شہادت، استقامت اور مزاحمت کی سہ تِہ نے ایران کی تاریخ کو ازسرِنو لکھ دیا

تشییع جنازہ

?️

سچ خبریں: برطانوی میڈیا نے ایران کے شہید رہنما آیت اللہ سید علی خامنہ‌ای کی میت کے ساتھ عوام کے بڑے پیمانے پر الوداع کو قومی طاقت، استقامت اور سماجی اتحاد کی علامت قرار دیا ہے، اور کہا ہے کہ جنگ اور رہنما کی شہادت بھی ایرانی عوام کے عزم اور اسلامی جمہوریہ کے ڈھانچے کو توڑ نہیں سکی۔

برطانوی اخبار گارڈین نے غیر معمولی انداز میں لکھا کہ اسلامی انقلاب کے شہید رہنما کی تدفین کی تقریب جذباتی سوگ، قومی طاقت، استقامت اور سماجی یکجہتی کا ایک عظیم مظاہرہ تھی۔ اخبار کے مطابق اس تقریب کے وسیع پیمانے کو اس طرح ترتیب دیا گیا کہ ایران کی مزاحمت کا سیاسی اور مذہبی پیغام دنیا تک پہنچایا جا سکے۔

گارڈین نے لکھا کہ ایران کے مختلف شہروں سے آئے ہوئے لوگوں کی بڑی تعداد، مٹھی بند ہاتھوں کے نشان، “باید برخاست” (ہمیں اٹھنا ہوگا) کے نعرے اور ایرانی پرچموں کی موجودگی نے اس تقریب کو ایک عام سوگ سے بڑھا کر ایک سیاسی اور سماجی مظاہرے کی شکل دے دی، جو جنگ کے بعد ایران کی مزاحمت کے تسلسل کی عکاسی کرتا ہے۔

اخبار کے مطابق لوگ صرف تعزیت کے لیے نہیں بلکہ اسلامی انقلاب سے وفاداری کے اظہار کے لیے بھی تہران آئے تھے۔

رپورٹ کے اختتام پر گارڈین نے لکھا کہ ایران اور مغرب کے درمیان طاقت کا امتحان آیت اللہ خامنہ‌ای کی شہادت کے ساتھ ختم نہیں ہوا، اور یہ تقریبات ایرانی معاشرے کے اتحاد اور توجہ کو مزید مضبوط کر سکتی ہیں۔

برطانوی اخبار “انڈیپنڈنٹ” نے بھی اپنی رپورٹ میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران عوام کی وسیع شرکت کو اس بات کے ثبوت کے طور پر پیش کر رہا ہے کہ وہ جنگ کے باوجود مضبوط اور پائیدار ہے، جس میں ملک کے وجود کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

اخبار کے مطابق یہ تقریب ایران کو اپنے رہنما کے فقدان کے باوجود زیادہ مضبوط دکھانے اور مستقبل کی سیاسی سمت پر اس کے کنٹرول کو ظاہر کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

کنگز کالج لندن کے سکیورٹی اسٹڈیز کے پروفیسر آندریاس کریگ نے انڈیپنڈنٹ سے گفتگو میں کہا کہ یہ تقریب تین بنیادی بیانیوں پر مشتمل ہے: “شہادت، استقامت اور مزاحمت”، اور یہ ایک عوامی اجتماع بن گیا ہے جہاں ایران اعلان کر رہا ہے کہ اس کے رہنما کی شہادت کے باوجود انقلاب زندہ ہے۔

برطانوی تھنک ٹینک کے سینئر محقق رنج علاءالدین نے کہا کہ یہ تقریب ایران کے سیاسی نظام کے تسلسل اور اس کی مشروعیت کو ظاہر کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے، اور بہت سے مبصرین کے مطابق جنگ بندی کو ایران کی شکست نہیں بلکہ امریکہ کی پسپائی سمجھا جا رہا ہے۔

انڈیپنڈنٹ نے اس تقریب میں مختلف ممالک کے وفود کی موجودگی کو بھی ایران کی عالمی سطح پر طاقت کے اظہار کے طور پر دیکھا اور کہا کہ ایران نے دکھایا ہے کہ وہ تنہا اور الگ تھلگ نہیں ہے۔

اخبار نے مزید کہا کہ اعلیٰ ایرانی حکام اور فوجی کمانڈرز کی موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ ملک کا انتظامی اور عسکری ڈھانچہ بدستور قائم ہے۔

برطانوی اخبار “ٹائمز” نے اس تقریب کو جنگ کے بعد ایران کی طاقت کے نئے نقشے کو دیکھنے کا ایک نادر موقع قرار دیا اور لکھا کہ ان شخصیات کی کھلی موجودگی جو جنگ کے دوران کم دکھائی دیتی تھیں، سیاسی اور عسکری تسلسل کا پیغام ہے۔

“فنانشل ٹائمز” نے بھی سیاہ لباس میں عوام کی بڑی تعداد، ایرانی پرچموں اور مذہبی علامات کو قومی اتحاد کی علامت قرار دیا اور لکھا کہ مختلف شہروں اور نجف و کربلا میں ہونے والی تقریبات نے اس سوگ کو ایک وسیع قومی اور سیاسی مظاہرے میں بدل دیا ہے۔

آئی ٹی وی نیٹ ورک نے اندازہ لگایا کہ تقریب میں تقریباً 15 ملین افراد شریک ہو سکتے ہیں اور اسے جدید تاریخ کی سب سے بڑی جنازہ تقاریب میں سے ایک قرار دیا جا سکتا ہے۔

اسکائی نیوز کی رپورٹ میں تہران کی جانب خاندانوں کی مسلسل آمد کو دکھایا گیا اور مختلف نسلوں کی شرکت کو ایران میں سیاسی و مذہبی تسلسل کی علامت قرار دیا گیا۔

برطانوی میڈیا کی مشترکہ رائے یہ تھی کہ ایران کے رہنما اور اعلیٰ حکام کی شہادت کے باوجود اسلامی جمہوریہ کا نظام متاثر نہیں ہوا، اور عوامی الوداعی اجتماع طاقت، تسلسل، استقامت اور مزاحمت کی علامت بن گیا ہے۔

مشہور خبریں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا افتتاحی اجلاس ، وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی شرکت

?️ 21 ستمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں)اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس میں شرکتکرنے

کیا امریکہ یورپ کو دی جانے والی کچھ فوجی امداد روکے گا ؟

?️ 6 ستمبر 2025سچ خبریں: امریکی میڈیا outlets فنانشل ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹس کے

جرمنی تک طوفان الاقصیٰ کے جھٹکے

?️ 8 اکتوبر 2023سچ خبریں: جرمن چانسلر نے ایک پیغام شائع کرکے فلسطینی مزاحمت کے

شمالی غزہ پر صہیونی حملے میں حماس کے ترجمان کی شہادت

?️ 27 مارچ 2025سچ خبریں: فلسطینی ذرائع ابلاغ نے غزہ کی پٹی کے شمال میں

مقبوضہ علاقوں میں شروع سے آخر تک عدالتی اصلاحات

?️ 2 اپریل 2025سچ خبریں: جوڈیشل سلیکشن کمیٹی کے ڈھانچے میں تبدیلی کے متنازع منصوبے کی

قومی ترانے کی بے ادبی کا معاملہ، دفتر خارجہ نے افغان ناظم الامورکو طلب کرلیا

?️ 18 ستمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پشاورمیں تقریب کے دوران افغان قونصل جنرل کی

200 بین الاقوامی تنظیموں نے غزہ میں انسانی بنیادوں پر آپریشن کے خاتمے کے خطرے سے کیا خبردار 

?️ 19 دسمبر 2025سچ خبریں: اقوام متحدہ اور 200 بین الاقوامی امدادی تنظیموں نے فلسطینی علاقوں،

صیہونیوں کی بوکھلاہٹ عروج پر

?️ 1 جولائی 2023سچ خبریں: مغربی کنارے کے شمال میں فلسطینی مزاحمت کاروں کی حالیہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے