امریکہ میں علیحدگی پسند تحریکیں دوبارہ سرگرم؛ سیاسی و جغرافیائی تقسیم میں اضافہ

امریکہ میں علیحدگی پسند تحریکیں دوبارہ سرگرم

?️

سچ خبریں:امریکہ میں کاسکیڈیا، ٹیکسیٹ اور کیلیفورنیا کی علیحدگی جیسی تحریکیں دوبارہ زور پکڑ رہی ہیں، جو سیاسی پولرائزیشن، وفاقی ریاستی اختلافات اور سماجی تقسیم میں اضافے کی عکاسی کرتی ہیں۔

امریکہ، جو خود کو سیاسی استحکام اور قومی اتحاد کی علامت کے طور پر پیش کرتا ہے، حالیہ ہفتوں میں ایک بار پھر مختلف علیحدگی پسند اور علاقائی خودمختاری کے مطالبات والی تحریکوں کی وجہ سے خبروں میں ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکہ میں بڑھتی ہوئی سیاسی تقسیم، وفاقی حکومت اور ریاستوں کے درمیان اختلافات اور پالیسیوں پر عدم اطمینان نے ان رجحانات کو دوبارہ تقویت دی ہے۔

نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں نظریاتی اور سیاسی اختلافات کی گہرائی اور مرکزی حکومت سے دوری کے احساس نے ان تحریکوں کو دوبارہ فعال کیا ہے۔

شمال مغربی امریکہ میں کاسکیڈیا کے نام سے ایک منصوبہ زیر بحث ہے، جس کا تصور ایک آزاد اور ماحولیاتی بنیادوں پر قائم ریاستی اتحاد ہے، جس میں شمالی کیلیفورنیا، اوریگن اور واشنگٹن شامل ہیں اور یہ کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا تک پھیل سکتا ہے۔ اس تحریک کے حامی ۲۰۲۸ میں ریفرنڈم کی کوششوں کی بات کر رہے ہیں۔

جنوبی امریکہ میں ٹیکسیٹ نامی تحریک بھی سرگرم ہے، جس کا مقصد ٹیکساس کی امریکہ سے علیحدگی ہے۔ اس تحریک کے حامی 19 ویں صدی کی ٹیکساس ریپبلک کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہیں، تاہم قانونی ماہرین کے مطابق امریکی آئین کے تحت اس طرح کا اقدام عملی طور پر ممکن نہیں۔

اسی طرح کیلیفورنیا میں کالیکسٹ تحریک بھی دوبارہ توجہ حاصل کر رہی ہے، جو 2016 کے صدارتی انتخابات کے بعد سامنے آئی تھی۔ حالیہ عرصے میں وفاقی اور ریاستی حکومت کے درمیان کشیدگی نے اس تحریک کو دوبارہ فعال کیا ہے۔

کچھ رپورٹس کے مطابق لاس اینجلس میں احتجاجی صورتحال کے دوران نیشنل گارڈ کی تعیناتی نے بھی اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔

مشرقی امریکہ میں اسٹیٹن آئی لینڈ کی نیویارک شہر سے علیحدگی کی بحث دوبارہ سامنے آئی ہے، جہاں مقامی سطح پر سیاسی اور معاشی نمائندگی کے مسائل کو بنیاد بنایا جا رہا ہے۔

اسی طرح گریٹر آئیڈاہو منصوبہ بھی زیر بحث ہے، جس کے تحت اوریگن کے بعض قدامت پسند علاقے آیداہو میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

نیو میکسیکو کے جنوب مشرقی علاقوں میں بھی ٹیکساس میں شمولیت کے مطالبات سامنے آئے ہیں، اگرچہ ان کی عملی حیثیت محدود سمجھی جاتی ہے۔

سیاسی ماہرین کے مطابق یہ تمام تحریکیں امریکہ کے ٹوٹنے کا فوری اشارہ نہیں بلکہ اندرونی سیاسی، ثقافتی اور جغرافیائی تقسیم کی عکاسی کرتی ہیں۔

یونیورسٹی آف سیراکیوز کے سیاسی علوم کے پروفیسر کے مطابق یہ رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ شہریوں کا ایک بڑا حصہ وفاقی حکومت کو اپنی روزمرہ زندگی سے دور اور غیر مؤثر سمجھتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بڑھتی ہوئی سیاسی پولرائزیشن، شہری و دیہی تقسیم، معاشی نابرابری اور ریاستی و وفاقی اختلافات نے ان تحریکوں کو دوبارہ جنم دیا ہے۔

مشہور خبریں۔

باجوڑ میں افغان طالبان رجیم کا معصوم شہریوں پر حملہ، 4 بھائی شہید

?️ 15 مارچ 2026اسلام آباد (سچ خبریں) باجوڑ میں افغان طالبان رجیم کے معصوم شہریوں

وزیرداخلہ نے پی ٹی آئی کے گزشتہ روز کے اجتماعات میں حاضرین کی تعداد شیئر کردی

?️ 25 ستمبر 2022اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے پاکستان

مائیکروسافٹ: اسرائیلی فوج ہماری خدمات کا غلط استعمال کر رہی ہے

?️ 26 ستمبر 2025سچ خبریں: مائیکرو سافٹ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے

جعلی فنگر پرنٹس پر  فراڈ کرنے والا گروہ بے نقاب

?️ 6 جون 2021پشاور(سچ خبریں) خیبرپختونخوا میں جعلی فنگر پرنٹس پر فراڈ کرنے والا گروہ

افغانستان غلامی کی زنجیریں توڑنے میں کامیاب ہو گیا ہے:وزیراعظم

?️ 16 اگست 2021اسلام آباد ( سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ

امریکہ اور اسرائیل کی بمبوں کے وہم میں مبتلا پالیسی ایران کو روکنے میں ناکام: امریکی میگزین

?️ 16 جولائی 2025 سچ خبریں:امریکہ اور اسرائیل کا بمبوں سے نجات کا وہم ایران

فرانسیسی عوام کیوں سڑکوں پر اترے ہیں؟

?️ 2 جولائی 2023سچ خبریں:طالبان کے ایک سینئر رکن انس حقانی نے فرانس میں ہونے

مقبوضہ کشمیر میں بچوں کے خلاف بھارتی مظالم، پاکستان نے اقوام متحدہ میں اہم قدم اٹھالیا

?️ 30 جون 2021جنیوا (سچ خبریں) آج (بدھ) کو پاکستانی میڈیا نے بتایا کہ اسلام

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے