عوام کی جانب سے بی بی سی پر عدم اعتماد میں شدید اضافہ، ایک سال میں 5 لاکھ شکایات موصول

عوام کی جانب سے بی بی سی پر عدم اعتماد میں شدید اضافہ، ایک سال میں 5 لاکھ شکایات موصول

?️

لندن (سچ خبریں) عوام کی جانب سے برطانوی ذرائع ابلاغ بی بی سی پر عدم اعتماد میں شدید اضافہ ہورہا ہے اور لوگوں کا یہ ماننا ہیکہ بی بی سی ایک خاص نظریہ کو آگے بڑھانے کے لیئے تشکیل دی گئی ہے جس میں شدید تعصب پایا جاتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق عوام میں بی بی سی سے عدم اطمینان میں بہت تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور گذشتہ ایک سال میں تقریبا 500،000 شکایات موصول ہوئی ہیں۔

بی بی سی کی سالانہ رپورٹ کے مطابق، برطانوی ذرائع ابلاغ کو اس کے بے جا تعصب کی وجہ سے 12 مہینوں میں تقریبا 500،000 شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں اس سے عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق صرف 12 ماہ میں، بی بی سی کو اپنے سامعین سے تعصب کے خدشات کے بارے میں 500،000 شکایات موصول ہوئی ہیں۔

پچھلے دنوں شائع ہونے والی بی بی سی کی سالانہ رپورٹ کے مطابق، برطانوی میڈیا کو 2020/2021 میں 462،255 شکایات موصول ہوئی تھیں، اور خود بی بی سی کے اعتراف کے مطابق یہ تعداد پچھلے سال کے مقابلے میں 93،878 واقعات میں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔

نیٹ ورک کے متعصبانہ سلوک پر عوامی غم و غصہ میں 2018/19 کے مقابلے میں شکایات کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے ، جب 218،253 معاملات تھے۔

بی بی سی کی کمیٹی برائے رہنما اصولوں اور ادارتی معیار کے چیئرمین ایان ہارگریواس نے کہا کہ شکایات کا حجم تشویشناک ہے، رواں مالی سال موصولہ شکایات کی تعداد میں ایک اور تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کمیٹی سال بہ سال اس اضافے کی وجوہات کی جانچ کر رہی ہے اور ایگزیکٹو عہدیداروں سے شکایات کے آپریشنل ہینڈلنگ کی تحقیقات کرنے کو کہا ہے۔

ان اعداد و شمار کے بارے میں برطانوی میڈیا واچ ڈاگ آف کام نے بھی کہا کہ جمعہ کے روز اسے گزشتہ سال غیر معمولی طور پر 142،660 شکایات موصول ہوئی ہیں، جبکہ اس سے ایک سال قبل 35،545 تھے۔

بی بی سی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہماری تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ بہت سارے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بی بی سی ایک مخصوص نقطہ نظر سے تشکیل پائی ہے، یہ صرف بائیں اور دائیں پالیسیاں ہی نہیں ہے، ہم جانتے ہیں کہ بہت سے لوگوں کو لگتا ہے کہ بی بی سی دنیا کو ان کے نقطہ نظر سے نہیں سمجھتی ہے۔

واضح رہے کہ صحافی مارٹن بشیر  نے لیڈی ڈیانا کے بھائی کو برطانوی خفیہ اداروں کے بینک اکاؤنٹس کے ایسے دستاویزات دکھائے تھے، جن سے ثابت ہو رہا تھا کہ خفیہ ادارے شاہی خاندان کے دو اہم ترین افراد کو لیڈی ڈیانا کی ذاتی معلومات دینے کے عوض رقم دیتے آ رہے تھے، اور ایسی دستاویزات اور من گھڑت باتیں بتائے جانے کے بعد ہی لیڈی ڈیانا نے مارٹن بشیرکو انٹرویو دینے کے لیے رضامندی ظاہر کی تھی۔

