?️
سچ خبریں: شام میں ایک اور معروف شامی سائنسدان کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق، دمشق کے مضافاتی علاقے میں واقع ریف دمشق میں تحقیقی مرکز کے استاد، ڈاکٹر حسان ابراہیم کو پانچ روز قبل اغوا کر لیا گیا تھا، آج ان کی گولیوں سے چھلنی لاش ملی، جس نے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شامی عوام کا تاریک مستقبل
لبنانی چینل المیادین نے مقامی ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ ڈاکٹر حسان ابراہیم، جو سائنسی تحقیقی مرکز کے ایک ممتاز پروفیسر تھے، پانچ دن پہلے اپنے دفتر سے لاپتا ہو گئے تھے۔
ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ انہیں نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کیا تھا، اور آج ریف دمشق کے علاقے معربا میں ان کی لاش برآمد ہوئی، جس پر متعدد گولیوں کے نشان پائے گئے۔
شامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری عدم استحکام اور سیکورٹی خلا کی وجہ سے اس قسم کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مختلف مسلح گروہوں کی سرگرمیوں اور سیاسی بدامنی کی وجہ سے ٹارگٹ کلنگ، اغوا اور قتل کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔
دوسری طرف، شامی حکومت کے حامی حلقوں نے اس قتل کو ایک مربوط سازش قرار دیا ہے، جس کا مقصد شامی علمی و تحقیقی اداروں کو کمزور کرنا اور ملک کے ذہین ترین افراد کو نشانہ بنانا ہے۔
شامی ہیومن رائٹس آبزرویٹری نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 2025 کے آغاز سے اب تک ملک میں 109 منصوبہ بند قتل اور انتقامی کارروائیاں ہو چکی ہیں، جن میں 225 افراد مارے جا چکے ہیں، ان میں 218 مرد، 6 خواتین اور 1 بچہ شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، بیشتر واقعات کے پیچھے مسلح گروہ یا ذاتی دشمنیاں کارفرما ہیں، جبکہ کچھ قتل ایسے بھی ہیں جو بین الاقوامی سازشوں اور خفیہ ایجنسیوں کے منصوبوں کا حصہ ہو سکتے ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی شامی سائنسدان کو نشانہ بنایا گیا ہو، ماضی میں بھی متعدد سائنسی ماہرین، فوجی افسران اور حکومتی شخصیات کو پراسرار طریقے سے قتل کیا جا چکا ہے۔
مزید پڑھیں: شام میں ترکی کی دو ستونوں پر مشتمل سیکورٹی پالیسی
بعض تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ غیر ملکی خفیہ ادارے اور بعض مخالف گروہ شام کی سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے کو تباہ کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔
اب تک شامی حکام نے اس قتل پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا ہے، لیکن سیکیورٹی ادارے تحقیقات میں مصروف ہیں، تاکہ قاتلوں کو پکڑا جا سکے۔


مشہور خبریں۔
اس ملک میں آئین کی کوئی حیثیت نہیں، حاکمیت ہمارے ملازمین کی ہے، مولانا فضل الرحمٰن
?️ 22 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن
فروری
لاہور ہائی کورٹ نے پولیس کو پنجاب اسمبلی میں داخل ہونے سے روک دیا
?️ 22 جولائی 2022لاہور: (سچ خبریں)لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر دوست
جولائی
حماس کے سینئر رہنما کا ٹرمپ کے منصوبے پر اپنا موقف واضح
?️ 4 اکتوبر 2025سچ خبریں: غزہ کی جنگ بندی کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
اکتوبر
اسلام آباد: صحافی وحید مراد ضمانت منظور ہونے کے بعد رہا
?️ 28 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کی
مارچ
افریقہ پر اتنا دباو کیوں؟
?️ 26 جولائی 2023سچ خبریں:کریملن نے منگل کو اعلان کیا کہ مغربی ممالک، خاص طور
جولائی
عمران خان موجودہ حکومت کے لیے بارودی سرنگیں بچھا کر گئے ہیں:مریم نواز
?️ 16 جون 2022اسلام آباد(سچ خبریں)نائب صدر مسلم لیگ (ن) مریم نواز نے کہا ہے
جون
ایران جنگ نے یورپ کی عالمی حیثیت کو ختم کر دیا ہے: مڈل ایسٹ آئی
?️ 29 مارچ 2026سچ خبریں:مڈل ایسٹ آئی کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ
مارچ
فلسطینیوں کے لیے غزہ میں جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ بہت اہم
?️ 25 دسمبر 2025فلسطینیوں کے لیے غزہ میں جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ بہت اہم
دسمبر