مغربی کنارے میں صیہونی بستیوں کی توسیع اور انتہا پسند آبادکاروں کے حملے فلسطینیوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ

صہیونی بستیوں

?️

سچ خبریں:فلسطینی اراضی میں صہیونی بستیوں کی نگرانی کرنے والے ادارے کے مطابق مغربی کنارے میں بستیوں کی تیزی سے توسیع اور انتہا پسند آبادکاروں کے حملے فلسطینی عوام کے وجود اور مستقبل کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔

فلسطینی اراضی میں صہیونی بستیوں کی نگرانی کرنے والے ادارے کے سربراہ نصیر ابو ثابت نے شهاب خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مغربی کنارے میں انتہا پسند آبادکاروں کے حملوں میں اضافہ اور بستیوں کی غیر معمولی رفتار سے توسیع آج فلسطینی عوام کے وجود کے لیے خطرناک ترین چیلنجوں میں شمار ہوتی ہے۔

ابو ثابت نے وضاحت کی کہ یہ سرگرمیاں اب صرف الگ الگ رہائشی بستیوں کی تعمیر تک محدود نہیں رہیں بلکہ ایک منظم اور جامع منصوبے کی شکل اختیار کر چکی ہیں، جو منظم دہشت گردی، تدریجی طور پر اراضی پر قبضے اور شہریوں کی جبری بے دخلی پر مبنی ہے، تاکہ نئے سیاسی اور جغرافیائی حقائق مسلط کیے جا سکیں اور مغربی کنارے کے عملی الحاق کی راہ ہموار ہو۔

انہوں نے کہا کہ قابض حکومت کی کابینہ کی سیاسی سطح کے فیصلوں اور فلسطینی علاقوں میں آبادکاروں کے حملوں میں اضافے کے درمیان براہ راست تعلق موجود ہے۔

ابو ثابت نے مزید کہا کہ قابض حکومت کے انتہا پسند وزیر خزانہ بتسلئیل اسموتریچ کی جانب سے الخلیل معاہدے کی منسوخی، حرم ابراہیمی، قدیم شہر اور دیگر علاقوں میں بلدیاتی اختیارات واپس لینے کے اعلان کے ساتھ ہی دورا بستی کے قریب کوہ طاروسا کی چوٹی پر نئی بستی کی بنیاد رکھنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ قابض حکومت مغربی کنارے میں اپنی حاکمیت مسلط کرنے اور زمینی حقائق کو ازسرنو تشکیل دینے کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

بستیوں کی نگرانی کرنے والے ادارے کے سربراہ نے میدان سے موصول ہونے والی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صرف ایک ہی دن میں مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں پینتالیس سے زائد حملوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ریکارڈ کیا گیا۔

ابو ثابت کے مطابق ان حملوں میں ایک مسجد، گھروں اور شہریوں کی املاک کو آگ لگانا، چھ گاڑیوں کو نذر آتش کرنا، دو گاڑیوں کو تباہ کرنا اور ایک معمر شہری پر پٹرول چھڑک کر اسے زندہ جلانے کی کوشش شامل تھی، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا اور دس افراد دم گھٹنے سے متاثر ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ مویشیوں اور املاک کی چوری، گندم کی کٹائی کے موسم میں کسانوں پر براہ راست حملے، سینکڑوں ہیکٹر زرعی اراضی کی ہمواری اور مختلف مقامات پر نئی مویشی بستیوں کے قیام کی کوششیں بھی ان حملوں کا حصہ ہیں۔

ابو ثابت نے واضح کیا کہ یہ منظم کارروائیاں خاص طور پر کسانوں، مویشی پالنے والوں، بدوی آبادیوں اور بستیوں سے متصل فلسطینی دیہات کو نشانہ بنا رہی ہیں، تاکہ مقامی آبادی کے لیے ایسا ماحول پیدا کیا جائے جس سے وہ اپنی زمینیں چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں۔

اسی تناظر میں انہوں نے صوبہ طوباس، خصوصاً عاطوف کے میدانوں میں جاری اسرائیلی اراضی ہموار کرنے کی کارروائیوں کا ذکر کیا اور کہا کہ اس سے قبل ایک بستی کی سڑک بھی اس علاقے کی زرخیز زرعی زمینوں کو نگل چکی ہے۔

ابو ثابت کے مطابق یہ تمام واقعات اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ بستیوں کا منصوبہ صرف سکیورٹی کنٹرول تک محدود نہیں بلکہ اس کا مقصد مغربی کنارے کے جغرافیائی نقشے کی ازسرنو تشکیل اور مستقبل کی فلسطینی ریاست کی زیادہ سے زیادہ زمین پر قبضہ کرنا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اصل خطرہ صرف الگ الگ حملوں کی تعداد میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ یہ کارروائیاں ایک سرکاری پالیسی کا حصہ ہیں، جس میں سیاسی قیادت فلسطینی وجود کو کمزور کرنے کے لیے قوانین اور فیصلے جاری کرتی ہے، جبکہ مسلح آبادکار میدان میں طاقت، دہشت گردی اور فلسطینی آبادیوں کو ٹکڑوں میں تقسیم کر کے ان پالیسیوں کو نافذ کرتے ہیں، جو عملی طور پر الحاق اور خاموش نسلی تطہیر کے ایک جدید مرحلے کی راہ ہموار کر رہی ہیں۔

مشہور خبریں۔

ایران پر حملے کے نتیجے میں 700 ملین بیرل تیل خطرے میں

?️ 25 اپریل 2026 سچ خبریں:آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی راہداریوں میں سے

پاکستان نے اسرائیلی پارلیمنٹ کے کرانہ باختری پر قبضے کے منصوبے کی شدید مذمت کی

?️ 25 جولائی 2025پاکستان نے اسرائیلی پارلیمنٹ کے کرانہ باختری پر قبضے کے منصوبے کی

غزہ کے 18 ہسپتال بند، صحت کا نظام مکمل طور پر تباہ

?️ 26 اپریل 2025سچ خبریں: ڈاکٹر منیر البرش، غزہ کی وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل،

الدیمیر ہیومن رائٹس سینٹر کے ڈائریکٹر: غزہ کی پٹی کے فیلڈ ہسپتالوں کے سربراہ عسقلان جیل میں ہیں

?️ 23 جولائی 2025سچ خبریں: فلسطینی الدمیر ہیومن رائٹس سنٹر کے ڈائریکٹر علاء السکافی نے

چین کی وارننگ سے نینسی پیلوسی کا تائیوان کا دورہ ملتوی

?️ 31 جولائی 2022سچ خبریں:    بیجنگ کے اعلیٰ حکام کی جانب سے واشنگٹن کو

ہم جنگ میں ملوث ممالک کو ہتھیار برآمد نہیں کریں گے: چین

?️ 10 جولائی 2025سچ خبریں: چین کے اسرائیل میں واقع سفارت خانے نے "مڈل ایسٹ

بسنت فیسٹیول کے اختتام پر پتنگ بازی پر پابندی برقرار رہے گی۔ مریم نواز

?️ 8 فروری 2026لاہور (سچ خبریں) وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے کہا ہے تین روزہ

عراق کی سیاسی پیش رفت کے بارے میں نوری المالکی کا بیان

?️ 30 اگست 2022سچ خبریں:    عراق کے سابق وزیر اعظم نوری المالکی نے آج

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے