فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون کو بھرے مجمع میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑگیا

فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون کو بھرے مجمع میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑگیا

?️

پیرس (سچ خبریں) فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون کو بھرے مجمع میں اس وقت شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑگیا جب ایک شخص نے سب کے سامنے انہیں تھپڑ مار دیا۔

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی واقعی کی ویڈیو میں ایک شخص کو عوامی دورے کے دوران ایمانوئیل میکرون کو تھپڑ مارتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق فرانسیسی صدر کی سیکیورٹی نے فوری طور پر مداخلت کی اور مذکورہ شخص کو ایمانوئیل میکرون سے دور کردیا، براڈکاسٹرز بی ایف ایم ٹی وی اور آر ایم سی ریڈیو کے مطابق واقعے میں ملوث 2 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایمانوئیل میکرون فرانس کے جنوب-مشرقی علاقے ڈروم کے دورے پر تھے، جہاں انہوں نے ریسٹورنٹ مالکان اور طلبہ سے بات چیت کی تھی کہ کورونا وائرس کے بعد اب زندگی معمول کی جانب کیسے لوٹ رہی ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں سفید شرٹ میں ملبوس ایمانوئیل میکرون کو دھاتی رکاوٹوں کے پیچھے کھڑے ہجوم کی جانب پیدل جاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ فرانسیسی صدر نے ایک شخص سے مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا جس نے سبز رنگ کی شرٹ پہنی ہوئی تھی اور ساتھ میں گلاسز اور فیس ماسک پہنا ہوا تھا۔

مذکورہ شخص کو ویڈیو میں میکرون کے اقدامات نامنظور’ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے جس کے بعد اس شخص نے فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کے چہرے پر تھپڑ مار دیا۔

جس پر ایمانوئیل میکرون کے 2 سیکیورٹی اہلکاروں نے سبز شرٹ میں ملبوس شخص کو گھیر لیا جبکہ دیگر ایمانوئیل میکرون کے ساتھ گئے، تاہم واقعے کے چند سیکنڈز بعد فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون جائے وقوع پر عوام کے ہجوم کے سامنے پھر سے موجود تھے اور رکاوٹوں کے پار بظاہر کسی سے بات چیت کرتے نظر آئے۔

فرانس کی صدارتی انتظامیہ نے کہا کہ ایمانوئیل میکرون پر حملہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن انہوں نے اس معاملے پر مزید تبصرہ کرنے سے انکار کردیا، جس شخص نے ایمانوئیل میکرون کو تھپڑ مارا اس کی شناخت معلوم نہیں ہوسکی اور اس کے مقاصد غیر واضح ہیں۔

خیال رہے کہ ماضی میں بھی دنیا کے مختلف حصوں میں سیاسی رہنماؤں یا وزرا کو عوام کی جانب سے احتجاج کے طور پر تھپڑ مارنے یا جوتا پھینکے جانے کی صورتحال کا سامنا رہا ہے۔

واضح رہے کہ کسی سیاست پر جوتا پھینکے جانے کا پہلا واقعہ سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے ساتھ 2008 میں پیش آیا تھا، ان پر عراق میں اس وقت جوتا پھینکا گیا تھا جب وہ خطاب کر رہے تھے۔

سابق امریکی وزیر خارجہ اور سابق امریکی خاتون اوّل ہلیری کلنٹن پر بھی اپریل 2014 میں امریکا ہی میں ایک پروگرام کے دوران ایک خاتون نے جوتا پھینکا تھا۔

مشہور خبریں۔

2024 کے صدارتی انتخابات میں ریپبلکن کی ہو گی: پنس

?️ 9 نومبر 2021سچ خبریں : خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سابق امریکی نائب صدر ڈونلڈ

یورپ اسرائیل کے جنگی جرائم پر موقف اختیارکیوں نہیں کرتا ؟

?️ 13 نومبر 2023سچ خبریں:اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی نے یورپی یونین کے خارجہ

امریکی حکام کو مشکوک پیکج بھیجا گیا

?️ 17 ستمبر 2024سچ خبریں: امریکی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ کم از کم

کورونا سے مزید 28 افراد کی موت، فعال کیسز کی تعداد میں اضافہ

?️ 6 فروری 2021سلام آباد: {سچ خبریں} پچھلے 24 گھنٹوں میں پورے ملک میں دنیا

پاکستان کے وزیر مذہبی امور: مذہبی سیاحت کے انتظام کے لیے ایران کے ساتھ رابطہ کاری کو مضبوط کیا جائے گا

?️ 16 جولائی 2025سچ خبریں: پاکستان کے وزیر مذہبی امور نے تہران میں ایران، پاکستان

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس کا احوال

?️ 7 جون 2022اسلام آباد(سچ خبریں)پی اے سی  نے نیب افسران، ان کے بچوں اور

مالی سال کی پہلی ششماہی میں تمام شعبوں کی برآمدات میں اضافہ

?️ 9 فروری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومت مالی سال کی پہلی ششماہی میں پاکستان

کراچی انڈسٹریل پارک کو ماڈل خصوصی اقتصادی زون قرار دینے کا فیصلہ

?️ 3 نومبر 2024کراچی: (سچ خبریں) وزیر برائے نجکاری و سرمایہ کاری عبدالعلیم خان نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے