?️
سچ خبریں:ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے سیاسی مخالفین پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں ملک میں افراتفری پھیلانے کی کوششوں کا مرتکب قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ترکی میں گرفتاریوں کا بازار گرم
انہوں نے واضح کیا کہ سڑکوں پر احتجاج کا زمانہ ختم ہو چکا ہے اور اب ترکی صرف قانون کی حکمرانی کے تحت چلے گا، نہ کہ افراد یا جماعتوں کی خواہشات کے مطابق۔
اردوغان نے یہ بیان ایک افطار تقریب کے بعد اپنی تقریر میں دیا، جہاں انہوں نے اپوزیشن جماعت ریپبلکن پیپلز پارٹی (CHP) کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ جماعت اب عوامی نمائندہ نہیں رہی بلکہ بدعنوان شہری منتظمین کے جرائم کا دفاع کرنے والا ایک آلہ بن چکی ہے۔
انہوں نے CHP کے رہنما اوزغور اوزل کو مخاطب کرتے ہوئے سوال کیا کہ آخر آپ کو گھبراہٹ کیوں ہے؟ کیا آپ کرپشن کا انکار کر سکتے ہیں؟ اردوغان نے الزام لگایا کہ اپوزیشن سڑکوں پر ہنگامے، عدلیہ کو دھمکانے اور عوام کو اکسانے کے ذریعے ملک میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ترک صدر نے زور دیا کہ اگر اپوزیشن واقعی دلیر ہے تو اسے چاہیے کہ وہ عدالتی کارروائی کو بغیر کسی سیاسی دباؤ کے جاری رہنے دے۔ اردوغان نے کہا کہ ترکی میں قانون کی حکمرانی قائم ہے اور ملکی نظم و نسق آئینی و قانونی اصولوں کے تحت ہی چلایا جائے گا۔
ترکی میں موجودہ سیاسی تناؤ اس وقت بڑھا جب اپوزیشن جماعت کے مقبول رہنما اور استنبول کے میئر اکرم امام اوغلو کو بدعنوانی، رشوت خوری اور دہشت گردی سے متعلق الزامات کے تحت حراست میں لے لیا گیا۔ ان کی گرفتاری کے بعد استنبول، ازمیر اور دیگر شہروں میں عوامی مظاہرے پھوٹ پڑے۔
استغاثہ کی جانب سے امام اوغلو سمیت 99 افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے، تاہم ناقدین اس اقدام کو ایک "سیاسی انتقام” اور "آئینی بغاوت” قرار دے رہے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک قانونی کارروائی نہیں بلکہ حکومت کی جانب سے سیاسی مخالفین کو راستے سے ہٹانے کی کوشش ہے۔
اردوغان کے حالیہ بیانات نے سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ایسے وقت میں جب ملک بھر میں جمہوری اقدار، عدالتی آزادی اور اظہار رائے کی آزادی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان محاذ آرائی شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس میں 486 پوائنٹس کا اضافہ
?️ 12 دسمبر 2023کراچی: (سچ خبریں) پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے ابتدائی روز
دسمبر
واشنگٹن اور ماسکو میں شدید تناؤ، امریکہ روسی سفارتکاروں پر پابندیاں عائد کرسکتا ہے
?️ 8 اپریل 2021واشنگٹن (سچ خبریں) ایک طرف جہاں امریکی صدر جوبائیڈن کی جانب سے
اپریل
صومالیہ میں اسرائیل کی کوئی بھی موجودگی یمن کے لیے ایک فوجی ہدف ہے
?️ 29 دسمبر 2025سچ خبریں: صیہونی حکومت صومالی لینڈ کے گیٹ وے کے ذریعے یمن،
دسمبر
امریکیوں کے لیے "ڈیجا وو”؛ حکومتی بندش کا کیا مطلب ہے؟
?️ 1 اکتوبر 2025سچ خبریں: ریپبلکن اور ڈیموکریٹس کی جانب سے ایک دوسرے کی عارضی
اکتوبر
ہمیں اپنی سرزمین پر کہیں بھی فوج تعینات کرنے کا حق ہے:روس
?️ 12 جنوری 2022سچ خبریں:واشنگٹن میں روسی سفارت خانے نے امریکی نائب وزیر خارجہ کے
جنوری
لائبرمین کا اسرائیل پر ایرانی میزائل حملوں سے اہم نقصان کا اعتراف
?️ 21 جولائی 2025سچ خبریں: اسرائیل کے سابق وزیر جنگ ایویگڈور لائبرمین نے ایران کی
جولائی
بائیڈن کے دماغی صحت پر اٹھنے والے سوالات
?️ 17 فروری 2024سچ خبریں:امریکی ایوان نمائندگان کے 83 اراکین نے جو بائیڈن کی ذہنی
فروری
مغربی کنارے پر صیہونیوں کا حملہ؛ رام اللہ سے جنین تک فلسطینی آگ اور جبر کی زد میں ہیں
?️ 8 نومبر 2025سچ خبریں: فلسطینی خبررساں ذرائع نے صیہونی حکومت کے فوجیوں کی جانب
نومبر