?️
سچ خبریں:عبدالباری عطوان نے صیہونی پارلیمان میں عرب نمائندوں کی گادی آیزنکوٹ کی حمایت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیتن یاہو اور آیزنکوٹ میں کوئی بنیادی فرق نہیں، دونوں صہیونیت اور دہشت گردی کے ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔
علاقائی امور کے تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے کہا ہے کہ صیہونی حکومت کی وزارتِ عظمیٰ کے لیے بنیامین نیتن یاہو اور گادی آیزنکوٹ کے درمیان کوئی حقیقی فرق نہیں ہے۔ ان کے مطابق، دونوں نہ صرف غزہ، مغربی کنارے اور لبنان میں نسل کشی کی حمایت کرتے ہیں بلکہ اس جنگ میں ایک ہی کمانڈ سینٹر سے ایک دوسرے کے شانہ بشانہ شریک بھی رہے ہیں۔
عطوان نے صیہونی پارلیمان (کنیسٹ) کے عرب ارکان کی جانب سے آیزنکوٹ کی حمایت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آیزنکوٹ نے صیہونی کابینہ میں شمولیت کے لیے چار شرائط رکھی ہیں، اس کے باوجود عرب نمائندے ان کی حمایت کر رہے ہیں۔ ان کے بقول، یہ صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ صہیونی کس طرح عرب ووٹوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں، لیکن انہیں حکومتی فیصلوں میں شرکت سے محروم رکھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ انتخابات میں حصہ لینے والے دونوں عرب اتحادوں کے نمائندوں میں سے کسی کو نئی کابینہ میں شامل ہونے کے لیے سخت اور توہین آمیز شرائط کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پارلیمان میں نشستوں کی تعداد اور سیاسی حساب کتاب میں عرب ووٹوں کی اہمیت تو تسلیم کی جاتی ہے، لیکن فیصلہ سازی کے عمل میں ان کا کردار محدود بلکہ بعض اوقات ممنوع ہوتا ہے۔ یوں انہیں محض دوسروں کے فیصلوں کی ظاہری توثیق کرنے والے گواہوں کی حیثیت دی جاتی ہے۔
عطوان نے آیزنکوٹ کے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ وہ صیہونی فوج کے سربراہ اور جنگی کابینہ کے رکن رہ چکے ہیں، جس کی سربراہی نیتن یاہو کر رہے تھے اور اب بھی کرتے ہیں۔
ان کے مطابق، اسی کابینہ نے غزہ میں نسل کشی اور نسلی تطہیر کی کارروائیاں انجام دیں۔ مزید برآں، آیزنکوٹ کی موجودگی میں کنیسٹ نے مغربی کنارے کو مقبوضہ علاقوں میں ضم کرنے اور یہودی آبادکاروں کو مسلح کرنے کے فیصلے بھی منظور کیے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ آیزنکوٹ نے چند روز قبل ایک بیان جاری کرکے صیہونی حکومت اور فوج پر نسل کشی کے الزامات کو سختی سے مسترد کیا تھا۔
عطوان نے نیتن یاہو اور آیزنکوٹ کو صہیونیت اور دہشت گردی کے ایک ہی سکے کے دو رخ قرار دیتے ہوئے کہا کہ برے اور بدتر کے درمیان انتخاب کے بہانے ان دونوں میں فرق نہیں کرنا چاہیے۔
ان کے بقول، کسی کو بھی اس طرح کے انتخاب پر مجبور نہیں ہونا چاہیے، خصوصاً ایسے وقت میں جب صیہونی حکومت کے خلاف عالمی سطح پر مخالفت بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے آیزنکوٹ اور اس کے صہیونی اتحاد کی حمایت کو جلد بازی، کوتاہ نظری اور فلسطین بھر میں مزاحمت کے ورثے اور شہدا کے خون کی توہین قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام مغربی کنارے، غزہ اور دیگر مقبوضہ علاقوں میں صہیونی یہودی آبادکاری کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں۔
عطوان نے اپنے مؤقف کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ دشمن صرف نیتن یاہو نہیں، بلکہ ہر وہ صہیونی ہے جس نے ان کی سرزمین پر قبضہ کر رکھا ہے، جو ان کی قومی شناخت مٹانے اور ان کی قوم کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔


مشہور خبریں۔
اسرائیلی لڑاکا طیاروں کا شام پر حملہ
?️ 4 فروری 2021سچ خبریں:اسپوٹنک نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق شام کے ایک سکیورٹی
فروری
چینی سپلائی پر ضرورت سے زایدہ انحصار کی وجہ؟
?️ 4 اکتوبر 2023سچ خبریں:جبکہ امریکی حکام نے چند ہفتے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ
اکتوبر
مشرق وسطیٰ میں جاری لڑائی اور کشیدگی نے عرب ممالک کو اسلحے کی دوڑ میں ڈال دیا ہے
?️ 30 ستمبر 2025مشرق وسطیٰ میں جاری لڑائی اور کشیدگی نے عرب ممالک کو اسلحے
ستمبر
آٹا اسکیم کو سیاست کی بھینٹ چڑھانا زیادتی ہے، شاہد خاقان عباسی معذرت کریں یا ثبوت دیں، عامر میر
?️ 30 اپریل 2023 لاہور: (سچ خبریں) پنجاب کے نگراں وزیر اطلاعات و ثقافت عامر میر
اپریل
کینیڈا میں پاکستانی نژاد خاندان کے قتل پروزیراعظم کا شدید رد عمل سامنے آگیا
?️ 8 جون 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے کینیڈا میں مسلمان پاکستانیوں
جون
امریکہ تنزل پذیر ملک بنتا جا رہا ہے: اقوام متحدہ
?️ 29 ستمبر 2022سچ خبریں: اقوام متحدہ کے دفتر برائے پائیدار ترقی کے تازہ
ستمبر
جنوری میں انتخابات نہ ہوئے تو پیپلزپارٹی سڑکوں پر نکلے گی، نیئر بخاری
?️ 8 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نیئر بخاری
اکتوبر
شمالی یمن پر امریکی اور برطانوی فضائی حملے
?️ 10 نومبر 2024سچ خبریں: یمنی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ امریکی اور
نومبر