?️
سچ خبریں: صہیونی افسران نے جنوبی لبنان میں اپنے مشن کے غیر واضح ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے زور دیا کہ اس ملک میں رہنا بے فائدہ ہے اور حزب اللہ کے ڈرونز کی نگرانی اور روک تھام بھی مشکل ہے۔
صہیونی نیوز ویب سائٹ "والا” نے اسرائیلی حکومت کے سینئر افسران کے حوالے سے لکھا: "ہمیں جنوبی لبنان میں بڑے چیلنجز کا سامنا ہے اور حزب اللہ کے ڈرونز کی نگرانی اور روک تھام ایک مشکل کام ہے۔”
صہیونی اخبار "ہاآرتص” نے بھی جنوبی لبنان میں موجود افسران کے حوالے سے لکھا: "ہم اپنے کمانڈروں کی حکمت عملی کو نہیں سمجھتے، ہمارا بنیادی مشن لبنانی دیہاتوں میں گھروں کو تباہ کرنا ہے۔”
ان افسران نے زور دیا کہ حزب اللہ کے ڈرونز سے زخمی ہونے والوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے فوجیوں میں انتشار اور الجھن پھیل گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا: "امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے بیروت اور البقاع پر بمباری پر عائد کردہ پابندیوں نے ہمیں اپنا غصہ دیہاتوں پر بمباری کرکے نکالنے پر مجبور کر دیا ہے۔”
صہیونی اخبار "اسرائیل ہیوم” نے بھی اسرائیلی حکومت کے سینئر افسران کے حوالے سے لکھا: "لبنان میں رہنا بے فائدہ ہے اور فوج حزب اللہ کے خلاف جنگ میں کوئی کامیابی حاصل نہیں کر سکی ہے۔”
ان کا کہنا ہے: "ہمارا مشن غیر واضح ہے اور ہم نہیں جانتے کہ فوج لبنان میں جنگ بندی کی خواہاں ہے یا نہیں۔ فی الحال جنوبی لبنان میں کوئی جنگ بندی نہیں ہے، لیکن ہم اپنی پوری طاقت استعمال نہیں کر سکتے۔”
ایرنا کے مطابق، صہیونی حکومت کے میڈیا اور سیکیورٹی حلقوں میں شائع ہونے والی رپورٹوں اور جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ لبنان کی حزب اللہ نے حالیہ مہینوں میں جنوبی لبنان میں اپنے جنگی انداز میں نمایاں تبدیلیاں کی ہیں اور مرکزی کمانڈ ڈھانچے پر مبنی روایتی طریقوں سے فاصلہ اختیار کر لیا ہے۔
ان جائزوں کے مطابق، حزب اللہ کے جنگی حربوں میں ان تبدیلیوں نے سرحدی علاقوں میں صہیونی فوج کے لیے میدانی حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
حزب اللہ اب پہلے سے کہیں زیادہ چھوٹے، متحرک اور منتشر ڈھانچوں پر انحصار کر رہی ہے – ایسے یونٹ جو مختلف دیہاتوں اور بلندیوں کے درمیان تیزی سے نقل مکانی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسرائیلی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس انداز نے حزب اللہ کے دستوں کی نشاندہی اور درست ہدف بندی کے امکانات کو کم کر دیا ہے اور سرحد پر موجود فوجیوں کے لیے غیر یقینی کی سطح کو بڑھا دیا ہے۔
ان رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ حزب اللہ کے دستے اکثر مرکزی کمانڈ کے انتظار کیے بغیر، خود مختارانہ طور پر اور میدانی حالات کے مطابق کارروائی کرتے ہیں۔
"اسرائیل” کی نظر میں یہ طریقہ کار غیر متناسب اور گوریلا جنگ کی جانب ایک قسم کی واپسی ہے، جس میں تیز، محدود اور ہدف والے حملے، ساتھ ہی درست فائر کرنے والے میزائلوں اور حملہ آور ڈرونز کا بیک وقت استعمال کیا جاتا ہے۔


مشہور خبریں۔
چینی کیا کہتے ہیں جنرل سلیمانی کے بارے میں؟
?️ 18 جون 2023سچ خبریں:بیجنگ میں منعقد ہونے والے بین الاقوامی کتاب اگزیبیشن اور اس
جون
وزیراعظم آج نیا پاکستان قومی صحت کارڈ پروگرام کا اجراکریں گے
?️ 1 فروری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر اعظم عمران خان آج بہاولپور میں نیا
فروری
چین کا مسافر بردار طیارہ گر کر تباہ
?️ 22 مارچ 2022سچ خبریں:چین کا 133 مسافروں کو کومنگ سے گوانگ زو لے جانے
مارچ
مزاحمت کو ختم کرنا کسی کے بس کی بات نہیں:لبنانی رکنِ پارلیمنٹ
?️ 1 فروری 2026مزاحمت کو ختم کرنا کسی کے بس کی بات نہیں:لبنانی رکنِ پارلیمنٹ
فروری
کالعدم ٹی ٹی اے کی سیکیورٹی فورسز پر حملوں کی منصوبہ بندی کی ویڈیو منظرعام پر آگئی
?️ 24 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) کالعدم تحریک طالبان افغانستان کی دہشت گردوں کے
مارچ
امریکہ کو ایران کا اعتماد حاصل کرنا ہوگا؛عرب اور مغربی ماہرین
?️ 13 اپریل 2025 سچ خبریں:امریکہ کی جانب سے غیرمستقیم مذاکرات کو قبول کرنا اور
اپریل
کولمبیا یونیورسٹی مظاہرین طلباء کے ساتھ کیا کر رہی ہے؟!
?️ 30 اپریل 2024سچ خبریں: کولمبیا یونیورسٹی نے فلسطین کی حمایت میں احتجاج کرنے والے
اپریل
ریاض اور بنکاک کے تعلقات معمول پر
?️ 26 جنوری 2022سچ خبریں: تھائی لینڈ کے وزیر اعظم پرایوت چان اوچا ریاض اور
جنوری