مذکورہ انٹرویو کو پینوراما انٹرویو‘ بھی کہا جاتا ہے، جس میں لیڈی ڈیانا نے شہزادہ چارلس سے طلاق سمیت شاہی خاندان میں اپنی زندگی کی مشکلات پر کھل کر بات کی تھی۔

مذکورہ انٹرویو کو دنیا بھر میں 2 کروڑ سے زائد مرتبہ دیکھا گیا تھا اور اس نے پوری دنیا میں تہلکہ مچا دیا تھا، اسی انٹرویو کے دو سال بعد 1997 میں لیڈی ڈیانا پیرس میں ایک روڈ حادثے میں ہلاک ہوگئی تھیں۔

مذکورہ انٹرویو کے لیے لیڈی ڈیانا کو غلط معلومات فراہم کرنے کے الزامات پر بی بی سی نے 1996 میں بھی معافی مانگی تھی، تاہم گزشتہ برس ستمبر میں لیڈی ڈیانا کے بھائی کی جانب سے پرانے انٹرویو سے متعلق دوبارہ بات کرنے کے بعد بی بی سی نے نومبر 2020 میں مذکورہ معاملے کی تفتیش کا اعلان کیا تھا۔

بی بی سی نے تفتیش کے لیے ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس کو مقرر کیا تھا، جس نے اپنی رپورٹ 20 مئی کو پیش کی۔

اسی حوالے سے بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ تفتیشی رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ لیڈی ڈیانا کو دھوکا دے کر ان سے انٹرویو لیا گیا۔

مذکورہ رپورٹ میں مارٹن بشیر کو قصور وار ٹھہرانے سمیت بی بی سی کی اعلیٰ انتظامیہ کو بھی اس میں شریک ملزم قرار دیا گیا تھا، بی بی سی کے مطابق مذکورہ رپورٹ آنے کے بعد ادارے نے تحریری طور پر شاہی خاندان اور خصوصی طور پر شہزادہ ولیم اور شہزادہ ہیری سے معافی مانگی ہے۔

مشہور خبریں۔

چین نے امریکہ سے تجارتی جنگ کو عالمی جدوجہد کیوں قرار دیا ؟

?️ 26 اپریل 2025سچ خبریں: چین کی سنٹرل کمیٹی آف دی کمیونسٹ پارٹی کے اجلاس میں

زیلنسکی کا یوکرین کی ایک ہزار مربع کلومیٹرزمین واپس لینے کا دعویٰ

?️ 9 ستمبر 2022سچ خبریں:       یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے جمعہ کے

پاکستان اور امریکا نے آئندہ ہفتے مجوزہ تجارتی مذاکرات مکمل کرنے کا فیصلہ کرلیا

?️ 25 جون 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان اور امریکا نے آئندہ ہفتے مجوزہ تجارتی

ہمارا صبر طویل نہیں ہو گا:انصاراللہ کا سعودی عرب کو انتباہ

?️ 9 مئی 2022سچ خبریں:انصاراللہ کے سیاسی بیورو کے رکن نے سعودی عرب کی طرف

امریکی قانون سازوں کا عمران خان کی رہائی کیلئے بائیڈن کو خط سفارتی آداب کی خلاف ورزی ہے، دفتر خارجہ

?️ 24 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے امریکا

وزارتِ داخلہ میں بڑی تبدیلی، سینئر بیوروکریٹ کی جگہ فوجی افسر ایڈیشنل سیکریٹری تعینات

?️ 26 اگست 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومت نے وزارتِ داخلہ میں اہم انتظامی ردوبدل

لاپیڈ اور بائیڈن کا بیان علاقائی جنگیں شروع کرنا ہے: فلسطینی تحریک

?️ 14 جولائی 2022سچ خبریں:  مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی صدر جو بائیڈن اور اسرائیلی

بنگلہ دیش کی صورتحال

?️ 20 جولائی 2024سچ خبریں: بنگلہ دیش میں حالیہ دنوں سے جاری مظاہروں کے بعد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے