?️
سچ خبریں: اسرائیلی پارلیمان کی جنرل اسمبلی نے ایک ایسے بل کو مسترد کر دیا ہے جس کا مقصد بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس کے نمائندوں کو فلسطینی قیدیوں سے ملاقات اور اسرائیلی جیلوں تک رسائی سے روکنا تھا۔ اس طرح ایتامار بن گویر اور حکومتی اتحاد کو ایک اور سیاسی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
اسرائیلی کنست کے چینل 99 کے مطابق پیر کے روز ہونے والی ووٹنگ میں یہ بل پہلی قرأت میں منظور نہ ہو سکا۔ بل کے حق میں 36 ووٹ آئے جبکہ 41 ارکان نے مخالفت کی۔
یہ بل اس وقت ناکام ہوا جب حریدی جماعتوں نے حکومتی اتحاد کے بعض وعدوں پر عمل نہ ہونے کے خلاف احتجاجاً ووٹنگ کا بائیکاٹ کیا، جس نے نتیجے پر فیصلہ کن اثر ڈالا۔
یہ قانون اس سے چند ہفتے بعد سامنے آیا جب اسرائیلی سپریم کورٹ نے اس پالیسی کے خلاف درخواست قبول کی تھی جس کے تحت ریڈ کراس کو فلسطینی قیدیوں سے ملاقات یا ان سے متعلق معلومات تک رسائی سے روکا گیا تھا۔
اسرائیلی حکومت نے یہ پابندی 7 اکتوبر 2023 کے حملے (طوفان الاقصیٰ) کے بعد نافذ کی تھی۔ تاہم عدالت نے قرار دیا کہ ریڈ کراس پر مکمل پابندی کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں، کیونکہ حکومت کی یہ دلیل کہ اس کا تعلق غزہ میں اسرائیلی یرغمالیوں کی صورتحال سے ہے، اب قابلِ اطلاق نہیں رہی۔
مجوزہ بل کے ذریعے حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کو غیر مؤثر بنانا چاہتی تھی۔ اس کے مطابق ریڈ کراس کے نمائندوں کو جیلوں اور حراستی مراکز میں داخلے سے روکا جانا تھا، اور فلسطینی قیدیوں سے متعلق معلومات صرف وزیرِ داخلی سلامتی یا وزیرِ جنگ کی اجازت سے اور “سکیورٹی وجوہات” کی بنیاد پر فراہم کی جانی تھیں۔
بل میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ غیر ملکی اداروں کی جیلوں میں موجودگی “سکیورٹی خطرات” پیدا کر سکتی ہے، خاص طور پر ان مراکز میں جہاں مزاحمتی قیدی رکھے گئے ہیں۔
اگرچہ شاس پارٹی نے ووٹنگ کو ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی، لیکن وزیرِ داخلی سلامتی ایتامار بن گویر نے ووٹنگ فوری کرانے پر اصرار کیا۔ شاس نے کہا کہ وہ اصولی طور پر بل کی حمایت کرتی ہے، لیکن چاہتی تھی کہ پہلے دیگر ائتلافی معاملات حل کیے جائیں۔
حریدی جماعت “متحدہ توراتی یہودیت” نے بھی احتجاجاً ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا، جس کے نتیجے میں بل ناکام ہو گیا۔
کنست کا یہ اجلاس شدید کشیدگی کا شکار رہا اور بحث کے دوران حکومتی اتحاد کے رہنما اور عرب رکنِ پارلیمان کے درمیان تلخ کلامی تقریباً ہاتھا پائی تک پہنچ گئی، جسے سکیورٹی اہلکاروں نے روکا۔
ووٹنگ کے بعد بن گویر نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی قیدیوں کو ریڈ کراس کی سہولتیں نہیں ملتیں۔ انہوں نے مخالفین کو “دہشت گردوں کے حامی” قرار دیا اور شاس پارٹی پر عرب ارکان کے ساتھ تعاون کا الزام لگایا۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس بل کی سخت مخالفت کی تھی اور خبردار کیا تھا کہ اگر یہ قانون منظور ہو جاتا تو فلسطینی قیدیوں کی صورتحال پر بین الاقوامی نگرانی کا ایک اہم ذریعہ ختم ہو جاتا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب غزہ جنگ کے بعد جیلوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور خراب حالات کی رپورٹس میں اضافہ ہوا ہے۔


مشہور خبریں۔
ایوارڈز شوز جھوٹے ہوتے ہیں، زارا نور عباس
?️ 9 مارچ 2024کراچی: (سچ خبریں) اداکارہ زارا نور عباس نے کہا ہے کہ انہیں
مارچ
عراقی مزاحمتی گروہوں کا امریکی قابضین کو اہم پیغام
?️ 24 جولائی 2021سچ خبریں:عراقی مزاحمتی گروپوں کی کوآرڈینیٹنگ کمیٹی نے کہا ہے کہ امریکی
جولائی
درگاہ ابراہیمی کے انتظام کو فلسطینیوں کی اوقاف سے محروم کرنے کا سیاسی پیغام
?️ 27 فروری 2025سچ خبریں: صیہونی حکومت نے جس نے علاقے میں ہونے والی حالیہ پیش
فروری
PSL سیزن 6، نصیبو لعل نے علی ظفر کو چھوڑ دیا پیچھے
?️ 15 فروری 2021کراچی {سچ خبریں} 20 فروری سے شروع ہونے والے پاکستان سپر لیگ
فروری
غیر ملکیوں نے 7 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری واپس لے لی
?️ 7 ستمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق گھریلو بانڈز
ستمبر
غزہ پر یورپ کے موقف میں واضح تبدیلیاں
?️ 27 اگست 2025سچ خبریں: الوفد کے حوالے سے، عرب لیگ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل حسام
اگست
یمن کے خلاف 8 سالہ جارحیت کا نتیجہ
?️ 5 اپریل 2022سچ خبریں:یمن کے خلاف آٹھ سالہ جنگ میں سعودی عرب کے سیاسی
اپریل
سعودی فضائی حدود صیہونیوں کے لیے کھلی، یمنیوں کے لیے بند؛انصاراللہ
?️ 3 فروری 2022سچ خبریں:یمن کی انصار اللہ تحریک کے سربراہ نے امریکیوں اور اسرائیلیوں
فروری