بہت جلد ایران کے بارے میں فیصلہ کروں گا:ٹرمپ 

بہت جلد ایران کے بارے میں فیصلہ کروں گا:ٹرمپ 

?️

سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران سے متعلق فیصلے جلد متوقع ہیں، جو کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان حالیہ غیرمستقیم مذاکرات کے تناظر میں ایک اہم بیان ہے۔

 سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا سے واپسی پر ایئرفورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم بہت جلد ایران کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب حال ہی میں ایران اور امریکہ کے درمیان غیرمستقیم مذاکرات کا پہلا دور عمان کے دارالحکومت مسقط میں منعقد ہوا، جس میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی صدر کے نمائندہ خصوصی اسٹیو ویتکاف نے شرکت کی۔
واضح رہے کہ یہ مذاکرات اس لحاظ سے بھی تاریخی نوعیت کے حامل ہیں کہ یہ 2018 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے یکطرفہ طور پر جوہری معاہدے سے نکلنے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلا اعلیٰ سطحی بالواسطہ رابطہ ہے۔
ٹرمپ نے تیزی سے فیصلہ کرنے کی بات ایسے وقت میں کہی ہے جب دوطرفہ کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک بالواسطہ طریقے سے ایک دوسرے کے ساتھ دوبارہ بات چیت کی میز پر واپس آ چکے ہیں۔
درایں اثنا ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ
دو گھنٹے سے زائد دورانیے کی گفتگو میں عمان کے وزیر خارجہ کی کوششوں سے بات چیت کا ماحول نرم، محترمانہ اور تعمیری رہا، دونوں وفود کے درمیان چار بار پیغامات کا تبادلہ ہوا، پہلا اجلاس ایک مثبت پیش رفت تھا۔
ٹائمز آف اسرائیل نے انکشاف کیا کہ امریکی نمائندے ویٹکاف نے اسرائیلی وزیر برائے اسٹریٹجک امور، رون درمر کو مذاکرات کی تفصیلات سے باقاعدہ آگاہ کیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اسرائیل کو بھی اس عمل میں قریبی نگرانی کی سہولت دی جا رہی ہے۔
آکسیوس اور سی این این کے مطابق، امریکہ اور ایران کے درمیان اگلا دور مذاکرات 19 اپریل کو اٹلی کے دارالحکومت روم میں ہونے کا امکان ہے،
امریکی انتظامیہ نے بھی ان مذاکرات کو مثبت اور تعمیری قرار دیا ہے۔
ان بی سی نیوز کے رپورٹر وون ہیلیارد کے مطابق، اسٹیو ویتکاف نے بھی ایک سوشل میڈیا پیغام میں مذاکرات کو مثبت اور تعمیری قرار دیا۔
اس پیشرفت کو دیکھتے ہوئے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ مذاکرات غیرمستقیم اور ابتدائی مرحلے میں ہیں، مگر فریقین کی باڈی لینگویج اور بیانات ایک نرم مزاجی اور آمادگی کا عندیہ دے رہے ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان برسوں کی کشیدگی کے بعد بالآخر دوبارہ مذاکرات کی کھڑکی کھلنے لگی ہے۔ ٹرمپ کے تازہ بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ جلد فیصلہ کن اقدامات کی طرف بڑھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
دوسری طرف ایران بھی برابری کی سطح پر مذاکرات کو جاری رکھنے پر آمادہ ہے، بشرطیکہ اس کے قومی مفادات کو مدنظر رکھا جائے۔
اگر یہ عمل کامیاب رہا، تو یہ نہ صرف ایران-امریکہ تعلقات میں ایک اہم موڑ ہو گا بلکہ خطے میں استحکام اور عالمی معیشت کے لیے بھی مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔

مشہور خبریں۔

ممکنہ مذاکرات میں جے ڈی وینس کی موجودگی یا غیر موجودگی کے بارے میں متضاد خبریں

?️ 20 اپریل 2026 سچ خبریں:جہاں ایک طرف بعض امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے

یمن میں سعودی-اماراتی اختلافات؛ جنوبی یمن میں اقتدار کی جنگ

?️ 15 دسمبر 2025سچ خبریں:یمن میں سعودی اور اماراتی اتحادیوں کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات،

بائیڈن نے صیہونیوں سے حزب اللہ کے بارے میں کیا کہا؟

?️ 21 اکتوبر 2023سچ خبریں: باخبر ذرائع نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ امریکی صدر

شہید السنوار کی اسرائیل پر کاری ضرب

?️ 22 اکتوبر 2024سچ خبریں: امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنے ایک مضمون میں اعلان

آصف کرمانی نے ن لیگ چھوڑنے کا اعلان کیوں کیا؟

?️ 21 جولائی 2024سچ خبریں: مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف

کیا الجزیرہ پر پابندی لگانے سے صیہونی جرائم چھپ جائیں گے؟

?️ 6 مئی 2024سچ خبریں: اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے نیتن

امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات کس طرف جا ر ہے ہیں

?️ 11 نومبر 2025امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات کس طرف جا رہا ہے سابق امریکی

نئے میزائل کی رونمائی ایران کی قوت مدافعت کا حصہ ہے:صیہونی میڈیا

?️ 27 مئی 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کے چینل 12 نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے