آبنائے ہرمز کی سلامتی سے متعلق ٹرمپ کے بیان کا عالمی سطح پر مذاق؛ ایکس پر شدید ردعمل

آبنائے ہرمز

?️

سچ خبریں:ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کہ مشرق وسطیٰ کے امیر ممالک کو آبنائے ہرمز کی سلامتی کے لیے امریکہ کو ادائیگی کرنی چاہیے، پر سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر غیر ملکی صارفین نے شدید تنقید اور طنزیہ ردعمل کا اظہار کیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کہ مشرق وسطیٰ کے امیر ممالک کو آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے امریکہ کو ادائیگی کرنی چاہیے، کے بعد سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر غیر ملکی صارفین کی جانب سے طنزیہ اور تنقیدی ردعمل سامنے آیا۔

ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد کہ امریکہ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک سے آبنائے ہرمز کی حفاظت کے اخراجات وصول کرنا چاہتا ہے، ایکس پر متعدد غیر ملکی صارفین نے ان کے بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

بہت سے صارفین نے لکھا کہ ایران کے خلاف امریکی جنگ شروع ہونے سے پہلے آبنائے ہرمز بین الاقوامی جہاز رانی اور عالمی تجارت کے لیے بغیر کسی رکاوٹ کے کھلی ہوئی تھی، لیکن اب واشنگٹن ایسی صورتحال کو بحال کرنے کے لیے خطے کے ممالک سے رقم طلب کر رہا ہے جسے خود اس کی پالیسیوں نے متاثر کیا۔

ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ امریکہ دنیا کے ایک انتہائی امیر خطے کی حفاظت کر رہا ہے، اس لیے سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات سمیت مشرق وسطیٰ کے دولت مند ممالک کو اس تحفظ کے اخراجات واشنگٹن کو ادا کرنے چاہییں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے خلاف امریکہ اور صہیونی حکومت کی حالیہ جنگ کے بعد آبنائے ہرمز کی سلامتی اور اس اہم آبی گزرگاہ میں جہاز رانی کا موضوع ایک بار پھر علاقائی اور عالمی مباحث کا اہم مرکز بن گیا ہے۔

بعض صارفین نے اس طرز عمل کو پہلے بحران پیدا کرو، پھر اس کا بل بھیج دو سے تشبیہ دیتے ہوئے لکھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کا طریقہ کار یہ ہے کہ پہلے سکیورٹی بحران پیدا کیا جاتا ہے اور پھر اسی بحران کو ختم کرنے کے لیے دوسروں سے رقم کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔

کچھ دیگر صارفین نے حالیہ کشیدگی میں صہیونی حکومت کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ اسرائیل کی حمایت میں شروع کی گئی تھی، اس لیے عرب ممالک کے پاس کوئی وجہ نہیں کہ وہ ایسے تنازعے کی قیمت ادا کریں جس کا آغاز امریکہ اور اسرائیل نے کیا ہو۔

اس معاملے پر چند غیر ملکی صارفین کے تبصرے درج ذیل ہیں۔

انہوں نے لکھا، انہیں آپ کو رقم دینی پڑتی ہے، حالانکہ یہ جنگ اسرائیل کے تحفظ کے لیے لڑی جا رہی ہے اور دنیا کی بیشتر مشکلات کی جڑ اسرائیل ہے۔

ایک صارف نے تبصرہ کیا، یہ انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کاروباری ماڈل یہ ہے کہ پہلے سکیورٹی بحران پیدا کیا جائے، پھر اس کا بل دوسروں کو بھیج دیا جائے۔

ایک اور صارف نے لکھا، ٹرمپ چاہتے ہیں کہ دنیا امریکہ کو اس آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے رقم ادا کرے، جو ایران پر حملے سے پہلے بغیر کسی قیمت کے کھلی ہوئی تھی، جبکہ اس کے بدلے میں دنیا کو ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے کوئی واضح پیش رفت بھی نظر نہیں آتی۔

ایک صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا، یہ کیسی مضحکہ خیزی ہے؟ جس چیز کو آپ اور نیتن یاہو کی بمباری سے پہلے نہ بند کیا گیا تھا اور نہ ہی اسے خطرہ لاحق تھا، اب اسی کی حفاظت کا دعویٰ کیا جا رہا ہے؟ کیا آپ اسی آبنائے کی بات کر رہے ہیں؟ یا اس جنگ کی جو اب موجود ہی نہیں؟ یہ تو محض ایک بالواسطہ انتقامی کارروائی معلوم ہوتی ہے۔

مشہور خبریں۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں کشمیری رہنماؤں کی رہائی کے لیئے عملی قدم اٹھائیں: جموں کشمیر مسلم لیگ

?️ 12 مارچ 2021سرینگر (سچ خبریں) مقبوضہ کشمیر میں جموں و کشمیر مسلم لیگ نے عالمی

لاہور ہائی کورٹ: ٹی ایل پی کے رکن کا نام فورتھ شیڈول میں ڈالنے کا حکم کالعدم قرار

?️ 15 جولائی 2023لاہور:(سچ خبریں) لاہور ہائی کورٹ نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی)

 اسرائیل کے میزائل ڈیفنس سسٹمز ہائی الرٹ،معاملہ کیا ہے؟

?️ 11 مارچ 2025 سچ خبریں:صیہونی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیل نے اپنے

امریکہ اور اسرائیل مل کر یمن کو شکست دینے میں ناکام رہے؛صیہونی میڈیا کا اعتراف

?️ 17 مئی 2025 سچ خبریں:صیہونی ذرائع ابلاغ نے تسلیم کیا ہے کہ امریکہ اور

غزہ 2005 سے غزہ 2025 تک؛ شیرون کی شکست کا منظر نامہ نیتن یاہو کا منتظر ہے

?️ 12 اگست 2025سچ خبریں:  نیتن یاہو کے غزہ میں ایریل شیرون سے کہیں زیادہ

اسموٹریچ اور بن گوئر نیتن یاہو کی سیاسی زندگی کا کیسے خاتمہ کریں گے؟

?️ 16 اپریل 2024سچ خبریں: نیتن یاہو کی کابینہ کے داخلی سلامتی اور مالیات کے

عراقی پارٹی کے رہنماؤں کے سعودی عرب کے مقاصد

?️ 28 اپریل 2023سچ خبریں:ایک بار پھر محمد الحلبوسی اور شیعہ کوآرڈینیشن فریم ورک کے

جسٹس اطہر من اللہ کا چیف جسٹس کو خط، عوامی رائے کو دبانے کیلئے سپریم کورٹ کے استعمال پر اظہار افسوس

?️ 11 نومبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ کے جج اطہر من اللہ نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے