اسرائیل میں نیا سیاسی بحران 

اسرائیل میں نیا سیاسی بحران 

?️

سچ خبریں:اسرائیلی داخلی انٹیلی جنس ایجنسی شاباک (شین بیت) کے سربراہ رونین بارکی ممکنہ برطرفی یا استعفی نے اسرائیلی حکومت میں ایک نیا سیاسی بحران پیدا کر دیا ہے۔  

 بنیامین نیتن یاہو رونین بارکے درمیان تنازعہ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ اسرائیل کی مشاورتی قانونی اتھارٹی نے نیتن یاہو کو خبردار کیا ہے کہ وہ رونین بار کو برطرف نہیں کر سکتے۔
 مشاورتی قانونی ادارےنے ایک سرکاری خط میں کہا کہ شاباک کے سربراہ کا کام وزیر اعظم کی ذاتی وفاداری حاصل کرنا نہیں، بلکہ قومی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ نیتن یاہو جب تک شواہد فراہم نہیں کرتے، وہ رونین بار کی برطرفی کا حکم جاری نہیں کر سکتے۔
 ایتمار بن گویر، جو اسرائیل میں انتہا پسند نظریاتکے حامل ہیں، نے مشاورتی قانونی اتھارٹی پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ اسے بھی برطرف کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
 بن گویر نتنیاہو پر شدید دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ حکومت کو مزید سخت گیر موقف اختیار کرنے پر مجبور کریں۔
 اسرائیلی آرمی ریڈیونے نیتن یاہو کی حمایت میں کہا کہ رونین بار کا عہدے پر برقرار رہنا اسرائیل کی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہے۔
 جبکہ سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے کہا کہ:
  نیتن یاہو کو بہت پہلے استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا، اور جب تک وہ اقتدار میں ہیں، اسرائیل کی صورتحال مزید خراب ہوتی رہے گی۔
 لیکود پارٹی کے وزراء سے گفتگو میں نیتن یاہو نے الزام لگایا کہ رونین بار اپنے عہدے کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور مجھ پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ میں انہیں برطرف نہ کروں۔
 انہوں نے مزید کہا کہ یوآف گالانت (سابق وزیر دفاع) کو بھی اسی بنیاد پر برطرف کیا گیا، اور اس کے بعد اسرائیل نے بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔
رونین بار نے پہلے ہی اعلان کیا تھا کہ وہ 7 اکتوبر کو حماس کے حملوں کے بعد اپنی ناکامی قبول کرتے ہیں اور استعفیٰ دے دیں گے۔
 تاہم انہوں نے کہا کہ وہ تب تک مستعفی نہیں ہوں گے جب تک کہ اسرائیل میں ایک آزاد تحقیقاتی کمیٹی تشکیل نہیں دی جاتی۔
 انہوں نے خبردار کیا کہ میں اس بات کی اجازت نہیں دوں گا کہ کوئی غیر متعلقہ شخص شاباک کی قیادت سنبھالے۔
 نیتن یاہو کی حکومت اندرونی بحرانوں کا شکار ہے، جس میں انٹیلی جنس، فوج اور سیاستدان ایک دوسرے کے خلاف محاذ کھول چکے ہیں۔
 اکتوبر 7 کی ناکامی کے بعد اسرائیلی اسٹیبلشمنٹ میں اعتماد کا فقدان بڑھ چکا ہے، اور اس کا اثر داخلی سیاست پر نمایاں ہے۔
 نیتن یاہو کی قیادت پر کھل کر سوالات اٹھ رہے ہیں، اور اسرائیلی عوام اور سیاستدان ان کی ناکامیوں کو مزید برداشت کرنے کو تیار نہیں۔
 اسرائیل کی اندرونی کشیدگی اور حکومت میں موجود دراڑیں ظاہر کرتی ہیں کہ یہ بحران جلد ختم ہونے والا نہیں، بلکہ مستقبل میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

مشہور خبریں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا فلسطینیوں کے حقوق کی خلاف وزری بند کرنے کا مطالبہ

?️ 14 اکتوبر 2021سچ خبریں:انسانی حقوق کے گروپوں نے ایک امریکی کمپنی سے مطالبہ کیا

 اسرائیل دروزی اقلیت کو بہانہ بنا کر کے شام کو تقسیم کرنے کی سازش کر رہا ہے

?️ 23 جولائی 2025 اسرائیل دروزی اقلیت کو بطور آلہ کار استعمال کر کے شام کو

پیپلزپارٹی کی مخالفت کے باوجود زرعی انکم ٹیکس پنجاب 2024 بل منظور، کسانوں پر سپر ٹیکس لگے گا

?️ 15 نومبر 2024لاہور: (سچ خبریں) پنجاب اسمبلی میں زرعی انکم ٹیکس پنجاب بل 2024

اسرائیلی فوج کی غزہ میں نئی حکمت عملی کیا ہے ؟

?️ 3 دسمبر 2023سچ خبریں:اسرائیلی فوج نے ماضی کے مقابلے میں مختلف جنگی انداز اپنایا

ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھنے سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ: رائٹرز

?️ 13 جولائی 2026سچ خبریں: عالمی منڈی میں آج تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد سے

بھارتی وزیر خارجہ کے مسلح افواج کیخلاف بیانات انتہائی اشتعال انگیز اور گمراہ کن ہیں، دفتر خارجہ

?️ 7 دسمبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) دفتر خارجہ نے اتوار کے روز بھارتی وزیرِ

کیا ایران اسرائیل پر دوبارہ حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے؟

?️ 19 اپریل 2026 سچ خبریں:اسرائیلی ٹیلی ویژن کے چینل 12 نے رپورٹ کیا ہے

کیا شمالی کوریا کے 10 ہزار فوجی یوکرین جنگ میں شامل ہونے والے ہیں؟امریکی وزیر دفاع کا دعویٰ

?️ 23 نومبر 2024سچ خبریں:امریکی وزیر دفاع لوئڈ آسٹن نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے