عراق کی کتائب حزب اللہ: ہماری جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی

کتائب

?️

سچ خبریں: عراق کی مزاحمتی تنظیم "کتائب حزب اللہ” کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت طے پانے کے باوجود ان کی جدوجہد اور معرکہ ابھی اختتام پذیر نہیں ہوا۔

عراق کی اسلامی مزاحمتی تنظیم کتائب حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل ابو حسین الحمیداوی نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ دور میں مزید خطرناک اور حساس مراحل درپیش ہوں گے۔

انہوں نے کہا: "ہم جنگ کے ایک مرحلے کو مکمل کر چکے ہیں اور اس سے واضح کامیابی کے ساتھ نکلے ہیں، لیکن ہمیں پوری طرح احساس ہے کہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ ہمارے سامنے اس سے بھی زیادہ خطرناک اور شدید مراحل موجود ہیں، لہٰذا ذمہ داری اور بصیرت کا تقاضا ہے کہ ہم ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار رہیں، ہتھیار ہاتھ میں ہوں اور انگلیاں ٹریگر پر۔”

الحمیداوی نے مزید کہا: "کون سا باب بند ہو گیا ہے؟ کون سا جرم فراموش کیا جا سکتا ہے؟ اور کون سے مجرم کو معاف کیا جا سکتا ہے؟ اللہ ان لوگوں کو معاف نہ کرے جو ان مجرموں کو معاف کرتے ہیں۔ باطل کے خلاف ہماری جنگ جاری رہے گی۔”

ارنا کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ نے رواں سال 19 فروردین کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد پاکستان کی ثالثی میں مستقل طور پر جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا آغاز کیا تھا۔

اعلان کردہ یادداشتِ تفاہم، جس کی بنیاد جنگ بندی کے ابتدائی مرحلے میں ایران کی جانب سے پیش کی گئی 14 نکاتی تجاویز تھیں، گزشتہ 60 دنوں کے دوران دونوں ممالک کے دارالحکومتوں میں متعدد بار زیرِ غور رہی۔ اس دوران تہران اور واشنگٹن نے مختلف مواقع پر اپنی آرا اور ترامیم بھی متن میں شامل کیں۔

تازہ ترین پیش رفت میں ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹریٹ نے پیر، 25 خرداد کی صبح ایک بیان جاری کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کے معاہدے کے تحت لبنان سمیت تمام محاذوں پر اتوار کی شب سے فوری اور مستقل جنگ بندی نافذ ہو گئی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی بھی فوری اور مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی۔

دوسری جانب پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی پیر کی صبح اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر ایک پیغام میں امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی تصدیق کی۔

انہوں نے لکھا:

"ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔ دونوں فریقوں نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کیا ہے۔ اس معاہدے پر باضابطہ دستخط کی تقریب 19 جون (29 خرداد) کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہوگی۔ ہم تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی حل تلاش کرنے کے امریکی اور ایرانی عزم کا خیرمقدم کرتے ہیں۔”

مشہور خبریں۔

غزہ میں مستقل جنگ بندی کے لیے صیہونی حکومت پر دباؤ

?️ 13 اگست 2024سچ خبریں: ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے اپنے امریکی ہم منصب انتھونی

امریکی حملے کے جواب میں ایران کے ردعمل پر عالمی تشویش میں اضافہ

?️ 23 جون 2025سچ خبریں: ڈونلڈ ٹرمپ کے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کے حکم

انصار اللہ کے بعض عہدیداروں کے قتل کے بارے میں تل ابیب کا دعویٰ جھوٹا ہے: امیر

?️ 29 اگست 2025سچ خبریں: یمن کی انصار اللہ تحریک کے ایک عہدیدار نے اس

امریکی پابندیوں کی وجہ سے کوبا میں نومولود بچوں کی اموات کی شرح دوگنا

?️ 30 مئی 2026سچ خبریں:کیوبا کے اقوام متحدہ میں مستقل نمائندے کے مطابق امریکی پابندیوں

لندن اسرائیلی جنگی جرائم کی حمایت کر رہا ہے: برطانوی رکن پارلیمنٹ

?️ 21 دسمبر 2024سچ خبریں:ایک برطانوی رکن پارلیمنٹ نے اپنی حکومت پر الزام لگایا ہے

اگر روس کے ساتھ جنگ ہوئی تو لتھوانیا دنیا کے نقشے سے غائب ہو جائے گا : میدودیف

?️ 12 ستمبر 2026سچ خبریں: روس کی سلامتی کونسل کے نائب سربراہ نے کہا کہ

ہنگری میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے

?️ 20 نومبر 2022سچ خبریں:ہنگری کے طلباء اور اساتذہ کے ایک گروپ نے اس ملک

حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر 39 ارب روپے کا ریلیف دے رہی ہے،شوکت ترین

?️ 9 مارچ 2022(سچ خبریں)وزیر خزانہ شوکت ترین نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے