جرمن حکومت کی انتہا پسندی، حماس کے پرچم پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کردیا

جرمن حکومت کی انتہا پسندی، حماس کے پرچم پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کردیا

?️

برلن (سچ خبریں)  جرمن حکومت نے انتہا پسندی اور یہود نوازی کا مطاہرہ کرتے ہوئے تمام اخلاقی حدود پامال کرکے ملک بھر میں فلسطینی تنظیم حماس کے پرچم پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کردیا۔

تفصیلات کے مطابق حماس کے پرچم پر پابندی کی تجویز چانسلر انجیلا مرکل کی جماعت کرسچین ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) کی جانب سے پیش کی گئی تھی، سی ڈی یو اور بویریا صوبے میں نائب پارلیمانی ترجمان ٹروسٹن فرائی نے کہاکہ ہم نہیں چاہتے کہ دہشت گرد تنظیموں کے پرچم جرمن سرزمین پر لہرائے جائیں۔

حکومت میں شامل دوسری سب سے بڑی جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی نے اس تجویز پر ابتدا میں تحفظات ظاہر کیے تھے، تاہم بعد میں کھل کر تجویز کی حمایت کا اعلان کر دیا۔

جرمن حکومت اب تک ملک بھر میں اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان اور مسلمانوں اور تارکین وطن پر انتہاپسندوں کے حملوں کو روکنے میں بری طرح ناکام رہی ہے، لیکن اسے صرف ایک یہودی معبد پر ہونے والے حملے کی فکر کھائے جارہی ہے۔

واضح رہے کہ غزہ میں حماس کے خلاف 11روزہ اسرائیلی جارحیت کے دوران جرمن حکومت کی جانب سے فلسطینیوں کے حق میں کیے گئے مظاہروں پر بھی سخت کا اظہار کیا گیا ہے، اس دوران مشتعل افراد نے ایک یہودی معبد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی اور اسرائیلی پرچم بھی نذر آتش کیے گئے تھے، جس کا بدلہ مرکل کی حکومت نے حماس کے پرچم پر پابندی عائد کرکے دیا ہے۔

دوسری جانب دنیا کے 75 ممالک سے تعلق رکھنے والی 680 عالمی شخصیات نے امریکی صدر جو بائیڈن کے نام خط میں مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جرائم اور مظالم بند کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں، خط میں کہا گیا کہ اب وقت آگیا ہے امریکا مشرق وسطیٰ کے لیے موجودہ سیاسی پالیسی کو تبدیل کرے۔

مشترکہ خط پر سول سوسائٹی کے عالمی اتحاد کے ارکان، کاروباری رہنماؤں، فنکاروں، مذہبی اور سیاسی رہنماؤں، نوبیل انعام یافتہ سیاسی شخصیات اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے سرکردہ افراد نے دستخط کیے ہیں۔

خط میں کہا گیا کہ اگر امریکی پالیسی عدل وانصاف اور احتساب کے بغیر چلتی رہی تو تمام لوگوں کے لیے پائیدار اور انصاف پسند امن کا قیام مشکل ہوجائے گا۔

ادھر امریکا کی مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی میں تدریس سے منسلک 250 ارکان نے فلسطینیوں پر صہیونی حکومت کے مظالم کی روداد پر دستخط کردیئے ہیں۔

یونیورسٹی کے اساتذہ نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ امریکی شہری اب اسرائیل کے لیے امریکاکی غیر مشروط حمایت کو قبول نہیں کریں گے، واشنگٹن حکومت کو چاہیے کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف مظالم پر اسرائیل کی امداد روک دے۔

بیان میں غزہ کی پٹی کی ناکابندی، مقبوضہ مشرقی بیت المقدس اور مغربی کنارے میں غیر قانونی آبادکاری کی مذمت کی گئی ہے۔

مشہور خبریں۔

صیہونیوں کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی پر مراکشی عوام کا شدید غم و غصہ

?️ 26 اکتوبر 2025سچ خبریں:مراکش کے دارالحکومت رباط میں شہریوں نے صیہونی فوج کی جانب

ایران کے زمینی اور بحری کارڈز ؛ آبنائے ہرمز میں ٹرمپ کی شرمناک ناکامی کی چند وجوہات

?️ 28 مارچ 2026سچ خبریں:اس نئی حقیقت کے سائے میں جسے ایران نے آبنائے ہرمز

کورونا ویکسین لگوانے پر عفت عمر کی معذرت

?️ 7 اپریل 2021کراچی(سچ خبریں)پاکستان کی سینئر اداکارہ عفت عمر نے اثر و رسوخ  استعمال

دریائے چناب میں اونچے درجے کا سیلاب، تریموں ہیڈورکس پر 9 لاکھ کیوسک کا ریلا پہنچنے کا امکان

?️ 1 ستمبر 2025لاہور: (سچ خبریں) بھارت کی جانب سے سلال ڈیم کے گیٹ کھولنے

صہیونیوں کے ہاتھوں فلسطینی آبی اور زرعی وسائل کی لوٹ مار

?️ 2 اکتوبر 2021سچ خبریں:اقوام متحدہ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ اس بات

حکومت کے (آئی ایم ایف) کے ساتھ 6 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ کی بحالی کے معاملات طے ہوگئے

?️ 1 نومبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ شوکت ترین نے

غزہ کے لوگوں کے قتل میں مصنوعی ذہانت کا دخل

?️ 30 دسمبر 2024سچ خبریں: عبرانی زبان کے اخبار گلوبز نے معتبر ذرائع ابلاغ میں

اسرائیل کا یروشلم میں آباد کاری کا نیا منصوبہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف

?️ 8 جنوری 2022سچ خبریں: اردن کی وزارت خارجہ کے ترجمان ہیثم ابو الفل نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے