صہیونی ریاست کی نئی کابینہ کے تشکیل پانے سے پہلے ہی سیاسی جماعتوں میں شدید اختلاف پیدا ہوگیا

صہیونی ریاست کی نئی کابینہ کے تشکیل پانے سے پہلے ہی سیاسی جماعتوں میں شدید اختلاف پیدا ہوگیا

?️

تل ابیب (سچ خبریں) ایک طرف جہاں صہیونی ریاست کی نئی کابینہ کی تشکیل اور نئے وزیر اعظم کی حلف برداری میں کچھ ہی گھنٹے بچے ہیں وہیں اب اطلاعات ہیں کہ اس کابینہ کی تشکیل سے پہلے ہی دونوں جماعتوں میں شدید اختلاف پیدا ہوگیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق "یمینا” پارٹی کے سربراہ نفتالی بینیٹ کے "يش عتيد” پارٹی کے سربراہ یائر لیپڈ کے ساتھ مل کر نئی حکومت بنانے کے بالکل قریب ہیں لیکن ان آخری لمحات میں، اس اتحاد کو شدید خطرہ لاحق ہے اور نئی حکومت کے قیام میں بڑی رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے۔

اسرائیل الیوم اخبار نے اطلاع دی ہے کہ اویگڈور لیبرمین کی زیرقیادت "ہمارا گھر اسرائیل” پارٹی کی ایک ممتاز اور بااثر شخصیت ایلی اوییدار نے نئی حکومت میں ان کو دیئے گئے عہدے کی مخالفت کی ہے جس سے پارٹی میں شدید اختلاف پیدا ہوگیا ہے۔

اخبار نے اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اوییدار نے دھمکی دی ہے کہ وہ نئی حکومت کو آزادانہ طور پر ووٹ دیں گے۔

واضح رہے کہ "اسرائیل ہمارا گھر” پارٹی لیپڈ اور بینیٹ مخلوط حکومت میں شامل جماعتوں میں سے ایک جماعت ہے، اور اس کے ممبروں کو نئی حکومت میں اعتماد کا ووٹ دینا ہوگا، لیکن اگر اس پارٹی میں اندرونی اختلاف پیدا ہوگیا تو اور اس کے کچھ ممبران نے نئی حکومت پر اپنا اعتماد کا ووٹ واپس لے لیا تو لیپڈ اور بینیٹ کو ایک سنگین پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

دریں اثنا صیہونی حکومت کے چینل 7 نے ایک عوامی سروے کیا ہے جس کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ صہیونیوں کی اکثریت کا خیال ہے کہ "یمینا” پارٹی کے سربراہ نفتالی بینیٹ اور "يش عتيد” پارٹی کے سربراہ یائر لیپڈ کی مخلوط حکومت زیادہ دنوں تک نہیں چل پائے گی۔

سروے کے مطابق، 43 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ یہ مخلوط حکومت بہت ہی کم عرصے تک رہے گی، 30 فیصد نے کہا کہ نئی حکومت طویل عرصے تک اقتدار میں رہے گی لیکن 4 سال پورے نہیں کرپائے گی، اور صرف 11 فیصد نے کہا کہ حکومت پورے 4 سال تک رہے گی۔

واضح رہے کہ حکومتی اتحاد میں پارلیمنٹ کے 8 عرب ارکان بھی شامل ہوں گے، یہ پہلا موقع ہے جب کوئی عرب جماعت اسرائیل کی حکومتی تشکیل میں "بادشاہ گر‘‘ کا مرکزی کردار ادا کرے گی، نئے حکومتی اتحاد میں 8 جماعتیں شامل ہوں گی جو کہ ایک ریکارڈ تعداد ہے۔ ان میں 4 جماعتیں پہلی مرتبہ حکومتی اتحاد میں شریک ہیں۔

نئے اتحاد میں شامل 8 جماعتوں میں سے 5 کے سربراہان ماضی میں نیتن یاہو کی حکومتوں میں وزراء کے منصب پر فائز رہ چکے ہیں۔

مشہور خبریں۔

سنی اتحاد کونسل کا ہتک عزت بل کے خلاف عدالت جانے کا اعلان

?️ 25 مئی 2024لاہور: (سچ خبریں) پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بھچر

دن رات بمباری، رات دن قتل عام

?️ 26 اکتوبر 2023سچ خبریں: گذشتہ رات اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کے مختلف

جمہوریت، دفاع اور خودمختاری پر کبھی سمجھوتا نہیں ہوگا۔ بلاول بھٹو زرداری

?️ 14 اگست 2025اسلام آباد (سچ خبریں) چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے

صیہونی حکومت کو چین کی سخت وارننگ

?️ 18 اگست 2022سچ خبریں:   ایک عبرانی ویب سائٹ نے کل رات دعویٰ کیا کہ

ہر دس منٹ میں ایک یمنی بچے کی موت

?️ 19 فروری 2022سچ خبریں:انٹرنیشنل سیو دی چلڈرن تنظیم کے مطابق ہر 9 منٹ میں

افغانستان کے مسائل وہاں کے عوام کو ہی حل کرنے چاہئے: وزیر خارجہ

?️ 8 ستمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے  کہ

سعودی عرب کے ساتھ تعلقات ہمیں معاشی مواقع فراہم کریں گے:نیتن یاہو

?️ 23 فروری 2023سچ خبریں:صیہونی وزیر اعظم نے ایک بار پھر سعودی عرب کے ساتھ

عدلیہ پر حملہ آور ہو کر ملک کو فاشزم کی جانب دھکیلا جارہا ہے، عمران خان

?️ 30 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے