سچ خبریں:ترکی میں حکومت مخالف مظاہروں کی کوریج کرنے والے بی بی سی کے ایک رپورٹر کو ملک بدر کر دیا گیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا ادارے فرانس 24 کے مطابق، ترک حکام نے بی بی سی کے صحافی کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے کر پہلے گرفتار اور پھر ملک سے نکال دیا۔
یہ صحافی استنبول کے ایک ہوٹل سے جاری مظاہروں کی رپورٹنگ کر رہا تھا، جب ترک سیکیورٹی فورسز نے اسے حراست میں لیا اور بعد ازاں ملک بدری کے احکامات جاری کر دیے،حکام نے دعویٰ کیا کہ صحافی کی سرگرمیاں ترکی کے داخلی استحکام کے خلاف تھیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ترکی میں استنبول کے میئر کی حمایت میں جاری مظاہروں میں شدت آ چکی ہے۔ ترک حکومت کے مخالفین پر کریک ڈاؤن جاری ہے، اور تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، تقریباً 2 ہزار افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
بی بی سی رپورٹر کی ملک بدری نے ایک بار پھر ترکی میں آزادی صحافت کے حوالے سے عالمی سطح پر خدشات کو ہوا دی ہے۔ انسانی حقوق کے اداروں اور صحافتی تنظیموں نے ترک حکومت کے اس اقدام کو میڈیا کی آواز دبانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: ترکی میں اقتصادی بحران پر سیاسی تناؤ کا اثر
مبصرین کا کہنا ہے کہ ترک حکومت ملک میں تنقیدی آوازوں کو روکنے کے لیے سخت پالیسیاں اپنا رہی ہے، اور بین الاقوامی میڈیا کو بھی نشانہ بنانے لگی ہے۔
Short Link
Copied
مشہور خبریں۔
صیہونی ایک بار پھر سعودی عرب سے خوش
ستمبر
نیٹسریم ہارے ہوئے گھوڑے پر جوا کیوں کھیل رہا ہے؟!
اگست
متحدہ عرب امارات اور صیہونی حکومت کے درمیان مفاہمت کی ایک نئی یادداشت پر دستخط
دسمبر
بلنکن کا عرب نیٹو کو بحال کرنے کا منصوبہ
مئی
بانی پی ٹی آئی کا حکومت اور فوج کو پیغام
اگست
صہیونی حزب اللہ کے نشانے پر
مارچ
اندرونی خطرات فوج کی فوجی طاقت کو تباہ کردے گی :صہیونی تھنک ٹینک
اپریل
کورونا وائرس کی بحرانی اور مشکل صورتحال میں امریکا نے بھارت کا ساتھ چھوڑ دیا
اپریل