سالانہ آبی کوٹہ منقطع کرنے کا فیصلہ؛ اردن کو صیہونیوں کی خدمت کا صلہ

سالانہ آبی کوٹہ منقطع کرنے کا فیصلہ؛ اردن کو صیہونیوں کی خدمت کا صلہ

?️

سچ خبریں:صہیونی حکومت نے اردن کی وسیع سیاسی و سلامتی تعاون کے باوجود اس ملک کو فراہم کیا جانے والا سالانہ آبی کوٹہ روکنے کا فیصلہ کیا ہے، جو 1994 کے امن معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

القدس العربی نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اردن کی جانب سے بالخصوص صہیونی حکومت کی 12 روزہ جنگ کے دوران وسیع خوش‌خدمتیوں کے باوجود، تل ابیب نے اس ملک کو فراہم کیے جانے والے سالانہ آبی کوٹے کو منقطع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اردنی میڈیا رپورٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ اردن کی حکومت کو صہیونی حکومت کی جانب سے ایک باضابطہ انتباہ موصول ہوا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ تل ابیب اردن کو سالانہ طور پر طے شدہ تقریباً 50 ملین مکعب میٹر پانی فراہم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

یہ بھی پڑھیں:اردنی عوام کے موقف میں تبدیلی/غزہ کی حمایت میں بھوک ہڑتال کا آغاز

یہ اس حقیقت کے باوجود ہے کہ مذکورہ معاہدہ 1994 میں صہیونی حکومت اور اردن کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے اور اس کے ضمنی معاہدوں کی مستقل شقوں میں شامل ہے۔

اردنی ذرائع ابلاغ نے زور دیا ہے کہ صہیونی حکومت پانی کی نمک کشی کے عمل میں تکنیکی مسائل اور اردن تک پانی کی ترسیل کے اخراجات جیسے دعوے پیش کر کے بہانے تراش رہی ہے، جبکہ یورپی ثالثی میں دونوں فریقوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات بھی کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔

قابلِ ذکر ہے کہ اردن اس وقت شدید خشک سالی کی لہر کا سامنا کر رہا ہے اور دریائے یرموک کے آبی وسائل کے دوبارہ استعمال کے لیے شام کے ساتھ اس کے مذاکرات بھی تاحال بے نتیجہ رہے ہیں۔

یہ صورتِ حال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اردن نے سیاسی، سلامتی، انٹیلی جنس اور دیگر تمام شعبوں میں صہیونی حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کیا ہے اور ان خوش‌خدمتیوں کا عروج 12 روزہ جنگ کے دوران دیکھا گیا، جب اردن نے مقبوضہ علاقوں کی جانب داغے گئے متعدد میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنانے میں کردار ادا کیا۔

مزید پڑھیں: اردن غزہ میں کوئی فوج نہیں بھیجے گا، صرف تربیت و تعاون فراہم کرے گا

اس کے علاوہ، صہیونی حکومت جو خود پانی کی شدید قلت کا شکار ہے، اس سے قبل ایران کے لیے نسخہ تجویز کرتے ہوئے یہ دعویٰ کر چکی ہے کہ وہ آبی بحران کے حل میں کردار ادا کر سکتی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اردن کو طے شدہ آبی کوٹہ تک فراہم کرنے سے قاصر یا نالاں نظر آتی ہے۔

مشہور خبریں۔

بحیرۂ احمر میں ایک اور برطانوی کشتی شکار

?️ 17 فروری 2024سچ خبریں: یمنی مسلح افواج کے ترجمان نے بحیرہ احمر میں ایک

6 ججز کے خط کے معاملہ: اسلام آباد ہائی کورٹ کا فل کورٹ اجلاس جاری

?️ 23 اپریل 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) 6 ججز کے خط کے معاملے پر اسلام

غزہ کے خلاف صیہونی وحشی پن

?️ 12 اکتوبر 2023سچ خبریں: غزہ کے خلاف صیہونی حکومت کے فضائی حملوں اور طوفان

پی ٹی آئی کی بدبودار ذہنیت سوشل میڈیا پر گندگی پھیلا رہی ہے۔ مریم اورنگزیب

?️ 24 فروری 2026لاہور (سچ خبریں) پنجاب کی سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا

سعودی عرب میں گرفتاریوں کی نئی لہر

?️ 9 جولائی 2022سچ خبریں:سعودی اپوزیشن ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ اس ملک کی

شام کے تنازعہ کے تناظر میں اسرائیلی وزیر خارجہ کا دورہ ٔ ماسکو

?️ 8 ستمبر 2021سچ خبریں:عرب میڈیا نے اسرائیلی وزیر خارجہ کے اس ہفتے کے آخر

ٹرمپ کا جو بائیڈن پر شدید لفظی حملہ  

?️ 16 مارچ 2025 سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ، یوکرین جنگ اور

ڈی جی آئی ایس پی آر کا پنجاب یونیورسٹی کا دورہ، طلباء کے سوالات کے جواب دئیے

?️ 26 ستمبر 2025لاہور: (سچ خبریں) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے