?️
سچ خبریں:مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ایک ماہر اور تجزیہ کار نے امریکہ اور صہیونی ریاست کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جنگ کو ایک سیاسی اور اسٹریٹجک غلطی قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ واشنگٹن اور تل ابیب کے حسابات اور اندازے غلط ثابت ہوئے ہیں اور یہ جنگ انہیں بتدریج ایک اسٹریٹجک خودکشی کی طرف لے جا رہی ہے۔
فلسطینی ماہر اور تجزیہ کار نبهان خریشه نے امریکہ اور صہیونی ریاست کی ایران کے خلاف مشترکہ جنگی پالیسی پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ یہ جنگ ناگزیر فوجی ضرورت کا نتیجہ نہیں بلکہ بعض عیسائی صہیونی سیاستدانوں کے نظریاتی دباؤ اور امریکہ کی مشرقِ وسطیٰ میں اپنی ناکامیوں سے سبق نہ سیکھنے کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق، جیسا کہ کئی تجزیوں، رپورٹس اور سابق امریکی حکام کے بیانات میں بارہا آیا ہے، ٹرمپ حکومت میں دائیں بازو کے مسیحی صہیونی عناصر اور اسرائیل میں ان کے سیاسی و میڈیا اتحادی مسلسل دباؤ ڈال رہے تھے تاکہ امریکہ کو اس جنگ میں دھکیلا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس جنگ کا مقصد محض قوت مدافعت یا علاقائی سلامتی نہیں تھا جیسا کہ امریکی سرکاری بیانات میں دعویٰ کیا جاتا ہے، بلکہ یہ مافوق الفطرت تصورات، جیوپولیٹیکل مفادات اور اسرائیل کی اس دائمی خواہش کا خطرناک امتزاج تھا کہ کسی بھی علاقائی طاقت کو ختم کیا جائے جو اس کی بالادستی کے منصوبے کے لیے چیلنج بن سکتی ہے۔
ایران کے خلاف جنگ کے تباہ کن نتائج
ان کے مطابق، اسرائیل اور امریکہ میں مسیحی صہیونی حلقوں نے یہ گمراہ کن تصور پھیلایا کہ ایران کی قیادت، جوہری تنصیبات اور سرکاری اداروں پر مرکوز حملے سے ایران جلد ٹوٹ جائے گا اور اس کی جگہ ایک مغرب نواز نظام آ جائے گا۔
تاہم، پینٹاگون کی گزشتہ برسوں کی جنگی مشقوں اور جائزوں سے واضح ہے کہ
* ایران کے ساتھ جنگ شروع تو ہو سکتی ہے
* لیکن اس کا کنٹرول مشکل اور انجام غیر متوقع ہوگا
* اور اس کے تباہ کن اثرات امریکہ کے مفادات اور عالمی معیشت کے لیے ناگزیر ہوں گے
انہوں نے وضاحت کی کہ:
* جوہری تنصیبات کی تباہی کسی ملک کی تباہی نہیں ہوتی
* کمانڈ سینٹرز پر حملہ کسی نظام کے خاتمے کی ضمانت نہیں
* سرکاری عمارتوں کی بمباری پوری قوم کو مفلوج نہیں کر سکتی
جنگ کے بعد ایک بڑی آبادی والا ملک باقی رہے گا جو طویل پابندیوں اور دباؤ کا تجربہ رکھتا ہے اور جس کے پاس ایسا میزائل نظام موجود ہے جو خلیج فارس میں دشمنوں کے اڈوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ محض ایک نظریہ نہیں بلکہ ایک مستحکم بازدارندگی کی حقیقت ہے۔ امریکی جنرلز جانتے تھے کہ ایران اپنے میزائلوں، سمندری صلاحیتوں، دباؤ کے ذرائع اور اتحادیوں کے ذریعے پورے خطے کو جنگ میں جھونک سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن اور تل ابیب نے ایسے رویہ اختیار کیا جیسے تاریخ سے کوئی سبق نہ سیکھا ہو۔ یہ جنگ امریکہ کی طاقت نہیں بلکہ اس کی سیاسی سوچ کی ناکامی اور اسٹریٹجک بصیرت کی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
ایران کے خلاف جنگ نہ صرف ایک سیاسی اور اسٹریٹجک غلطی ہے بلکہ یہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح امریکہ میں نظریاتی انتہاپسندی اور سامراجی عزائم کا اتحاد دنیا کو تباہی کے دہانے پر لا سکتا ہے۔ امریکی پالیسی سازوں نے پیشہ ورانہ انتباہات اور جغرافیائی حقائق کو نظرانداز کیا، دشمن کی صلاحیتوں کو کم سمجھا اور تیز فتح کے فریب میں مبتلا ہو گئے۔
فوجی اندازوں کو نظرانداز کرنا: بتدریج اسٹریٹجک خودکشی
تمام جاری حالات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ امریکی جنرلز کے مشوروں کو نظرانداز کرنا بہادری نہیں بلکہ لاپرواہی تھی۔ سیاسی حسابات کو فوجی تجزیوں پر ترجیح دینا کوئی مضبوط فیصلہ نہیں بلکہ ایک بتدریج اسٹریٹجک خودکشی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ صرف بمباری کے ذریعے ایک بڑی طاقت کو گرانے کی امید رکھنا دراصل مشرقِ وسطیٰ کو آگ میں جھونکنے، عالمی معیشت کو نقصان پہنچانے اور ایسے انتشار کے دروازے کھولنے کے مترادف ہے جسے شاید کوئی بند نہ کر سکے۔
رپورٹ کے مطابق، حال ہی میں امریکہ اور صہیونی ریاست کی جانب سے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی حملہ کیا گیا جب کہ اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات بھی جاری تھے۔
اس کے جواب میں ایران نے فیصلہ کن، ہدفی اور متناسب ردعمل دیا، جس کے تحت اسرائیل کے مختلف شہروں میں فوجی اور سیکیورٹی مراکز اور خطے میں امریکی اڈوں کو میزائل، ڈرون اور فضائی حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔


مشہور خبریں۔
غزہ میں 800,000 سے زائد افراد کو جنگ اور غذائی قلت کا سامنا
?️ 18 جنوری 2024سچ خبریں: آج ایک نیوز کانفرنس میں حمدان نے کہا کہ غزہ کی
جنوری
جرمن عوام کی صیہونی حکومت کی حمایت کی مخالفت
?️ 26 نومبر 2025سچ خبریں:جرمنی میں ہونے والے ایک سروے کے مطابق اس ملک کے82
نومبر
مالی سال 2023 کے 11 مہینے: وفاقی حکومت کے ملکی قرضوں میں 60 کھرب روپے کا اضافہ
?️ 6 جولائی 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) گزشتہ مالی سال 2023 کے ابتدائی 11 مہینے
جولائی
سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں پراپرٹی کی فروخت پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز منظور
?️ 16 جون 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے پراپرٹی
جون
جادوئی چراغ ؛ میدان جنگ میں اسرائیلی فوج کے کمانڈروں کے لیے ایک گائیڈ
?️ 18 اپریل 2025سچ خبریں: صہیونی میڈیا نے مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی پر انحصار کرتے ہوئے
اپریل
پی ٹی آئی رہنماؤں کے غیر ذمہ دارانہ بیانات سے ملکی ساکھ کو نقصان پہنچا۔ وزیراعظم
?️ 16 جولائی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان
جولائی
احمد علی اکبر کو شادی کی مبارک باد دینے پر یمنیٰ زیدی کو طعنے
?️ 22 فروری 2025کراچی: (سچ خبریں) ساتھی اداکار احمد علی اکبر کو ان کی شادی
فروری
ایم کیو ایم نے مری واقعے کا ذمہ دار وفاقی اور صوبائی حکومت کو قرار دے دیا
?️ 11 جنوری 2022اسلام آباد(سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز ہونے والے قومی اسمبلی
جنوری