات نے خاص طور پر حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی ماؤں اور چھوٹے بچوں میں شدید غذائی قلت کے خطرات بڑھا دیے ہیں۔
اسی دوران بے قاعدہ تنخواہیں، خوراک اور ایندھن کی بلند قیمتیں، آمدنی کے محدود مواقع اور زرعی پیداوار میں رکاوٹیں خاندانوں کی بنیادی غذائی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت کو مزید کمزور کر رہی ہیں۔
تقریباً 60 فیصد یمنی گھرانے کسی نہ کسی حد تک زراعت پر انحصار کرتے ہیں، تاہم شدید موسمی حالات، کیڑوں اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باعث فصلیں شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مالی بحران کے باعث انسانی امداد، غذائیت، صحت اور پانی کے شعبوں میں سرگرمیاں تیزی سے کم ہو رہی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت اپنے مقامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر موبائل کلینکس کے ذریعے بے گھر افراد کے کیمپوں تک طبی خدمات پہنچا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے امدادی اداروں نے عالمی برادری سے فوری فنڈنگ کی اپیل کی ہے تاکہ خوراک، صحت، زراعت اور بحالی کے پروگراموں کو جاری رکھا جا سکے۔


مشہور خبریں۔
تل ابیب کے حالات کشیدہ!
?️ 16 جنوری 2023سچ خبریں:صہیونی ذرائع ابلاغ نے تل ابیب میں سلامتی کی کشیدہ صورت
جنوری
پی ٹی آئی رہنماؤں کی ضمانت کی درخواست منظور
?️ 20 جون 2022اسلام آباد(سچ خبریں)اسلام آباد کی مقامی عدالت نے لانگ مارچ کے دوران
جون
لاشوں پر نیتن یاہو کی سیاست
?️ 6 جون 2025سچ خبریں:صیہونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو دو صہیونی قیدیوں کی لاشوں
جون
سیکڑوں امریکی صحافیوں کا صیہونی حکومت کا اصلی چہرہ سامنے لانے کا مطالبہ
?️ 13 جون 2021سچ خبریں:سیکڑوں امریکی نامہ نگاروں اور صحافیوں نے فلسطین کے ساتھ امریکی
جون
آرمی چیف کی تعیناتی کا فیصلہ وزیراعظم اکیلے نہیں تمام اتحادی جماعتوں کی مشاورت سے کرینگے۔مریم اورنگزیب
?️ 29 جون 2022اسلام آباد(سچ خبریں)وفاقی وزیر مریم اورنگزیب نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے سوال کا جواب
جون
ماڈل ٹاؤن واقعہ میں رانا ثنااللہ ملوث ہے، یہ کیس دوبارہ کھول رہے ہیں، شیریں مزاری
?️ 28 اگست 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) پی ٹی آئی کی رہنما اور سابق وزیر
اگست
خرم سہیل لغاری نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان واپس لےلیا، لانگ مارچ میں شرکت کا اعلان
?️ 29 اکتوبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی سہیل لغاری
اکتوبر
گوگل کے سی ای او کیخلاف مقدمہ درج
?️ 27 جنوری 2022نیویارک (سچ خبریں)گوگل کے سی ای او کے خلاف مقدمہ درج کر
جنوری